چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر عہدے پر بحال – عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار

لاہور : چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں عہدے پر بحال کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے سے متعلقہ سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا او وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل منظور کرلی۔

لاہور ہائیکورٹ نے سنگل بینچ کے فیصلےکیخلاف اپیل پرفیصلہ سنایا ، حکومتی اپیل میں کہا گیا کہ نادرا کے چیئرمین کی تعیناتی قانون کے مطابق کی گئی، سنگل بینچ نے حقائق کے برعکس ان کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ دیا۔

یاد رہے سنگل بینچ نے نادرا کے چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کے سنگل بینچ کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ 6 ستمبر 2024 کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

==========================

رؤف حسن کو سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا تھا؟ شیر افضل نے بڑا دعویٰ کردیا
پاکستان تحریک انصاف سے نکالے گئے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی سیکرٹری اطلاعات سلمان اکرم راجا کے بعد اپنی توپوں کا رخ سابق سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کی جان موڑ لیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مجھے نکال پر پارٹی میں واپس لانے کا مطلب ہے کہ میرے خلاف پہلے دو نوٹیفکیشن غلط تھے، کیا آج تک مجھے پارٹی سے نکالے جانے کی وجوہات سامنےآ سکیں؟ نا ہی اب جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس میں کوئی وجہ بتائی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا یہ رؤف حسن جیسے لیڈر ہوں گے جو لوگوں کو بتاتے ہوں گے، رؤف حسن ماضی میں بھی میرے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں اور گزشتہ روز بھی انہوں نے میرے خلاف بیان دیا ہے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا رؤف حسن کو سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ سیاسی کمیٹی کے ممبر تھے، اجلاس کی ساری پروسیڈنگ ریکارڈ کرتے تھے اور پھر اسے میڈیا پرسنز اور یوٹیوبرز کو بیچا کرتھے تھے، ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ساری مخبری کیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا رؤف حسن کو اصل میں لانچ کیا گیا تھا، انہیں جب خواجہ سراؤں نے مارا تھا تو میرے دل میں ان کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی تھی لیکن ان کی پارٹی میں حیثیت ایک تنخواہ دار ملازم کی تھی، 8 لاکھ روپے تنخواہ لیتے تھے آخری سال تک اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں یہ (رؤف حسن) 5 کروڑ روپے تو ڈکار گئے ہیں۔

شیر افضل مروت کا کہنا ہے جب مجھے پارٹی سے نکالا گیا تو میں نے ان لوگوں کے خلاف بولنا شروع کیا جن لوگوں نے مجھے پارٹی سے نکلوایا ہے، رؤف حسن اور ان جیسے لوگ مجھے پارٹی سے نکالنے والے گروپ کے گماشتے رہے ہیں۔

پارٹی ڈسپلن سے متعلق بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا پہلے تو میں پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے خاموش تھا لیکن اب تو ڈسپلن نام کی کوئی چڑیا باقی نہیں رہی، انہوں نے پارٹی ڈسپلن کے نام پر میرا دھڑن تختہ کیا، بار بار نکالا، بار بار بے توقیری کی اور بار بار بے عزت کیا، ڈسپلن تب تک ہے جب تک کوئی میرے خلاف بیانات نہیں دے گا، جس نے بیان دیا تو میں اس کا تسلی بخش جواب دیتا رہوں گا۔

========================

بائیو میٹرک تصدیق کے حوالے سے نادرا کا اہم بیان آگیا
بائیو میٹرک تصدیق کے حوالے سے نادرا کا اہم بیان آگیا
کراچی : بائیومیٹرک تصدیق میں پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے نادرا کا اہم بیان سامنے آگیا، جس میں کہا کہ مسائل ہماری وجہ سے نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق انگلیوں کے نشانات کی تصدیق میں مسائل پر نادرا کا وضاحتی بیان سامنے آگیا۔

ترجمان نے بتایا کہ بائیومیٹرک تصدیق میں پیش آنے والے مسائل نادرا کی وجہ سے نہیں ہیں، ویریسس سے شناخت کی تصدیق کی سہولت تمام مالیاتی اداروں کے پاس ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بینک اور مالیاتی ادارے ضرورت پڑنے پر نادرا کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور پی ٹی اے سے ملکر چہرے کی شناخت سے تصدیق کا نظام متعارف کرا رہے ہیں۔

نادرا کا مزید کہنا تھا کہ کارروائی مکمل ہونے پر سہولت تمام بینکوں اور ٹیلی کام اداروں کو فراہم کر دیں گے۔.

یاد رہے گذشتہ سال نادرا نے انگلیوں کے مدہم نشانات والے شہریوں کی شناختی تصدیق کیلئے نئی سہولت متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

چیئرمین نادرا نے بتایا تھا کہ چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے یا نادرا مراکز پر کرائی جا سکے گی، مختلف خدمات تک رسائی میں بہتری آئے گی اور غیرضروری تاخیر کا خاتمہ ہو گا۔