
مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے لیے میڈیکل عملہ، مجسٹریٹ اور پولیس قبرستان پہنچ گئے۔
مصطفیٰ عامر کے والد بھی قبرستان پہنچ گئے۔
پیٹرول چھڑک کر مصطفیٰ سے کہا ڈگی و شیشے کھلے ہیں، ہمت ہے تو بھاگ جاؤ: ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات
قبر کشائی کے لیے ضروری دستاویزات مکمل کی جا رہی ہیں۔
مصطفیٰ عامر کی کچھ دیر میں ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی اور مجسٹریٹ کی زیرِ نگرانی قبر کشائی کی جائے گی
====================
آلہ ضرب برآمد، حب میں گاڑی کی ڈکی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا
کراچی ( ثاقب صغیر )مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملوث مرکزی ملزم ارمغان کی نشاندہی پر پولیس نے آلہ ضرب برآمد کرلیا، ملزم پانچ مقدمات میں اشتہاری بھی ہے۔ملزم ارمغان کی نشاندہی پرخیابان مومن پراسکے بنگلے پر کارروائی کے دوران بنگلے کے گارڈ روم میں چھپایا گیا ڈنڈا برآمد کرلیا گیا۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے بتایا کہ تشدد کے دوران مصطفیٰ کے سر سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ 6جنوری کو میں نے شیراز کو اپنے بنگلے پر بلایا جبکہ کچھ دیر بعد میں نے مصطفیٰ کو بھی اپنے بنگلے پر بلایا۔ملزم کے مطابق مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد میں نے اس پر تشدد کیا۔ملزم نے بتایا کہ تشدد کے دوران میں نشے کی حالت میں تھا۔ملزم ارمغان نے بتایا کہ مصطفیٰ کا خون بہنے پر مجھے شیراز نے روکا۔شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے۔ حب لے جاکر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا۔اس کے بعد ہم نے گاڑی کی ڈگی بند کی اور اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ملزم کے مطابق مصطفیٰ نے حرکت کرنے کی کوشش کی لیکن چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا۔ آگ لگنے کے فوراً بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا جس کے بعد میں اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لیکر کراچی پہنچے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم ارمغان اس سے قبل درج ہونے والے پانچ مقدمات میں اشتہاری بھی ہے۔
===============
ارمغان قریشی کا ایک جعلی شناختی کارڈ بھی پکڑا گیا
کراچی( ثاقب صغیر )مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی کردار ارمغان قریشی کا ایک جعلی شناختی کارڈ بھی پکڑا گیا ہے،ملزم کا اصل شناختی کارڈ مختلف کیسز میں اشتہاری ہونے کے باعث بلاک تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ارمغان نے ثاقب ولد سلمان علی کے نام سے شناختی کارڈ بنوا رکھا تھا اور جعلی شناختی کارڈ پر ارمغان کے اصلی شناختی کارڈ کی تفصیلات شامل کی گئی تھیں۔تفتیشی حکام کے مطابق یہ کارڈ چونکہ جعلی ہے اس لیے اس کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔کارڈ کی کلر فوٹو کاپی موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کارڈ خود ڈیزائن کر کے پرنٹنگ کی دکان سے ملزم نے اس کا کلر پرنٹ حاصل کیا ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم پہلے سے درج مختلف مقدمات میں اشتہاری تھا اس لیے اس کا قومی شناختی کارڈ بلاک تھا ۔کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے وہ اکثر شریک ملزم شیراز کو ساتھ رکھتا تھا تاکہ اس کا آئی ڈی کارڈ استعمال کرے۔کراچی سے اسلام آباد اور اسکردو میں سفر کے دوران اور اس کے علاوہ بھی ضرورت پڑنے پر وہ شیراز کا آئی کارڈ استعمال کرتا تھا۔
===================
مصطفیٰ کیس، افواہوں اور من گھڑت بیانیے پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی، وزیر داخلہ
کراچی(ثاقب صغیر/اسٹاف رپورٹر )وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کے حوالے سے افواہیں اور من گھڑت بیانیے زیر گردش ہیں۔افواہوں اور من گھڑت بیانیے پر پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی۔اپنے ایک بیان میں وزیر داخلہ سندھ نے کہا ہے کہ جب مصطفیٰ عامر لاپتہ ہوا تو میں نے اسی وقت نوٹس لیا اور متعلقہ افسران کو کیس کے جلد سے جلد حل کرنے کے احکامات دیئے۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ڈی آئی جی سی آئی اے نے کیس کی تفتیش سے متعلق بریفنگ دی۔کیس کی تفتیش اور دیگر امور میں غفلت لاپروائی یا کوتاہی کے مرتکبین کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔























