ارمغان نے تفتیشی ٹیم کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ملزم کی نشان دہی پر اس کے گھر سے چیزیں برآمد

ارمغان نے تفتیشی ٹیم کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ملزم کی نشان دہی پر اس کے گھر سے چیزیں برآمد
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے مصطفیٰ کے کیس میں حب پولیس کی تفتیش جاری ہے، گاڑی کو آگ لگانے کی اطلاع تاخیر سے ملنے کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حب سید فاضل شاہ بخاری کا کہنا ہے کہ تحیققات کر رہے ہیں ملزمان نے کراچی سے دریجی تک کون سا روٹ استعمال کیا، گاڑی کو کس وقت آگ لگائی۔

سید فاضل شاہ بخاری نے کہا کہ اس بات کی بھی تحقیقات جاری ہیں کہ ملزمان حب سے واپس کراچی کیسے گئے اور گاڑی کو آگ لگانے کی اطلاع تاخیر سے ملنے سمیت دیگر کوتاہی پر بھی تحقیقات جاری ہے۔

مقتول مصطفیٰ کا لڑکی کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا، لڑکی بیرون ملک چلی گئی، تفتیشی حکام

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ قتل کیس کی تفتیش ڈی ایس پی وندر محمد جان کےحوالے کی گئی ہے۔

دوسری جانب کیس میں پولیس نے ملزم ارمغان کی نشاندہی پر لوہے کی راڈ برآمد کرلی، دوران تفتیش ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ لوہے کی راڈ سے اس نے مصطفیٰ پر 2 گھنٹے تک تشدد کیا، اس کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنے لگا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے، گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا، مصطفیٰ کو کہا ڈگی اور شیشے کھلے ہیں ہمت ہے تو بھاگ جا، مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن گھٹنوں پر چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا۔

مصطفیٰ کو بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا، مقدس حیدر

پولیس نے ارمغان کے بنگلے سے اس کا جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد کرلیا، مصطفیٰ قتل کیس میں ملزم ارمغان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہے۔

کیس کا پس منظر:۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے مصطفیٰ کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو مل گئی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔

23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا۔

انہو نے کہا کہ مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا، ملزمان نے لاش کی نشاندہی کی، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔

ایک اور بڑے معاملے کے اوپر آپ کو بتاتے ہیں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان نے تفتیشی ٹیم کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ملزم کی نشان دہی پر اس کے گھر سے چیزیں برآمد کر لی گئی ہیں جن میں سیکیورٹی گارڈ کے کمرے میں چھپائی گئی راڈ بھی شامل ہے ارمغان نے ثاقب ولد اس سلمان غنی کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بھی بنوا رکھا تھا مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیش رفت پولس نے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم ارمغان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا ہے گزشتہ رات ای وی سی سی کی ٹیم نے ارمغان کے گھر پر دوبارہ چھانمین کی
ملزم کاشارہ اشارہ پر کچھ چیزیں برآمد کی گئی جن میں سیکیورٹی گارڈ کے کمرے میں چھپائی گئی روڈ بھی شامل ہے تحویل میں لی گئی چیزوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبوروٹری بھیجا جائے گا تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے موبائل کا ڈیٹا انلوک نہیں ہو سکا ارمغان کی ایک اور جال سازی زامنے آ گئی اس نے ساقب ولد سلمان علی کے نام سے جالی چناہتی کارڈ بھی بنوا رکھا تھا تفتیشی ذرائع نے مزید بتایا کہ 8 فروری کو مقابلے کے دوران ارمغان نے پولیس پر رائفل سے 22 گولیاں چلائیں ارمغان کی گھر میں صوفے کے نیچے سے اسلحہ برامد ہوا موت کی اصل وجہ کا تعیون کرنے کے لیے مصطفیٰ کی قبر کشائی کے بعد نمونے حاصل کیے جائیں گے
کراچی: پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کے قتل کا عتراف کر لیا ہے، جب کہ گھر سے ملے ڈی این اے والی لڑکی کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ارمغان نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔

ارمغان نے تفتیش کاروں کو بیان دیا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، مصطفیٰ پر فائرنگ وارننگ دینے کے لیے کیے تھے۔ ملزم نے مزید بتایا کہ 8 فروری کو پولیس کو بنگلے میں دیر سے داخل ہوتا دیکھا، بروقت دیکھ لیتا تو پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ طویل ہو سکتا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان کے بیان کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے۔

گرفتار ارمغان کہ والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جو اسلحہ گھر سے برامد کیا گیا وہ تحفے کے طور پر پولیس نے صوبائی وزیر داخلہ کے گھر پہنچا دیا حالانکہ وہ تو کیس پراپرٹی ہے جبکہ گھر میں سرنڈر کرنے سے پہلے جو قیمتی ڈیوائسز اور اہم چیزوں پر مشتمل بیگ ارمغان نے اپنی والدہ کے حوالے کیا تھا وہ بیگ بھی غائب کر دیا گیا قتل کا کیس تو بنا دیا گیا ہے لیکن ایک ارب روپے مانگنے کا معاملہ ہے پولیس کی وردی میں کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو گینگ اپ ہو چکی ہیں شہریوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ موٹی موٹی اسامیوں کی تلاش کر کے ان سے پیسے وصول کرتے ہیں میں تو اپنا کیس لڑوں گا مجھے جب اطلاع ملی میں چھانگا مانگا سے خود گاڑی ڈرائیو کر کے یہاں پہنچ گیا اور جیل میں مجھے عام طریقے سے ہی میرے بیٹے سے ملوایا گیا اگر میں بہت امیر ہوں اور میرے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو غریبوں کے ساتھ یہ کیا کرتے ہوں گے اپ خود سوچ لیں ابھی تک کہانی کو صرف ایک رخ پر بڑھایا جا رہا ہے میں پوچھتا ہوں کہ جب بچے نے ون فا ئیو پر فون کر کے کہا کہ میری جان خطرے میں ہے مجھے بچاؤ تو اس بات کا چرچہ کوئی کیوں نہیں کر رہا ۔ میرے گھر پر جا کر دیکھ لو جو اس کی حالت ہے صاف لگ رہا ہے کہ کوئی عامر کو ڈھونڈنے وہاں نہیں ایا تھا بلکہ یہ ڈاکو تھے اور یہ ایک ارب روپے کا کیس ہے میں کہتا ہوں ایک ہٹا دو زیرو انڈا ملے گا

پولیس کا دعویٰ، ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کے قتل کا اعتراف کر لیا
کراچی: پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کے قتل کا عتراف کر لیا ہے، جب کہ گھر سے ملے ڈی این اے والی لڑکی کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ارمغان نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔

ارمغان نے تفتیش کاروں کو بیان دیا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، مصطفیٰ پر فائرنگ وارننگ دینے کے لیے کیے تھے۔ ملزم نے مزید بتایا کہ 8 فروری کو پولیس کو بنگلے میں دیر سے داخل ہوتا دیکھا، بروقت دیکھ لیتا تو پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ طویل ہو سکتا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان کے بیان کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے۔

پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ارمغان خود نشہ فروخت بھی کرتا تھا اور استعمال بھی کرتا تھا، اس نے نشہ فروخت کرنے کے بعد کال سینٹر کا کاروبار شروع کیا۔

پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ارمغان کے گھر سے جس لڑکی کا ڈی این اے ملا اس کی نشان دہی ہو گئی ہے، پولیس نے لڑکی کی تلاش شروع کر دی ہے، لڑکی نیو ایئر نائٹ کو ارمغان کے تشدد سے زخمی ہوئی تھی، جب کہ مصطفیٰ کو تشدد، راڈ مار کر، فائرنگ کر کے یا جلا کر قتل کیا گیا۔

حکام کے مطابق قتل کا پوسٹ مارٹم، ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا، اے وی سی سی ٹیم نے گزشتہ روز بھی ارمغان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا، اور مزید واقعاتی شواہد تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، آئی او کا کہنا ہے کہ ارمغان کی رہائش گاہ سے ڈنڈا یا آلہ قتل میں شامل کوئی اور چیز نہیں مل سکی۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ریمانڈ ملنے کے بعد ملزم ارمغان سے مسلسل تفتیش جاری ہے، تفتیشی رپورٹ تاحال مرتب نہیں ہوئی۔

راچی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران شریک ملزم شیراز نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار شریک ملزم شیراز کی سنسنی خیز تفتیشی رپورٹ سامنے آگئی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم شیراز نے بتایا ہے کہ ارمغان کے پاس بہت پیسہ تھا اس لیے دوستی کی، نیو ایئر نائٹ پر ارمغان نے اپنے بنگلے پر پارٹی رکھی، 5 جنوری کو ارمغان نے کال کرکے شیراز کو بنگلے پر بلایا، رات 10 بجے جب بنگلے پر پہنچا تو ارمغان کے ساتھ ایک لڑکی کو موجود پایا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق ارمغان نے لڑکی سے جھگڑا کیا تھا اور لڑکی کے پاؤں پر خون لگا ہوا تھا، شیراز کے پہنچنے کے بعد ارمغان نے لڑکی کو آن لائن کیب میں واپس بھیج دیا۔

https://www.youtube.com/watch?v=CalXffB-7js

رپورٹ کے مطابق 6 جنوری کو مصطفیٰ نے کال کرکے ارمغان کے بنگلے پر شیراز کو بلایا، مصطفیٰ نے ارمغان کو ایک شاپر دیا جس کے بدلے میں ارمغان نے ڈیڑھ لاکھ روپے دیے، کچھ دیر بعد ارمغان نے مصطفیٰ کو گالیاں دینے کے بعد سیاہ رنگ کے ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا، اس کے سر اور گھٹنوں پر مارا جس کے باعث اس کا خون بہنا شروع ہوگیا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق ارمغان نے پھر ایک رائفل اٹھائی اور دیوار پر 2 فائر کیے، دھمکانے کے بعد مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال دیا گیا اور بعد ازاں بلوچستان لے جاکر گاڑی سمیت جلا دیا گیا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق ارمغان کے گھر پر خون کے نشانات کو ملازمین سے صاف کروایا گیا، ملزم نے بتایا کہ اسے علم نہیں ہے کہ مصطفیٰ کی والدہ کو تاوان کی کال کس نے کی۔

پولیس کے مطابق کیس میں گرفتار ملزم شیراز جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے، ملزم سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔

ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔

ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔

ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔

دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔
=======================
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے اغواء کے بعد قتل ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ارمغان نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کردئیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم ارمغان کی نشاندہی پر پولیس نے ڈیفنس خیابان مومن پر اس کے بنگلے پر کارروائی کی، اس دوران بنگلے کے گارڈ روم میں چھپایا گیا ڈنڈا برآمد کر لیا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ 6 فروری کو شیراز اور مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد اس پر تشدد کیا، مصطفیٰ پر تشدد کے دوران میں نشے کی حالت میں تھا، لوہے کی راڈ سے مصطفیٰ کو 2 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا، تشدد کے دوران مصطفیٰ کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔

ملزم نے پولیس کو تفتیش میں بتایا کہ مصطفیٰ کا خون بہنے پر مجھے شیراز نے روکا، شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے، حب لے جاکر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا، مصطفیٰ کو کہا ’ڈگی اور شیشیے کھلے ہیں ہمت ہے تو بھاگ جاؤ‘ جس پر مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن گھٹنوں پر چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا جب کہ آگ لگنے کے فوراً بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا، میں اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لے کر کراچی پہنچ گئے۔
بتایا جارہا ہے کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا، 25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہوئی تو مقدمے میں اغواء برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئیں، تفتیش کے دوران لیڈ ملنے پر 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم ارمغان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا تو ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا جس کے بعد جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے ملزم ارمغان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کی بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جس کے خلاف پولیس نے سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی، اس دوران ابتدائی تفیش میں ملزم نے اعتراف کیا کہ ’اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی‘ تاہم بعد میں وہ اس بیان سے منحرف ہوگیا۔
پولیس حکام سے معلوم ہوا کہ اے وی سی سی، سی پی ایل سی اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کو بھی گرفتار کیا، ملزم شیراز سے تفتیش کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ ’ارمغان نے اس کے ساتھ مل کر مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کردیا جس کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں بلوچستان کے علاقہ حب میں لے کر جلادی تھی‘، ملزم شیراز کی نشاندہی پر پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی جہاں حب پولیس مقتول کی لاش پہلے ہی رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی، ادارے نے امانت کے طور پر مصطفیٰ عامر کی میت حب میں ہی دفن کردی تھی۔
====================

پولیس کا دعویٰ، ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کے قتل کا اعتراف کر لیا
کراچی: پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کے قتل کا عتراف کر لیا ہے، جب کہ گھر سے ملے ڈی این اے والی لڑکی کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ارمغان نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔

ارمغان نے تفتیش کاروں کو بیان دیا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، مصطفیٰ پر فائرنگ وارننگ دینے کے لیے کیے تھے۔ ملزم نے مزید بتایا کہ 8 فروری کو پولیس کو بنگلے میں دیر سے داخل ہوتا دیکھا، بروقت دیکھ لیتا تو پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ طویل ہو سکتا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان کے بیان کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے۔

پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ارمغان خود نشہ فروخت بھی کرتا تھا اور استعمال بھی کرتا تھا، اس نے نشہ فروخت کرنے کے بعد کال سینٹر کا کاروبار شروع کیا۔

پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ارمغان کے گھر سے جس لڑکی کا ڈی این اے ملا اس کی نشان دہی ہو گئی ہے، پولیس نے لڑکی کی تلاش شروع کر دی ہے، لڑکی نیو ایئر نائٹ کو ارمغان کے تشدد سے زخمی ہوئی تھی، جب کہ مصطفیٰ کو تشدد، راڈ مار کر، فائرنگ کر کے یا جلا کر قتل کیا گیا۔

گرفتار ارمغان کا برتاؤ جیل میں کیسا رہا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
حکام کے مطابق قتل کا پوسٹ مارٹم، ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا، اے وی سی سی ٹیم نے گزشتہ روز بھی ارمغان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا، اور مزید واقعاتی شواہد تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، آئی او کا کہنا ہے کہ ارمغان کی رہائش گاہ سے ڈنڈا یا آلہ قتل میں شامل کوئی اور چیز نہیں مل سکی۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ریمانڈ ملنے کے بعد ملزم ارمغان سے مسلسل تفتیش جاری ہے، تفتیشی رپورٹ تاحال مرتب نہیں ہوئی۔
=============
مصطفیٰ قتل کیس: دوران تفتیش ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات، آلہ ضرب بھی برآمد
کراچی: اغوا کے بعد قتل ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ارمغان غازی نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

دوران تفتیش ملزم ارمغان غازی نے انکشاف کیا کہ اس نے 6 جنوری کو شیراز اور مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد اس پر تشدد کیا، مصطفیٰ پر تشدد کے دوران میں نشے کی حالت میں تھا۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان کی نشاندہی پر ڈیفنس خیابان مومن پر اس کے بنگلے پر کارروائی کی گئی، بنگلے کے گارڈ روم میں چھپایا گیا ڈنڈا برآمد کر لیا گیا۔

ملزم ارمغان کی نشاندہی پرپولیس نے اس کے بنگلے سے آلہ ضرب برآمد کر لیا گیا اور برآمد ہونے والے آلہ ضرب کی تصویر جیو نیوز نے حاصل کرلی ہے۔

مصطفیٰ قتل کیس: دوران تفتیش ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات، آلہ ضرب بھی برآمد
مصطفیٰ پر تشدد کیلئے استعمال ہونے والا مبینہ لوہے کا راڈ۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم ارمغان نے لوہے کی راڈ سے مصطفیٰ کو 2 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا، ملزم نے بتایا کہ تشدد کے دوران مصطفیٰ کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے ملزم نے بتایا کہ مصطفیٰ کا خون بہنے پر مجھے شیراز نے روکا، شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے، حب لے جاکر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا۔

ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ مصطفیٰ کو کہا ڈگی اور شیشیے کھلے ہیں ہمت ہے تو بھاگ جاؤ، مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن گھٹنوں پر چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے بتایا کہ آگ لگنے کے فوراً بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا، میں اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لیکر کراچی پہنچے۔
========================

گرفتار ارمغان کا برتاؤ جیل میں کیسا رہا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
ارمغان مصطفیٰ عامر قتل کیس
کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان کے جیل میں برتاؤ کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے۔

سینٹرل جیل حکام کے مطابق ملزم ارمغان کو 10 فروری کو سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ 8 روز رہا، اس دوران جیل میں ارمغان کی حرکات و سکنات معمول کے مطابق رہیں۔

حکام کے مطابق ملزم ارمغان کو جیل مینوئل کے مطابق کھانا فراہم کیا گیا، اور جیل میں ارمغان کا کوئی مس کنڈکٹ سامنے نہیں آیا، حکام نے بتایا کہ 18 فروری کو ہائیکورٹ کے حکم پر جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ثبوت موجود ہونے کے باوجود پولیس کئی روز گزرنے کے باوجود مصطفیٰ عامر قتل کیس حل نہیں کر سکی ہے، ارمغان کے گھر لگے کیمروں کی فوٹیج سے کیس حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس کمرے میں مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا وہاں بھی سی سی ٹی وی کیمرا موجود ہے۔

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان سے تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات
پولیس پر فائرنگ کے دوران ارمغان نے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو ڈیلیٹ کی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی فوٹیج ریکور کر کے کیس حل کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

ارمغان کے گھر پر لگے 30 سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈی وی آر پولیس کی تحویل میں ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کبھی بھی ریکور کی جا سکتی ہے۔ ایس ایس پی انیل حیدر کے مطابق ارمغان کے گھر سے کیمروں کا ریکارڈ ریکور کرنے کے لیے آرڈر دیا ہوا ہے۔
=================

مصطفیٰ قتل کیس، ملزم شیراز کا دوران تفتیش مکمل بیان سامنے آ گیا
کراچی(ثاقب صغیر ،اسٹاف رپورٹر ) مصطفیٰ قتل کیس میں گرفتار ملزم شیراز کا دوران تفتیش مکمل بیان سامنے آ گیا۔ارمغان کا لڑکی سے جنسی تعلقات کا مصطفٰی کو پتہ چلا تو اس نے مذاق اڑایا تو ملزم غصہ میں آگیا،ملزم شیراز حسین بخاری عرف شاہ ویز نے بتایا کہ وہ 18 ستمبر 1994 کو C-37 سن سیٹ لائن نمبر 5 فیز ٹو ڈی ایچ اے کراچی میں پیدا ہوا ۔ملزم نے بتایا کہ یہ گھر ہمارے دادا کا گھر ہے جہاں میں عرصہ پیدائش سے رہ رہا ہوں ۔میرے والد کے ای ایس سی میں افسر تھے جو کہ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔ارمغان بنگلہ نمبر 35 اسٹریٹ نمبر7 خیابان مومن فیز 5 میں رہتا تھا میرا اس کے ہاں آناجانا شروع ہوگیا ۔مجھے یہ علم نہیں کہ بنگلہ اس کا اپنا ہے یا کرائے کا ہے۔ ارمغان نے کچھ عرصے پہلے تین شیر کے بچے بھی بنگلے میں پالے ہوئے تھے جو اس نے بیچ دیئے تھے۔ اس بنگلے کے علاوہ اس کی پہلے رہائش کہاں تھی یہ مجھے علم نہیں ہے ۔ارمغان اس بنگلے میں اکیلا رہتا تھا اور اس میں کال سینٹر کا کام کرتا تھا۔تقریباً 30 سے 35 افراد اس کے پاس کام کرنے آتے تھے۔ اس نے 30 سے 35 سیکیورٹی گارڈز بنگلے میں رکھے ہوئے تھے۔ پھرجب اس کےخلاف تھانہ گزری اور درخشاں میں پیسوں کی، فائرنگ کی اور دیگر ایف آئی آرز ہوئیں اور پھر یہ کسٹم کے ہاتھوں بھی گرفتار ہواتو اس نے کال سینٹر کا کام بند کردیا اور سیکیورٹی گارڈ بھی ہٹا دیئے جبکہ شیر بھی کسی کودے دیئے تھے۔ اس کے پاس لڑکیوں کا بھی آناجانا ہوتا ہے اور یہ اسلحہ کا شوقین ہے ۔ارمغان Weedکا نشہ کرتا ہے اور میں بھی عرصہ ڈیڑھ سال سے اس کے ساتھ Weed کا نشہ کرتا ہوں۔ ملزم شیراز نے بتایا کہ محمد مصطفیٰ عامر عرف مصطفیٰ ولد عامر شجاع میرا بھی اور ارمغان کا بھی دوست تھا۔ میری ملاقات اس سے ارمغان کے پاس ہوئی تھی اور یہ Weed فروخت کرنے کاکام کرتا تھا۔ ارمغان اسی سے Weed خریدتا تھا اور مصطفیٰ اکثر اس کے بنگلہ پر آتا جاتا رہتا تھا۔ مصطفیٰ پہلے اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہاتھوں بند بھی ہوچکا ہے۔ملزم نے بیان دیا کہ نیوایئر کی نائٹ ارمغان نے اپنے بنگلہ میں پارٹی رکھی جس میں کافی دوست لڑکے اورلڑکیاں بھی آئی تھیں۔ میں بھی رات کو 12بجے سے لیکر 3 بجے تک پارٹی میں رہا مگر اس رات پارٹی میں مصطفیٰ عامر نہیں آیا تھا۔ 5 فروری 2025 کو مجھے رات کو ارمغان کی کال آئی کہ فوراً گھر آئو۔ میں قریب رات کو 10بجے اس کے بنگلے میں اس کے کمرے میں پہنچا تو اس کے سامنے ایک لڑکی جو کہ خیابان جامی میں رہتی ہے اصل نام معلوم نہیں اور جسے انجیلا کے نام سے بلاتے ہیں موجود تھی۔میں نے دیکھا تو لڑکی کے پاؤں پر خون لگاہواتھا اور اس کو ارمغان نے پہلے ہی مارپیٹ کی ہوئی تھی جو کہ زخمی تھی ۔ پھر ارمغان نے آن لائن ٹیکسی کی اور انجیلا کو اسنائیپر کی گولی دکھائی اور کہا کہ اگر کسی کو بتایا تو یہ گولی تیرے بھیجے میں اتاروں گا۔سیدھا کورنگی روڈ پر واقع نیشنل میڈیکل سینٹر ( این ایم سی ) اسپتال جاؤ اور ٹریٹمنٹ کراؤ ۔اسپتال والے پوچھیں تو کہنا کوئی پولیس کارروائی نہیں چاہتی اور اسپتال میں اور گھر والوں کو بتانا کہ نامعلوم لوگوں نے آن لائن کار میں لے جاکر اسے بھی اور ڈرائیور کو بھی مارپیٹ کی ہے۔ بعد میں ارمغان نے مجھے بتایا کہ نیو ایئر والی رات اس لڑکی نے میرے ساتھ جنسی تعلق کے دوران کوئی حرکت کی جس کا مصطفیٰ کو بھی پتا چل گیا ۔ چونکہ لڑکی نے اس بارے میں اس کو بتادیا تھا جس کی وجہ سے مجھے غصہ تھا اس وجہ سے لڑکی کو مارپیٹ کی ہے۔6 جنوری کو مصطفیٰ نے مجھے واٹس ایپ کال کی، میں رات قریب 8 بجے اپنی موٹرسائیکل پر اس کے بنگلے پر گیا ۔اس کے دو ملازم لڑکے جوکہ نچلے حصے میں کمرے میں رہتے ہیں اور ان کو آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا جوکہ زیادہ تر کمرے میں ہی ہوتے ہیں جب کبھی ارمغان ان کو اوپر بلاتا تھا تو آتے تھے۔ میں ارمغان کے پاس اوپر پہنچا تواس نے Weed کا پیپر بنایا ہوا تھا جو ہم دونوں نے پیا اس کے بعد قریباً 9 بجے مصطفی عامر بھی اوپر کمرے میں آگیا جس نے سیاہ رنگ کا ٹراؤزر جس پر گلابی نشانات اور اوپر ٹوپی والا اپر پہناہوا تھاجس نے آتے ہی Weed جو کہ ایک شاپر میں تھی ارمغان کو دی اور ارمغان نے مصطفیٰ کو رقم جو 5/5 ہزار والے نوٹ تھے جوکہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تھے دیئے اور پھر مصطفیٰ نے بھی Weed پی ۔کچھ دیر بعد ارمغان نے ڈنڈا جو اس کے کمرے میں اکثر ہوتا تھا جوکہ سیاہ رنگ کا امریکن ڈنڈا ہے جو کہ فولڈنگ اسٹائل کا ہے اٹھایا اور مصطفیٰ عامر کو گالم گلوچ کرتے ہوئے اس سے مارنا شروع کردیا جس کے گھنٹوں پر اورسر پرمارا جس سے خون نکلنے لگا۔ مصطفیٰ نے آگے سے ڈنڈا پکڑلیا تو ارمغان نے اپنی رائفل اٹھا کر اس سے ایک فائر دیوار کی طرف کیا اور دو فائر اس کے اردگرد مارے ۔ ارمغان شدید غصے میں تھا اس کے بعد ہم نے اسے اسی کی گاڑی کی ڈگی میں ڈالا اور بلوچستان کے علاقے میں کار اور لاش جلا دی۔ملزم کے مطابق میں اس جگہ کی نشاندہی کر سکتا ہوں اور جس جگہ ارمغان کے بنگلے میں کمرے کے اندر مصطفیٰ کو مار پیٹ کی اور اس کا خون نکلا تھا اور خون مصطفیٰ نے اپنے ملازموں سے صاف کروایا تھا اس کی نشاندہی کرا سکتا ہوں۔ملزم شیراز کے مطابق مصطفیٰ کی والدہ کو جو تاوان کی کال اور مسیج انٹرنیشنل نمبر سے آئے ہیں وہ ارمغان نے کئے ہیں یا کسی اور نے کئے ہیں مجھے اس معاملے میں علم نہیں ہے۔
=================

ارمغان نےڈیجیٹل کرنسی کی ہیر پھیر کیلئے درجنوں اکاؤنٹس بنا رکھے تھے
کراچی ( ثاقب صغیر )مصطفیٰ عامرقتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ارمغان سے تفتیش جاری ہے۔ارمغان نےڈیجیٹل کرنسی کی ہیر پھیر کیلئے درجنوں اکاؤنٹس بنا رکھے تھے،پولیس کے مطابق ملزم ارمغان عادی جرائم پیشہ ہے اور ماضی میں بھی گرفتار ہوچکاہے۔سال 2019 سے 2024کے دوران ملزم ارمغان کے خلاف تھانہ درخشاں ، ساحل، گذری ، بوٹ بیسن اور اے این ایف تھانے میں مقدمات درج ہوئے۔ مقدمات اقدام قتل ، منشیات فروشی، ڈرانے دھمکانے کی دفعات کے تحت درج ہوئے۔ ارمغان گذری میں واقع اپنی رہائش گاہ پر غیر قانونی کال سینٹرچلاتا رہا ہے۔ملزم ارمغان نے غیر ملکی کلائنٹس کو کروڑوں ڈالر کا چونا لگایا۔ملزم ارمغان نےڈیجیٹل کرنسی کی ہیر پھیر کیلئے درجنوں اکاؤنٹس بنا رکھے تھے اور اس نے پولیس چھاپے کے دوران سرینڈر سے قبل لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا تھا۔گذشتہ روز ملزم ارمغان کی پولیس پارٹی پر فائرنگ کرنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں سی آئی اے کی پولیس پارٹی گھر میں داخل ہوئی تو ملزم نے فائرنگ شروع کردی تھی۔ ملزم نے جدید اسلحے سے پولیس پر فائرنگ کی۔ویڈیو میں فائرنگ کی آوازیں اور وردی میں ملبوس اہلکار نظر آرہے ہیں جبکہ سی آئی اے پولیس ارمغان کو لینے بنگلے میں داخل ہوئی تو ارمغان نے سیڑھیوں پر ہی فائرنگ شروع کردی، فائرنگ کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا جاسکتا ہے۔پولیس نے بتایا کہ شریک ملزم شیراز نے اپنے بیان میں جو باتیں بتائیں ملزم ارمغان نے دوران تفتیش ان تمام باتوں کی تصدیق کی ہے۔