کراچی میں پولیو کے خلاف جنگ: نئی حکمت عملی اور چیلنجز

کراچی میں پولیو کے خلاف جنگ: نئی حکمت عملی اور چیلنجز

تحریر: سالک مجید، ایڈیٹر جیوے پاکستان ڈاٹ کام

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں پولیو کے خلاف جنگ میں کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن شہر کے کچھ علاقوں میں پولیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر، پولیو ویکسین کے انکار کے واقعات اور عوام میں آگاہی کی کمی نے پولیو مہمات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پولیو ویکسین کے انکار کے واقعات
کراچی کے کچھ علاقوں، خاص طور پر لیاری، کورنگی، اور اورنگی ٹاؤن میں، پولیو ویکسین کے انکار کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ والدین کو ویکسین کے بارے میں غلط معلومات دی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو ویکسین دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پولیو ٹیموں کو اکثر دھمکیوں اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کا کام مشکل ہو جاتا ہے۔

پولیو ٹیموں کے لیے چیلنجز
پولیو ٹیموں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ شہر کے کچھ علاقوں میں عدم تحفظ کی صورتحال، گنجان آبادی، اور صفائی کی ناقص سہولیات پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، پولیو ٹیموں کو اکثر مقامی لوگوں کی طرف سے عدم تعاون کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پاتیں۔

نئی حکمت عملی اور مہمات
پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے، حکومت اور صحت کے اداروں نے نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ مقامی رہنماؤں اور مذہبی اسکالرز کو شامل کرکے عوام میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے لوگوں کو پولیو ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

ہائی رسک علاقوں پر توجہ
کراچی کے ہائی رسک علاقوں میں خصوصی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ ان علاقوں میں پولیو ٹیموں کو اضافی وسائل فراہم کیے گئے ہیں، اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی اسکولوں اور مساجد میں آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاکہ والدین کو پولیو ویکسین کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکے۔

پولیو افسران کی کوششیں
پولیو افسران اور ٹیموں کی انتھک محنت کے باوجود، کام کرنے کے لیے محفوظ ماحول کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہیں اکثر دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیو ٹیموں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کرے اور انہیں کام کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرے۔

آخری بات
پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے عوام اور حکومت کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو پولیو وائرس کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ کراچی کے ہر بچے کو پولیو ویکسین کی فراہمی یقینی بنانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

جیوے پاکستان کے پلیٹ فارم سے جڑے رہیں تاکہ صحت، معیشت اور روزگار سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔

سالک مجید
ایڈیٹر، جیوے پاکستان ڈاٹ کام
کراچی، پاکستان