تازہ ترین: مصنوعی سیاسی بحران کی کوششیں ناکام بنانے کا عزم، نواز شریف کا واضح پیغام


لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے قومی استحکام اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ملک میں انتشار پھیلانے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کے عوام اب کسی بھی قسم کی تخریب کاری یا ترقی کے سفر میں رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔

سینیٹرز کے ساتھ ملاقات میں اہم مباحثے

سینیٹر عرفان صدیقی کی رائیونڈ میں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کے دوران سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بعض گروہوں کو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کا ادراک تک نہیں، یہ لوگ سنجیدہ مذاکرات کی بجائے دھرنوں، لانگ مارچ، اور تشدد کو ہی حل سمجھتے ہیں۔ ایسے عناصر کو مزید کھلی چھٹی نہیں دی جائے گی‘‘۔

“2013 کا ترقیاتی ماڈل ہی پاکستان کا مستقبل”

نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں شروع کی گئی ترقیاتی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو آج نہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا، نہ ہی بیرونی امداد کی محتاجی ہوتی۔ عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ تعمیرِ پاکستان کے سفر میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

سیاسی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی

صدر مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’انتشار پھیلانے والوں کے عزائم کا مقابلہ متحدہ طور پر کیا جائے گا۔ ہماری ترجیح عوامی مسائل کے حل اور معاشی بہتری کے لیے کام کرنا ہے‘‘۔

تجزیہ کاروں کی رائے:

سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف کا یہ بیان موجودہ حکومت کی جانب سے سیاسی ہم آہنگی اور معاشی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب، ان کا یہ پیغام اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی واضح اشارہ ہے کہ وہ تنقید کی بجائے تعمیری مکالمے کو ترجیح دیں۔

جیوے پاکستان کی رپورٹ:

ہمارا عزم ہے کہ ہم قارئین تک غیر جانبدار اور درست خبریں پہنچائیں۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے تمام سیاسی قیادت کے مشترکہ اقدامات کو سراہتے ہوئے، ہم امید کرتے ہیں کہ ملک کی سالمیت اور عوامی مفاد ہر بحث میں فوقیت رکھے گا۔