ارمغان پر بھتے کا مقدمہ بھی سامنے آگیا ، قتل سے پہلے پانچ مقدمات میں ملوث پایا گیا ، بوٹ بیسن تھانے کے مقدمے میں اس کی حیثیت مفرور ملزم کی ہے ۔ تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع

ارمغان پر بھتے کا مقدمہ بھی سامنے آگیا ، قتل سے پہلے پانچ مقدمات میں ملوث پایا گیا ، بوٹ بیسن تھانے کے مقدمے میں اس کی حیثیت مفرور ملزم کی ہے ۔ تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع
================

Transcript:
آج مصطفیٰ قتل کیس میں دو بڑی ڈیولپمنٹس ہوئی ہیں سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد آج انسیدادی دیشتگردی کے عدالت نے ملزم ارمغان کا جسمانی ریماند مذہور کر لیا ہے اس کے علاوہ پولیس سرجن کراچی نے مصطفیٰ کی قبر کشائی کے لیے تین رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید، ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سری چند اور جنہ اسپتال کراچی کے میڈیکل لیگل آفیسر ڈاکٹر کامران خان شامل ہیں نوڈیفکیشن کے مطابق مصطفیٰ کی قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ 21

فروری کو صبح 9 مجھے پولیس سرجن آفیس سے روانہ ہوگا اور جیوڈیشن میجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کرے گا
(00:35) جبکہ کیس کے تفصیشی افسر محمد علی میڈیکل بورڈ کی معاملت سیکیورٹی اور لوجسٹک کا انتظام کریں گے اس کے علاوہ آپ سے کچھ دیر پہلے جیو نیوز کے ریپورٹر راہیل سلمان نے پولیس ذرائع سے آٹھ فروری کو ملزم ارمغان کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی ویڈیو حاصل کر لی ہے جس میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں تاہم کسی کا چہرہ واضح نہیں ہے۔ چھاپے کے دوران ایک ڈی ایس پی اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے اور چار گھنٹے بعد پولیس نے ملزم ارمغان کو گرفتار کیا تھا دوسری جانب آج بلاخر کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کا پولیس کو چاروزہ جسمانی ریمانڈ مل گیا ہے ساتھ ہی کراچی کی انسیداد ویشتگردی کی عدالتوں کے انتظامی جج سید زاکر حسین کے فیصلے پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں کہ انہوں نے دو بار ملزم ارمغان کا جسمانی ریمانڈ کیوں مسترد کر دیا اور الٹا پولیس ٹیم پر ہی کیوں برس پڑے آج جب یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر بحث آیا تو خود عدالت نے ریمانڈ مسترد کرنے کے فیصلے کے ایک اہم نکتے کی طرف نشاندہ ہی کر دی
(01:26) جو ببینہ طور پر یہ ظاہر کر رہا تھا کہ جج زاکر حسین نے پہلے ملزم ارمغان کا جسمانی ریمانڈ مذہور کر لیا تھا اور فیصلہ بھی لکھ دیا تھا مگر پھر بعد میں ملزم کو جیوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجوا دیا اور فیصلے کو بدلنے کے لیے وائٹو کا استعمال کیا آج سندھ ہائی کورٹ میں ملزم ارمغان کو سینٹرل جیل کراچی سے بکتر بند گاڑی میں پیش کیا گیا ملزم کے والد بھی عدالت میں موجود تھے سماد کے دوران جسٹس زفر احمد راجپوت نے استفسار کیا کہ پہلے کتنے مقدمات میں ملزم گرفتار ہو چکا ہے تو سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ملزم ارمغان کو درس فروری کو انصدادی دشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا
(02:00) ملزم کو تین مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تھا عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کی فائرنگ سے پولیس افسر اور اہلکار زخمی ہوئے ہیں سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ عدالت سے ملزم کا ایک ماہ کا جسمانی ریمانڈ مانگا تھا جو ہمیں نہیں ملا اس دوران سرکاری وکیل نے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پڑھ کر سنائی اور مزید کہا کہ ملزم کے قبضے سے مغوی کا موبائل فون ملا تھا ریکارڈ کے مطابق ملزم کے خلاف پہلے بھی پانچ مقدمات ہیں ملزم پہلے بھی بورڈ میسن کے ایک کیس میں مفرور تھا ملزم ارمغان پر بھتے کا مقدمہ تھا جس میں وہ مفرور تھا اس موقع پر جسٹس
(02:33) زفر احمد راجپوت نے سوال اٹھایا کہ ٹرائل کوٹ نے کس وجہ سے جسمانی ریماند دینے سے انکار کیا تو سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ جسمانی ریماند سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے تو جسٹس زفر احمد راجپوت نے استفسار کیا کہ کیا مارپیٹ کی وجہ سے جسمانی ریمان سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تو جسٹس زفر احمد راجپوت نے استفسار کیا کہ کیا مار پیٹ کی وجہ سے جسمانی ریمان نہیں ملا؟ بتائیں کیا تشدد ہوا ہے؟ تو ملزم ارمغان نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ پر تشدد کیا ہے۔ جج کے کہنے پر ملزم نے شرٹ ہٹا کر تشدد کی نشانات دکھانے کی کوشش کی
(02:57) لیکن تشدد کا کوئی نشان ہی نظر نہیں آیا جس پر ملزم ارمغان نے کہا کہ جسم کے نچلے حصے پر تشدد کا نشان بنایا گیا ہے۔ تو جج نے ملزم ارمغان سے پوچھا کہ کیا آپ نے جیل حکام سے تشدد کی شکایت کی تھی تو ملزم نے جواب دیا کہ نہیں میں نے شکایت نہیں کی تھی میں صدمے میں تھا اس دوران جسٹس زفر احمد راجپوت نے انسیدادی دشتگردی کی عدالت کے تزامی جج زیعظاقر حسین کے ریمانڈ مسترد کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمانڈ دیئے کہ پورا آرڈر ٹائیڈ تھا ہاتھ سے وائٹو لگا کر جیل کا سٹیڈ کے ساتھ پولیس ابھی تک لکھا ہوا ہے اس پر پروسیکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کا باپ جج صاحب کے کمرے میں موجود تھا میں حلف اٹھا کر کہتا ہوں تو جسٹس زفر احمد راج پوت نے ان سے کہا کہ وہ بات نہ کریں جو آپ نے درخواست میں نہیں لکھی اس دوران عدالت نے کیس کے تفتیشی افسران کو طلب کر لیا اور سابق تفتیشی افسر امیر اشفاق سے پوچھا
(03:46) کہ میڈیکل کا لیٹر کہاں ہے تو سابق تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ مجھے کوئی لیٹر نہیں ملا تھا عدالت نے اس سے پھر پوچھا کہ آپ نے کوئی لیٹر دیا تھا ایمیل او کو وہ کہاں ہے وہ لیٹر آپ نے کیوں دیا تھا تو اس پر سابق تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ انتظامی جج صاحب نے مجھے زبانی حکامات دیئے تھے تو عدالت نے اس پر کہا کہ جیل کا سٹیڈی کے بعد تو آپ کی ذمہ داری ختم ہو گئی تھی تو اس پر سابق تفتیشی آفسٹر نے جواب دیا کہ پہلے پولیس ریمانڈ دیا گیا تھا لیکن شام سات بجے جیل کا سٹڈی دے دی گئی یہ سارے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور پھر بعد میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے
(04:17) ملزم ارمغان کے ریمانڈ کی چاروں درخواستیں منظور کر لی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کل ادم قرار دے دیا اور ملزم کو جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے آج ہی انصیلہ دیشتگردی کی عدالت نمبر دو میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہم بات یہ ہے کہ آسیندھائی کورٹ میں بھی انصیلہ دیشتگردی عدالت کے انتظامی جج سید زاکر حسین کے فیصلے پر سوال اٹھایا گیا ہے ہمارے ساتھ موجود ہیں نمائندہ جیو نیوز امین انور امین انور بہت شکریہ امین بتائے گا کیا آج معاملہ ہوا ہے جج پر بھی سوال اٹھایا گیا پھر ملزم نے یہ بتانے کی بھی کوشش کی کہ مجھ پر تشدد
(04:44) ہوا ہے کیا معاملات ہوئے جی بالکل شاہدیب صاحب آج ساڑھے نو مجھے آہ پروسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جو چار درخواستیں دائر کی گئی تھی کریمنل ریویجن اپلیکیشنز ان پر سماعت تھی اور جیل حکام نے ملزم ارمغان کو عدالت میں پیش کیا سخت وفاستی انتظامات کیے گئے تھے اور ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل نے آج اپنے دلائل شروع کیے جب مقدمہ درج ہوا آٹھ فروری جنوری کا یہ واقعہ ہے جس کے بعد ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر ڈیفنس میں ایک بنگلے پر چھاپا مارا گیا جس میں فائرنگ ہوئی مقابلہ ہوا دو پولیس افسران جو ہیں اس میں زخمی ہوئے تو دس فروری کو ملزم کو پہلے جسمانی ریماند کے
(05:21) لیے انصداد دہشتگردی کی عدالت نمبر ایک کے منتظم جج کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پر انہیں پہلے دو روز کے جسمانی ریمانڈ کے لیے انصداد دہشتگردی کی عدالت نمبر ایک کے منتظم جج کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پر انہیں پہلے دو روز کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد جو ہے وہ ملزم نے شکایت کی کہ اس پر تشدد ہوا ہے جس کے بعد وربل انسٹرکشنز کے ذریعے ایک میڈیکل کرایا گیا جس نے تفتیشی افسر میر اشفاق نے میر عدالت کو بتایا تو جسٹس زفر احمد راجپو نے یہ استفسار کیا کہ کیا آپ کو کوئی ریٹن آرڈر ملا تھا جس کے بعد آپ نے یہاں کے ملزم کا ایمیلو کرائے ہے
(05:48) تو اس پر تفتیشی افسر نے کہنا تھا کہ وربل انسٹرکشنز دی گئی تھی کورٹ کی جانب سے جس کے بعد اس کا میڈیکل کرائے گیا ہے تاہم سات بجے کے بعد جو ہے وہ ملزم کو جیل کسٹیڈی کے احکامات ملے تاہم انہوں نے سرٹیفائیڈ کاپی کے لیے درخواست دی جو منظور نہیں کی گئی اس کے اگلے روز گیارہ فروری کو دوبارہ جو مصطفیٰ آمیر کے اغوا کا کیس تھا اس میں فیزیکل کسٹیڈی کی ایک اور درخواست دی گئی ایڈمنسٹریٹیف جج زاکر حسین کو جو انہوں نے مسترد کی اور اس کے اوپر ایک جی آئی ٹی بنانے کا حکم دیا کہ یہ کہنا تھا کہ ہم نے استعداد بھی نہیں کی تھی اس کے باوجود آہ ٹرائل کورٹ کے جج نے آہ مشترکہ تحقیقات تیم بنانے کا حکم
(06:27) دیا تو آہ اس کے بعد آہ اگلے روز بھی آہ پولیس نے کوشش کی وہاں پہ سرٹیفائیڈ کاپیز کے لیے لیکن وہ نہیں دی گئی تو عدالت نے آہ کیونکہ گزشتہ روز آہ جو ریجسٹر آہ انصداد دہشتگردی عدالت تھے انہیں پیش ہونے کا حکم دیا تھا ریکارڈ کے ساتھ جو کیس کا اوریجنل ریکارڈ جمع کرائے تھا جو آہ ریمانڈ پیپرز تھے پولیس فائل تھی وہ آج محکمہ داخلہ کے دو افسران آج عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے وہ ریکارڈ جب عدالت کے سامنے رکھا تو یہ انکشاف ہوا کہ پہلے ملزم ارمغان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا لیکن بعد میں جو ہے وہ اس کو
(06:59) وائٹو کے ذریعے جیل کسٹیڈی کیا گیا ہے یہ عدالت میں آج انکشاف ہوا محکمہ داخلہ کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ریجسٹرار کی جو پوسٹ ہے وہ ویکنٹ ہے اور جن صاحبہ کو یہ چارج ملا ہوا ہے وہ عمرے پر گئی ہوئی ہیں تو عدالت نے یہ تمام ریکارڈ جو ہے وہ دیکھا اس کی جانچ کی اور اس کے بعد تمام دلائل سننے کے بعد اس میں ملزم ارمغان بھی عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے کہا کہ اس پر تشدد ہوا تھا جس پر جس سے زفر احمد راجپود نے کہا کہ آپ نے کوئی اس کی شکایت کی تھی جیل حکام کو کچھ بتایا تھا تو اس نے کہا کہ آئی واز شاکت تو انہوں نے ایسی کوئی
(07:31) درخواست نہیں کی تھی جیل حکام سے بھی تو عدالت نے آج مختصر فیصلہ سنایا ہے اور کریمنل ریویجن کی جو چار اپلیکیشنز مختلف مقدمات میں دی گئی تھی وہ منظور کی ہیں اور ٹرائل کورٹ کا دس اور گیارہ فروری کا جو انصداد دہشتگردی عدالت نمبر ایک کا فیصلہ تھا وہ کل ادم قرار دیتے ہوئے یہ حکم دیا کہ ملزم کو آج ہی جیل حکام جو ہے وہ کسٹیڈی جو ہے وہ تفتیشی افسر کے حوالے کریں اور انصداد دہشتگردی عدالت نمبر دو کے جج کی عدالت پر سامنے انہیں پیش کیا جائے جہاں پر آج ملزم نے اسے پیش کیا اور کمرہ عدالت میں آتے ہی ملزم جو ہے وہ گر گیا اور بھیوش ہونے کی
(08:04) ظاہری طور پر جو ہے وہ کوشش کرتا رہا تو عدالتی عملی نے اسے وہیں بینچ پہ ہی لٹا دیا تاں عدالت نے فریکین کے وکلا کے دلائل سنے ملزم کی طرف سے بھی کچھ وکیل آج پیش ہوئے تھے تاں ملزم نے پہلے تو وقالت تامے پر ہی دستخط کرنے سے انکار کیا لیکن بعد میں وہ دستخط کرا لیے گیا ہے وکلا کی جانب سے تو یہ آج تمام صورتحال رہی تاں عدالت نے تمام فریکین کے وکلا کے دلائل سنے اور چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کیا تفتیشی افسر کا یہ کہنا تھا کہ ملزم کی اپوائنٹیشن پر جو ہے وہ آلہ قتل برامت کرنا ہے اور دیگر ملزمان کے بارے میں یہ بھی تحقیقات کرنی ہے
(08:39) تو جسمانی ریمانڈ دیا جائے جس پر عدالت نے آج چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے بہت شکریہ امین انور تفصیلات بتا رہے تھے اس کیس میں جو جو ڈیولیپنٹ ہوگی ہم آپ کے سامنے رکھیں گے کہ اس میں انصاف ہوتا ہے یا نہیں
=======================

مصطفیٰ قتل کیس: گاڑی سے مقتول کا صرف دھڑ ملنے کی اطلاع غلط نکلی

تفتیشی حکام نے بتایا کہ حب سے جلی ہوئی گاڑی سے ملنے والی لاش پوری تھی، اس کا صرف دھڑ ملنے کی اطلاع غلط نکلی۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے مصطفیٰ کی گاڑی کی ڈگی میں ہی آگ لگائی، مصطفیٰ کے جسم کے تمام حصے 11 جنوری کو حب پولیس کو ملے تھے، حب پولیس کی جانب سے کراچی پولیس کو فراہم کی گئی ویڈیو میں بھی لاش پوری نظر آرہی ہے ، اس سے قبل حب پولیس نے کراچی پولیس کو صرف دھڑ ملنے کی اطلاع دی تھی۔

یاد رہے کہ پولیس نے چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تھا جس دوران گھر سے پولیس نفری پر فائرنگ کی گئی جس میں ڈی ایس پی سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس کو گھر سے مغوی کا موبائل فون ملا جس کی مدد سے مرکزی ملزم کے دوست کی گرفتاری عمل میں آئی اور دوران تفتیش گرفتار ملزم شیراز نے انکشاف کیا کہ اس نے ارمغان کے ساتھ مل کر مصطفیٰ کو اس کی گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے زندہ جلا دیا تھا۔

پولیس کو مصطفیٰ کی گاڑی حب سے جلی ہوئی حالت میں ملی تھی جبکہ فلاحی ادارے کے سربراہ نے جیو نیوز کو بتایا تھا کہ پولیس نے انہیں جو لاش دی تھی اس کا ہاتھ، سر اور پاؤں نہیں تھے صرف دھڑ تھا۔

==================


مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، ارمغان نے گرفتاری دینے میں تاخیر صرف کمپیوٹر سے ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کیلئے کی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس ذرائع نے مصطفیٰ عامر اغوا اور قتل کیس میں مرکزی ملزم ارمغان سے متعلق اہم انکشااف کیا ہے کہ اس نے گرفتاری سے قبل ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کی، مرکزی ملزم ارمغان ہر تھوڑی دیر بعد فائر نگ کرتا رہا تاکہ پولیس اندر داخل نہ ہو۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس دوران ارمغان کمرے میں رکھے کمپیوٹر کو بھی استعمال کرتا رہا، ارمغان کمپیوٹر سے ڈیٹا ڈیلیٹ کررہا تھا یا منتقل تحقیقاتی ادارے تفتیش کرینگے۔

مصطفیٰ عامر قتل کیس: مقتول کی والدہ نے ویڈیو بیان جاری کر دیا
ذرائع نے بتایا کہ مرکزی ملزم چھاپے کے وقت کیمرے میں پولیس کو دیکھتا رہا، چھاپے کے وقت ارمغان کیساتھ ایک لڑکی بھی موجود تھی،

ارمغان نے لڑکی پر تشدد کرنا شروع کردیا کہ تم پولیس لائی ہو، پولیس پر فائرنگ کرنے کے بعد ارمغان نے لڑکی کو کمرے سے باہر نکال دیا،

پولیس ذرائع نے مرکزی ملزم ارمغان کی حرکتوں کے حوالے سے مزید بتایا کہ ارمغان نے لڑکی سے کہا کہ پولیس کو بتاؤ اندر 10 مسلح لوگ موجود ہیں۔
========================

مصطفیٰ عامر کےآخری بارگھرسےنکلنےکی سی سی ٹی وی فوٹیج


مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، مقتول کی گھر سے آخری بار نکلنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے مصطفیٰ کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو مل گئی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلادیا تھا۔

کراچی میں مصفطفیٰ عامر قتل کیس سے متعلق اہم انکشافات سامنے آگئے
23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا۔

تاہم اب مقتول کی گھر سے آخری بار نکلنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں مصطفیٰ کو کالے رنگ کی گاڑی میں گلی سےگزرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

فوٹیج کے مطابق مصطفیٰ 6 جنوری کو شام 6 بجکر 30 منٹ پر گھر سے نکلا تھا، والدہ کا کہنا ہے کہ گھر سے جانے کے ایک گھنٹے بعد ہی بیٹے کی نیٹ ڈیوائس بند ہوگئی تھی۔

دوسری جانب پولیس کو قتل کے ملزم ارمغان کے بنگلے سے کروڑوں روپے مالیت کے بھاری ہتھیار ملے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ ملزم اور اس کے والد کسی بھی ہتھیار کا لائسنس پیش نہیں کر سکے ہیں جس پر برآمد ہتھیاروں کی محکمہ داخلہ سے تصدیق کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے ممنوعہ بور کے ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق گرفتار ملزم ارمغان نے گھر میں 40 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے لگا رکھے تھے، ان سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ہی ارمغان 4 گھنٹے تک پولیس کے سامنے مزاحمت کرتا رہا تھا۔

مصطفیٰ قتل کیس میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل ( اے وی سی سی ) پولیس کے مطابق مصطفیٰ کو گاڑی سمیت جلانے کے واقعہ کے اگلے روز ارمغان بذریعہ جہاز اسلام آباد اور وہاں سے اسکردو چلا گیا۔

بعد ازاں ملزم شیراز بھی کراچی سے پہلے لاہور پہنچا اور وہاں سے اسلام آباد اور پھر اسکردو پہنچا۔

پولیس کے مطابق یہ دونوں اسکردو میں رہ کر کراچی کی خبریں لیتے رہے کہ آیا ان پر کوئی شک تو نہیں کیا جا رہا۔

28 جنوری کو شیراز کراچی پہنچا اور ارمغان کو واپس آنے کے لیے کہا جس کے بعد 5 فروری کو ارمغان بھی واپس کراچی پہنچ گیا۔ اس سارے معاملے پر ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی رہی۔

بلوچستان سے جو لاش ملی اس کا ہاتھ پیر اور سر موجود نہیں تھے: سربراہ فلاحی ادارہ

ڈیفنس میں ملزم کے بنگلے پر ریڈ اور اس کی گرفتاری کے بعد بھی پولیس ملزم سے کچھ اگلوا نہیں سکی، بعد ازاں وفاقی حساس ادارے اور سی پی ایل سی نے ارمغان کے دونوں ملازمین کی نشاندہی پر پہلے شیراز کے بھائی کو حراست میں لیا اور شیراز کے بھائی کی نشاہدہی پر شیراز کو گلستان جوہر سے حراست میں لیا گیا۔

ملزم شیراز نے دوران تفتیش واقعے کی تفصیلات بتائیں، شیراز نے بتایا کہ 6 جنوری کی شب مصطفیٰ اور ارمغان بات کر رہے تھے کہ ارمغان طیش میں آگیا اور ایک راڈ سے مصطفیٰ کو مارا، راڈ لگنے سے مصطفیٰ زخمی ہوگیا۔

ارمغان نے پاس پڑی ہوئی رائفل اٹھائی اور مصطفیٰ پر فائر کردیے، اس کے بعد ارمغان اور شیراز نے ٹیپ اٹھا کر مصطفیٰ کے ہاتھ، پیر اور منہ پر ٹیپ لگائی اور مصطفیٰ کو اسی کی کار کی ڈگی میں ڈال دیا، مصطفیٰ اس وقت تک سانسیں لے رہا تھا۔

ارمغان اور شیراز نے مصطفیٰ کی کار بنگلے سے نکالی، کار میں بیٹھنے سے پہلے ارمغان نے اپنے گھر کے جنریٹر سے پیٹرول ایک کین میں بھرا اور کار کی عقبی سیٹ پر رکھ دیا، ارمغان کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ ملزمان ماڑی پور سے ہوتے ہوئے حب پہنچے اور حب سے آرسی ڈی ہائی وے سے ہوتے ہوئے جب یہ لوگ حب پہنچے تو انھیں سامنے روڈ کے ساتھ تھانہ نظر آیا اور کچھ پولیس والے روڈ پر کھڑے نظر آئے تو ارمغان نے کار واپس لے لی اور کچھ آگے جاکر کار کو روڈ سے نیچے اتار لیا۔

ارمغان اور شیراز کو خوف تھا کہ کار سے ہمارے فنگر پرنٹ وغیرہ نہ مل جائیں اس لیے انہوں نے کار کا بونٹ کھول کر انجن پر اور باہر ٹائروں پر اپنے پاس موجود کین سے پیٹرول ڈالا اور کار کو آگ لگا دی۔

کراچی میں مصطفیٰ کے قتل کا معاملہ، تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے

ملزم کے مطابق مصطفیٰ کار کی ڈگی میں اس وقت زندہ تھا ،کار کو آگ لگا کر ملزمان پیدل واپس کراچی کی طرف چل پڑے، رات کو اس روڈ پر کوئی ٹریفک نہیں تھا۔ دونوں تین گھنٹے تک پیدل چلتے رہے، ان کو پیٹرول پمپ پر ایک ہوٹل نظر آیا، دونوں نے ہوٹل سے کھانا کھایا جہاں ہوٹل والوں نے ان کو بتایا کہ صبح 8 بجے ایک بس کراچی جاتی ہے۔

یہ دونوں ہوٹل کے ساتھ بنی ہوئی مسجد میں سوگئے، صبح بس نہیں آئی تو ان لوگوں نے ایک سوزوکی والے کو 2000 روپے دیے ،سوزوکی نے ان کو 4K چورنگی پر اتارا، پھر ملزمان رکشہ اور آن لائن ٹیکسی سروس کے ذریعے گھر پہنچے۔
===================


مارشا نے 150 بٹ کوائن کے لیے مصطفی سے بے وفائی کی ؟ ارم اوان کی مصطفی کو زندہ جلاتے ہوئے مارشا کو ویڈیو کال ، وی لاگر ماریہ علی کے انکشافات اور دعوے ۔ دوست نے دوست کے ساتھ کیا کیا ؟

پولیس حکام نے کیس کی ناقص تفتیش اور شواہد اکٹھے نہ کرنے پر ایس آئی او درخشاں انسپکٹر ذوالفقار اور تفتیشی افسر افتخار علی کو معطل کردیا ہے۔

مرکزی ملزم ارمغان کے گھر پر تعینات درجنوں نجی گارڈز کی تعیناتی سے متعلق ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔ یہ ویڈیو چار سے چھ ماہ پرانی ہے اور اہل علاقہ کی شکایت پر پولیس نے گارڈز کی تعداد چھ تک محدود کردی تھی۔

خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے مصطفیٰ کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو مل گئی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔

23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا، مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا۔

========================

لڑکی نے مصطفیٰ کو قتل کی دھمکی دی تھی۔- لڑکی کے میرے بیٹے سے 4 سال سے تعلقات تھے، لڑکی مصطفیٰ کو دھوکا دے رہی تھی۔-مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ

کراچی میں مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان سے متعلق مزید حقائق سامنے آگئے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی میں مصطفیٰ قتل کیس کے ملزم ارمغان سے متعلق مزید حقائق سامنے آئے ہیں کہ اسے چند دوستوں کے علاوہ کوئی نام سے نہیں جانتا تھا، اس کے ملازم اور باقی لوگ ’باس‘ کے نام سے جانتے تھے۔

پولیس نے جس گھر پر چھاپہ مارا وہ ارمغان نے کچھ عرصے پہلے ہی لیا تھا، اس کے گھر میں الیکٹرک سسٹم، 35 سے زائد کیمرے لگے تھے۔

ارمغان کے گھر میں کسی کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی، چھاپے کے وقت ارمغان پولیس کارروائی کیمروں سے مانیٹر کررہا تھا۔

واضح رہے کہ انسداد دہششت گردی عدالت میں مصطفیٰ عامر کے اغوا و قتل کی کی سماعت ہوئی اس دوران ملزم شیراز نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرلیا ہے۔

ملزم شیراز نے اپنے بیان میں کہا کہ مصطفی ڈیفنس میں ارمغان کے گھر آیا تھا، جہاں مصطفیٰ سے جھگڑا ہوا، ہم نے اس پر تشدد کیا جس کے بعد مصطفیٰ کو مارا اور اس کی گاڑی میں ہی حب لے گئے، عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

دوران سماعت عدالت کے استفسار پر ملزم نے کہا کہ مجھے پولیس نے نہیں مارا ہے۔

دوسری جانب مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل میں ایک لڑکی بھی ملوث ہے، لڑکی کے میرے بیٹے سے 4 سال سے تعلقات تھے، لڑکی مصطفیٰ کو دھوکا دے رہی تھی۔

والدہ نے کہا کہ لڑکی کی وجہ سے مصطفیٰ اور ارمغان میں چپقلش ہوئی، لڑکی نے مصطفیٰ کو قتل کی دھمکی دی تھی۔

مصطفیٰ کی والدہ نے کہا کہ پولیس کو بھی لڑکی کے ملوث ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا، پولیس نے لڑکی کو تفتیش کے لیے بلایا تو وہ امریکا فرار ہوگئی۔

پولیس نے کل حب سے جلی ہوئی گاڑی اور لاش برآمد کی تھی جس سے متعلق ڈی آئی جی سی آئی اے نے تصدیق کی تھی کہ یہ مصطفیٰ کی لاش ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بنگلے پر پولیس نے مغوی مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تھا تو ملزم نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اہلکار زخمی ہوئے تھے لیکن مغوی بازیاب نہیں ہوسکا تھا۔
https://urdu.arynews.tv/mustafa-murder-case-karachi-update/
=============================

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم جج نے مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں گرفتار ملزم شیراز عرف شاویز بخاری کو 21 فروری تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

ڈان نیوز کے مطابق مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں پولیس نے گرفتار ملزم شیراز عرف شاویز بخاری کو انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم جج کے چیمبر میں پیش کیا۔

مقتول کی والدہ کی جانب سے قبر کشائی کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی گئی جس پر عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کرنے کے ہدایت کردی۔

ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے تصدیق کی کہ گھر کے قالین پر لگا خون مصطفیٰ کا ہی ہے، قالین سے حاصل خون، بال اور دیگر عناصر کا ڈی ای این اے کرایا گیا تھا جب کہ ملزم شیراز نے دوران تفتیش بتایا تھا 3 گھنٹے تک مصطفیٰ پر تشدد کیا گیا۔

عدالت نے ملزم شیراز کو 21 فروری تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

دوران سماعت ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی نے عدالت میں شور شرابہ کیا اور زبردستی عدالت کے چیمبر میں گھسنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔

دوسری جانب، پولیس نے ملزم ارمغان کے ریمانڈ کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، جس میں موقف اپنایا کہ مقتول کی لاش حب کے قریب سے ملی، چھاپہ مارنے والی ٹیم کے خلاف ایف آئی آر کے آرڈر کو بھی چیلنج کردیا گیا۔

پولیس نے موقف اختیار کیا کہ پولیس پارٹی کے خلاف مقدمے کا حکم سمجھ سے بالا تر ہے، انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم جج نے ملزم کو جیل بھیج دیا تھا اور یہ ایک انتہائی سنگین نوعیت کا مقدمہ ہے جب کہ تفتیش شروع ہونے سے پہلے ملزم کو جیل بھیجنا انصاف کے خلاف ہے۔

بعد ازاں، سندھ ہائیکورٹ نے دونوں درخواستیں 17 فروری کوسماعت کیلئے منظور کرلی۔
=================

جھگڑے کی اصل وجہ گرل فرینڈ مارشا تھی جو نیو ایئر نائٹ پر ارمغان کی گود میں جا بیٹھی اور وہاں سے لڑائی شروع ہوئی اور چھ جنوری کو کھیل تمام ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق مشہور یوٹیوبر وی لاگر اور ٹیلی ویژن پریزنٹر نیوز پروگرام اینکر ماریہ علی نے اپنے مختلف وی لاگ ویڈیو اپڈیٹ میں دعوی کیا ہے کہ سارا جھگڑا گرل فرینڈ مارشا کی وجہ سے ہوا جو نیو ایئر نائٹ پر ارمغان کی گود میں جا بیٹھی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مصطفی کو زندہ جلانے سے پہلے دو دوست نما سانپوں نے بھیانک تشدد کیا اور کس طرح وہ اس کی بے بسی پر کہے لگاتے رہے اور اس کو تڑپتا دیکھتے رہے کمال کی بات یہ ہے کہ ماریہ علی نے اپنے ویڈیوز میں اس طرح صورتحال

بیان کی ہے جیسے وہ وہاں پر خود موجود ہوں لیکن ظاہر ہے وہ وہاں پر نہیں تھی انہوں نے جو سنا اور جو انہوں نے ادھر ادھر سے معلومات حاصل کی اس کے مطابق انہوں نے ویڈیوز بنائی اور یہ سب کچھ بیان کیا ہے وہ کیا کچھ جانتی ہیں اور کیا کچھ بتا چکی ہیں یہ جاننے کے لیے اپ ان کی ویڈیوز خود دیکھ سکتے ہیں جس کے لنک یہاں دیے جا رہے ہیں

کراچی- مصطفی عامر قتل کیس میں ملوث ملزم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مقتول کو پہلے تشدد کیا پھر مارا اور اسی کی گاڑی میں ہی حب لے کر گئے، انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے ملزم شیراز کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو پولیس نے مصطفی قتل کیس میں ملزم شیراز کو پیش کیا۔ عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ آپ کو پولیس نے مارا تو نہیں۔ ملزم نے کہا کہ مجھے پولیس نے نہیں مارا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں کیا ہوا تھا، ملزم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مصطفی ارمغان کے گھر ڈیفنس آیا تھا، وہاں ہمارا اس سے جھگڑا ہوا، ہم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کے بعد مصطفی کو مارا اور اسی کی گاڑی میں اسے حب لے گئے۔ تفتیشی افسر نے

بتایا کہ ملزم کا سی آر او کرانا ہے اور تفتیش کرنی ہے لہذا استدعا ہے کہ ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے ملزم کو 21 فروری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ دوسری جانب مقتول مصطفی عامر کی والدہ مقتول کی قبر کشائی کی اجازت کے لئے درخواست دائر کی۔ خصوصی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کریں۔ متعلقہ مجسٹریٹ قبر کشائی اور دیگر معاملات پر آرڈر کا اختیار رکھتا ہے۔
======================
سندھ ہائیکورٹ نے نوجوان مصطفیٰ کے اغوا کے بعد قتل کیس میں ملزم ارمغان کے ریمانڈ کے معاملے پر پراسیکیوٹرجنرل کی درخواست منظور کرلی۔

کراچی کے نوجوان مصطفیٰ عامر کے اغوا کے بعد قتل کیس میں پولیس نے پراسیکیوٹرجنرل سندھ منتظرمہدی کے ذریعے ملزم ارمغان کے ریمانڈ کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ پولیس نے چھاپہ مارنے والی ٹیم کے خلاف ایف آئی آر کا آرڈربھی چیلنج کردیا۔ پراسیکیوٹرجنرل سندھ نے درخواست میں بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی کورٹس کے منتظم جج نے ملزم کو جیل بھیج دیاتھا۔ یہ ایک انتہائی سنگین نوعیت کامقدمہ ہے۔ تفتیش شروع ہونے سے پہلے ملزم کو جیل بھیجنا انصاف کے خلاف ہے۔ پولیس پارٹی کے خلاف مقدمے کا حکم سمجھ سے بالا ترہے۔ پراسیکیوٹرل جنرل سندھ نے استدعا کی کہ انسداددہشت گردی کورٹس کے منتظم جج کافیصلہ کالعدم قرار اور ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی اجازت دی جائے۔ سندھ ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹرجنرل کی درخواست منظور کرتے ہوئے 17 فروری کو سماعت کے لئے مقرر کردی۔
======================


مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کے کیس میں ایس آئی او درخشاں تھانہ انسپکٹر ذوالفقار کو معطل کردیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کیس کے تفتیشی افسر اے ایس آئی افتخار کو بھی معطل کردیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ دونوں افسران کو کیس کی ناقص تفتیش اور شواہد اکٹھا نہ کرنے پر معطل کیا گیا۔

خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے مصطفیٰ کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو مل گئی تھی۔

بتایا جارہا ہے کہ مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔

23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصطفیٰ اپنے دوست ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کر کے اس کو قتل کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا، ملزمان نے لاش کی نشاندہی کی، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔

کراچی میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے باوجود مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ پیر تک ٹل گیا۔

پولیس کی ارمغان کا جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت پیر کو ہوگی۔

مصطفیٰ کو بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا، مقدس حیدر

ڈی این اے ٹیسٹ میں ارمغان کے گھر سے ملنے والے خون کے نمونے مقتول مصطفیٰ کی والدہ کے خون سے میچ کر گئے، پولیس نے مصطفیٰ کی قبر کشائی کے لیے درخواست بھی دائر کر دی۔

مصطفیٰ کے قتل میں شریک ملزم شیراز بخاری کا 21 فروری تک جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا، شریک ملزم شیراز کی پیشی کے موقع پر قتل کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی نے پراسیکیوشن ٹیم کو دھمکیاں دیں کانسٹیبل رضوان سے بدتمیزی کی اور دھکے بھی دیے۔

کراچی: ڈیفنس کے بنگلے میں چھاپہ، پولیس کو خفیہ کمرے میں خون کے دھبے ملے، تفتیشی ذرائع

خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے مصطفیٰ کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو مل گئی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔

23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا، مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا، ملزمان نے لاش کی نشاندہی کی، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔


مصطفیٰ کی والدہ نے بیٹے کی قبر کشائی کی اجازت کیلئے درخواست دائر کر دی۔
کراچی میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے مصطفیٰ کی والدہ نے مقتول بیٹے کی قبر کشائی کی اجازت کیلئے درخواست دائر کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت کراچی میں مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس کی سماعت کے دوران مصطفیٰ کی والدہ نے بیٹے کی قبر کشائی کی اجازت کیلئے درخواست دائر کی ہے۔

منتظم عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

مصطفیٰ کو بچپن کے دوستوں نے قتل کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا، مقدس حیدر

عدالت کا کہنا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ قبر کشائی کی درخواست پر آرڈر کا اختیار رکھتے ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے بھی مصطفیٰ کی قبر کشائی کےلیے درخواست دائر کردی۔ مصطفیٰ کے قتل میں شریک ملزم شیراز بخاری کا 21 فروری تک جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا۔

شریک ملزم شیراز کی پیشی کے موقع پر قتل کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی نے پراسیکیوشن ٹیم کو دھمکیاں دیں، کانسٹیبل رضوان سے بدتمیزی کی اور دھکے دیے۔

سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی نے مصطفیٰ قتل کیس سے متعلق کہا ہے کہ عدالتی حکم کے بعد مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کی جا سکتی ہے، ورثاء اگر چاہیں تو لاش اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

’جیو نیوز‘ سے گفتگو کے دوران فیصل ایدھی نے بتایا کہ بلوچستان پولیس کی جانب سے ہم سے 12 جنوری کو رابطہ کیا گیا تھا، پولیس کی جانب سے جھلسی ہوئی لاش ہمارے حوالے کی گئی تھی، لاش مکمل طور پر جلی ہوئی تھی۔

فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر کی لاش کا صرف دھڑ تھا، ہاتھ، پیر اور سر موجود نہیں تھا۔

مصطفیٰ کے قتل میں نئے انکشافات سامنے آگئے

انہوں نے مزید کہا کہ لاش لواحقین کے انتظار میں 4 دن کراچی کے سرد خانے میں رکھی رہی جس کی 16 جنوری کو مواچھ گوٹھ کے قبرستان میں تدفین کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے لاپتہ مصطفیٰ عامر کے قتل کے ملزم ارمغان کے والد نے کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں شور شرابہ کیا ہے۔

ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی نے زبر دستی جج کے چیمبر میں گھسنے کی کوشش کی۔

کامران قریشی نے کہا کہ جا کر جج سے بولو میں ملنے آیا ہوں، میرے بیٹے ارمغان کا کیس چل رہا ہے، میں جج سے ملوں گا۔

============================
جا کر جج سے بولو میں ملنے آیا ہوں، میرے بیٹے ارمغان کا کیس چل رہا ہے، میں جج سے ملوں گا۔- میں امریکی شہری ہوں۔


کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے لاپتہ مصطفیٰ عامر کے قتل کے ملزم ارمغان کے والد نے کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں شور شرابہ کیا ہے۔

ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی نے زبر دستی جج کے چیمبر میں گھسنے کی کوشش کی۔

کامران قریشی نے کہا کہ جا کر جج سے بولو میں ملنے آیا ہوں، میرے بیٹے ارمغان کا کیس چل رہا ہے، میں جج سے ملوں گا۔

مصطفیٰ کے قتل میں نئے انکشافات سامنے آگئے

ملزم ارمغان کے والد نے کورٹ پولیس سے بدتمیزی کرتے ہوئے کہا کہ تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے، میں امریکی شہری ہوں۔

کامران قریشی نے پولیس کانسٹیبل رضوان کو دھکے دیے اور بدتمیزی کی۔

ملزم کے والد کے شور شرابے پر پولیس اور رینجرز کی نفری طلب کر لی گئی۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے نوجوان مصطفیٰ کی لاش پولیس کو مل گئی ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کی لاش پولیس کو حب چوکی سے ملی ہے، مصطفیٰ کو گاڑی سمیت 6 جنوری کو حب چوکی لے جایا گیا تھا، ملزم ارمغان نے ساتھی کے ساتھ مل کر گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مصطفیٰ کو گاڑی میں بٹھا کر آگ لگائی، مصطفیٰ کی جلی ہوئی لاش گاڑی سے ملی ہے۔
===================

ارمغان اور مصطفی کے درمیان جھگڑے کی وجہ بننے والی لڑکی کا پتہ چل گیا ، لڑکی بیرون ملک جا چکی ، گرفتاری کے لیے انٹرپول کی مدد درکار ہو سکتی ہے ،

تفصیلات کے مطابق پولیس کو تفتیش کے دوران نئی معلومات ملی ہے اور اہم انکشافات ہوئے ہیں ارمغان اور مصطفی کے درمیان ہونے والے جھگڑے کا باعث بننے والی لڑکی کا پتہ چل گیا ہے اس لڑکی کا نام مارشہ ہے اور یہ اب بیرون ملک جا چکی ہے غالبا 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی یہ لڑکی جھگڑے کے بعد فرار ہوئی یا روٹین کے مطابق باہر گئی اس کی معلومات کی جا رہی ہے اگر لڑکی اس کیس میں ملوث ہے تو اس کی گرفتاری یا اسے واپس لانے کے لیے غیر ملکی پولیس یا انٹرپول کی

مدد درکار ہو سکتی ہے کیس کے حوالے سے لڑکی کی گواہی اہمیت اختیار کر سکتی ہے پولیس اس نتیجے پر تو پہنچ چکی ہے کہ جب ارمغان کے گھر پر جھگڑا ہوا مصطفی اور ارمغان کا تو وہاں پر شیراز بھی موجود تھا وہاں پر گولیاں جلی تھیں اور ارمغان کے


دو ملازمین نے اس کی گواہی بھی دی ہے کہ گولیاں چل رہی تھیں شہراز کے مطابق ارمغان نے اپنی رائفل سے فائرنگ کر کے مارا ۔ شیراز بخاری عرف شیواز کہ بیان کے باوجود پولیس دیگر پہلوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے لیکن شہر راز کی کہانی کی وجہ سے پولیس جلی ہوئی گاڑی تک پہنچی اب ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا جو سیمپل بھیجے گئے ہیں ایک ہفتے تک رپورٹ ملے گی

https://www.instagram.com/reel/DGD8nEis9fh/?utm_source=ig_web_button_share_sheet

===================


شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا- ڈیفنس، 39 روز قبل اغوا نوجوان کی مبینہ لاش حب سے مل گئی، دوست نے جھگڑے پر قتل کیا

شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا- ڈیفنس، 39 روز قبل اغوا نوجوان کی مبینہ لاش حب سے مل گئی، دوست نے جھگڑے پر قتل کیا

(ثاقب صغیر/اسٹاف رپورٹر) ڈیفنس سے 39روز قبل اغوا ہونے والے مغوی نوجوان کی مبینہ لاش حب سے مل گئی۔جس دن مصطفیٰ غائب ہوا اس دن وہ ارمغان کے گھر گیا تھا جہاں ان کا جھگڑا ہوا تھا۔ مصطفیٰ کو قتل کرنے کے بعد ملزمان نے اس کی لاش کو حب کے علاقے میں لے جاکر گاڑی میں رکھ کر جلا دیا تھا۔ملزم شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا۔ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے جمعہ کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ6جنوری کو مصطفیٰ عامر لاپتہ ہوا اور سات جنوری کو مقدمہ ہوا ۔ 25جنوری کو مغوی کی والدہ کو تاوان کی کال موصول ہوئی تھی جس کے بعد کیس سی آئی اے کو ٹرانسفر ہوا‘8 فروری کو پولیس اور سی پی ایل سی نے ڈی ایچ اے میں ریڈ کیا جہاں سے ملزم ارمغان گرفتار ہوا۔ملزم ارمغان سے مغوی کا موبائل فون اور بھاری ہتھیار جبکہ کارپیٹ سے خون کے نشان بھی ملے تھے۔ پولیس نے سی پی ایل سی اور وفاقی ادارے کی مدد سے تفتیش کو جاری رکھا اور شیراز بخاری عرف شاہ ویزنامی ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ملزم شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا۔ ڈی آئی جی سی آئی اے نے بتایا کہ ارمغان کے دو ملازمین نے بھی بتایا ہے کہ 6 جنوری کی رات مصطفیٰ ارمغان کے گھر آیا تھا اور وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد مصطفیٰ کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ملزمان کے اب تک کے بیانات کے مطابق انہوں نے واقعہ کے بعد مقتول کی لاش کو بلوچستان کے ضلع حب میں ٹھکانے لگایا اور لاش کو گاڑی سمیت جلا دیا۔ملزمان اگلے روز دوپہر کے وقت واپس آئے۔راستے میں ملزمان جہاں جہاں بھی رکے وہاں سے لوگوں کے بیانات لیے گئے ہیں اور شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔حب کے تھانے دھوراجی میں ایک نامعلوم لاش کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔لاش کو بلوچستان پولیس نے ایدھی کے حوالے کیا جنہوں نے لاوارث سمجھ کر لاش کو دفنا دیا۔ڈی این اے کے ذریعے مزید تصدیق کی جائے گی جبکہ ارمغان کا مزید ریمانڈ بھی حاصل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ملزم نے جیسا بتایا تھا ویسے ہی گاڑی سمیت لاش ملی تھی جسے حب پولیس نے کنفرم کیا ہے۔ہم نے مصطفیٰ کی والدہ کے ڈی این اے نمونے لیے ہیں ۔لاش کے نمونے بھی لیں گے۔مقتول کی شناخت کے بعد کارروائی آگے بڑھے گی۔
=========================


نیو ائیر پر منشیات کےپیسے پر لڑائی،لڑکی کا چکر بھی تھا

مصطفیٰ قتل کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔قتل کی وجوہات میں مختلف باتیں سامنے آئی ہیں جس میں منشیات کے پیسے پر لڑائی ، نیو ائیر کے دوران دونوں میں جھگڑا اور کسی لڑکی کے معاملہ بھی جھگڑے کی وجہ بتائی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شیزاز نے دوران تفتیش بتایا کہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ کو بہانے سے گھر بلوایا اور گھر بلوانے کے بعد لوہے کی راڈ سے تشدد کیا۔ مصطفیٰ کو نیم بیہوش کرنے کے بعد منہ پر ٹیپ باندھ دی گئی۔مقتول مصطفیٰ کی گاڑی میں شیراز اور ارمغان کیماڑی سے ہمدرد چوکی سے ہوتے ہوئے حب پہنچے۔حب میں دھوراجی سے دو کلو میٹر دور پہاڑی کے قریب انہوں نے گاڑی روکی۔گاڑی کی ڈگی کھلوی تو مصطفیٰ زندہ تھا جس کے بعد ارمغان نے پیڑول چھڑکا اور لائڑ سے دور کھڑے رہ کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ملزم شیراز کے مطابق وہ آگ لگانے کے بعد تین گھنٹے پیدل چلتے رہے۔راستے میں دونوں ملزمان کو کسی گاڑی والے نے لفٹ نہیں دی۔ایک سوزوکی والے کو دو ہزار روپے دیکر دونوں ملزمان فورکے چورنگی پہنچے۔فور کے چورنگی پہنچے کے بعد رکشہ کے ذریعے ملزمان ڈیفنس اور وہاں سے آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر پہنچے۔پولیس چھاپے کے بعد ملزم ارمغان نے ویڈیو بنانے کے لئے شیراز کو گھر بھیجا تاہم پولیس کےخوف سے شیراز ویٖڈیو نہ بنا سکا اور فرار ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول مصطفیٰ اور ملزم ارمغان آپس میں دوست تھے جبکہ ملزم ارمغان اور شیراز بھی دوست تھے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم شیراز کے مطابق 6 جنوری کی شب ارمغان کے گھر میں ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ملزم ارمغان اور مصطفیٰ کے درمیان باتوں باتوں میں گرما گرمی ہوئی جس پر ملزم ارمغان نے اپنے پاس موجود رائفل سے فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا۔پولیس کے مطابق ملزم شیراز نے بتایا ہے کہ نیو ائیر نائٹ پر بھی دونوں کے درمیان چپقلش ہوئی تھی ۔ملزم ارمغان کی عمر 31 برس جبکہ مقتول کی 23 برس تھی۔
===================

اہور سٹی پولیس نے لاکھوں روپے کی رشوت لینے اور منشیات فروشوں کو رہا کرنے کے الزام میں مختلف تھانوں کے 2 ایس ایچ اوز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جن میں سے ایک تھانیدار کو گرفتار بھی کیا جاچکا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران کو ڈیفنس اے ایس ایچ او میاں سجاد اور فیصل ٹاؤن کے ایس ایچ او سلیمان اکبر اور ایک کانسٹیبل شاکر کے خلاف مبینہ طور پر رشوت لینے اور منشیات فروشوں کو ان کے متعلقہ علاقوں میں رہا کرنے کی شکایات موصول ہوئیں۔

ڈی آئی جی نے ایس ایچ اوز اور کانسٹیبل دونوں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا۔

پہلی انکوائری میں ایس ایچ او سجاد کو منشیات فروش سے 17 لاکھ روپے رشوت لینے اور بدلے میں رہا کرنے کا مجرم پایا گیا۔

ڈی آئی جی نے ایس ایچ او کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 155 سی کے تحت ڈیفنس اے تھانے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، سابق ایس ایچ او کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے مزید کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایک اور واقعے میں ایس ایس پی آپریشن نے فیصل ٹاؤن کے ایس ایچ او سلیمان اور کانسٹیبل شاکر کو رشوت لینے اور ایک اور منشیات فروش کو رہا کرنے کا مجرم پایا۔

ڈی آئی جی نے دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا، فیصل ٹاؤن پولیس نے سابق ایس ایچ او سلیمان اور کانسٹیبل شاکر کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 155 سی کے تحت مقدمہ بھی درج کرلیا۔

سابق ایس ایچ او سجاد کو بھی گرفتار کرلیا گیا، جب کہ ایس ایچ او سلیمان اور کانسٹیبل شاکر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ڈی آئی جی کامران کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا، اور ان کے خلاف اسی تھانے میں مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں جہاں وہ ایس ایچ اوز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

اسٹریٹ کرائمز، پتنگ بازی کےخلاف کریک ڈاؤن
اس سے قبل کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) بلال صدیق کمیانہ نے جمعہ کو ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں لاہور بھر میں منشیات کی اسمگلنگ، اسٹریٹ کرائمز اور خطرناک پتنگ بازی کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ’جارحانہ‘ حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا۔

اسٹریٹ کرائمز میں اضافے سے نمٹنے کے لیے سی سی پی او نے ایس ایس پی آپریشنز کو ہدایت کی کہ وہ بھیک مانگنے کے منظم نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کریں اور جرائم سے متاثرہ علاقوں میں نگرانی کو یقینی بنائیں۔

انویسٹی گیشن ونگ کو ہدایت کی گئی کہ وہ پبلک پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے ساتھ کوآرڈینیشن کو بہتر بنائیں، تاکہ زیر التوا عدالتی مقدمات (چالان) میں تیزی لائی جا سکے اور قانونی بیک لاگ کو کم کیا جا سکے۔

اجلاس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید، ایس ایس پی آپریشنز تصور اقبال کے علاوہ ایس پیز، اے ایس پیز اور سول لائنز اور سٹی ڈویژنز کے اسٹیشن لیول کے افسران نے بھی شرکت کی۔
=======================

ملزم ارمغان کا تعلق قریشی برادری سے آبائی علاقہ رحیم یارخان کے قریب
کراچی-ملزم ارمغان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ قریشی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا آبائی تعلق رحیم یار خان کے قریبی علاقے سے ہے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم ارمغان ڈارک ویب پر کام کرنے کے ساتھ منشیات کے دھندے میں بھی ملوث ہے‘ اسی وجہ سے اس کے پاس اتنا جدید اسلحہ اور سیکڑوں گولیاں موجود تھیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ مقتول مصطفیٰ نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کی تھی اور مقتول مصطفیٰ پر سال 2024 میں اینٹی نارکوٹکس فورس میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول بھی منشیات استعمال کرتا تھا اور منشیات کے حوالے سے ہی دونوں کے درمیان تعلق تھا۔دونوں ساتھ نہیں پڑھتے تھے کیونکہ مصطفیٰ کی عمر 23برس جبکہ ملزم ارمغان کی 31 برس تھی۔مقتول مصطفیٰ کے والد سرکاری ملازم ہیں اور کسٹم میں ہیں۔مقتول مصطفیٰ کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے۔

مصطفیٰ کی بازیابی کیلئے پولیس نے ارمغان کے گھر چھاپہ ماراتھا
کراچی( ثاقب صغیر/ اسٹاف رپورٹر ) پولیس اور سی پی ایل سی نے 8 فروری کو ملزم ارمغان کے گھر واقع ڈیفنس خیابان مومن گلی نمبر7بنگلہ نمبر 35 میں مغوی مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے کارروائی کی تھی جہاں ملزم ارمغان نے پولیس پر جدید اسلحے سے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور کانسٹیبل محمد اقبال گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے‘ پولیس پہلے فلور پر پہنچی تو ملزم نے دوسرے فلور سے جدید ہتھیاروں سے پولیس پر فائرنگ کی۔پولیس نے چار گھنٹے کی جدوجہد کے بعد موقع سے ملزم ارمغان کو گرفتار کر لیا تھا۔گرفتار ملزم کے قبضے سے مغوی مصطفیٰ عامر کا موبائل فون، بھاری مقدار میں اسلحہ و ایمونیشن اور لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے تھے ۔ملزم ارمغان سے برآمدہ اسلحے میں Mp-47 رائفل بمع گولیاں، ایک عدد اسناپئر گن میگنم، ایک عدد ایم پی فور گن، ایک عدد 222 رائفل ، 350 گولیاں نائن ایم ایم ، 800 گولیاں رائفل 222، 400گولیاں رائفل WP-47 ، رائفل 224 کی 210 گولیاں ، رائفل 223 کی 600 گولیوں کے علاوہ 64لیپ ٹاپ اور 10 کالنگ ہیڈ فون برآمد کیے گئے تھے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم ارمغان کے خلاف کسٹم ،گذری اور درخشاں تھانوں میں مختلف مقدمات درج ہیں اور ملزم اس سے پہلے بھی جیل جا چکا ہے۔

========================
ملزم ارمغان کا تعلق قریشی برادری سے آبائی علاقہ رحیم یارخان کے قریب
کراچی( ثاقب صغیر/اسٹاف رپورٹر )ملزم ارمغان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ قریشی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا آبائی تعلق رحیم یار خان کے قریبی علاقے سے ہے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم ارمغان ڈارک ویب پر کام کرنے کے ساتھ منشیات کے دھندے میں بھی ملوث ہے‘ اسی وجہ سے اس کے پاس اتنا جدید اسلحہ اور سیکڑوں گولیاں موجود تھیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ مقتول مصطفیٰ نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کی تھی اور مقتول مصطفیٰ پر سال 2024 میں اینٹی نارکوٹکس فورس میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول بھی منشیات استعمال کرتا تھا اور منشیات کے حوالے سے ہی دونوں کے درمیان تعلق تھا۔دونوں ساتھ نہیں پڑھتے تھے کیونکہ مصطفیٰ کی عمر 23برس جبکہ ملزم ارمغان کی 31 برس تھی۔مقتول مصطفیٰ کے والد سرکاری ملازم ہیں اور کسٹم میں ہیں۔مقتول مصطفیٰ کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے۔
====================

مصطفی کے کیس میں گرفتار ارمغان اپنے طور پر بہت باثر طاقتور اور مغرور ہو سکتا ہے وہ سارے سسٹم کو خرید لے لیکن وہ میرے اللہ کو تو نہیں خرید سکتا مجھے پورا یقین ہے رب کی ذات سے ۔ میرے بیٹے کے ساتھ جنہوں نے بھی یہ کچھ کیا ہے وہ بچ نہیں پائیں گے کیا ہے پورا سسٹم ان کو بچانے کے جتن کرے اور مجھے مختلف حیلوں بہانوں سے کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کرے بظاہر میں اتنی طاقتور نہیں ہوں کہ سڑکوں پر نکل کر اپنے بیٹے کے انصاف کے لیے دہائی دے سکوں احتجاج کر سکوں مجھ میں اتنی طاقت ہمت نہیں ہے لیکن میرے اللہ پر میرا بھروسہ ہے یہ لوگ جتنے بھی طاقتور ہوں بااثر ہوں لیکن میرے اللہ کو نہیں خرید سکتے ۔ ان خیالات کا اظہار مصطفی کی والدہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے ان سے مصطفی اور عرب مغان کے بارے میں مختلف سوالات کیے گئے تھے جن کا جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں کہ اب تک سسٹم کتنا کمپرومائزڈ ہے ائی او کتنا کمپرومائز تھا عدالت سے گرفتار شخص کی تفتیش کے لیے ریمانڈ نہ لے سکا ۔ سب کچھ اپنی کھلی انکھوں سے میں بھی دیکھ رہی ہوں اور اپ بھی ۔


کراچی میں مصظفیٰ عامر کو لڑکی کے معاملے پر قتل کیا، ملزم شیراز نے تحقیقات میں انکشافات کردیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق دوران تفتیش ملزم شیراز نے پولیس کو بتایا کہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو بہانے سے گھر بلوایا اس کے بعد ارمغان تین گھنٹے تک لوہے کی راڈ سے تشدد کرتا رہا۔

مصطفیٰ کی گاڑی میں شیراز اور ارمغان کیماڑی سے ہمدرد چوکی پھر حب پہنچے، حب میں دراجی سے دو کلو میٹر دور پہاڑی کے قریب گاڑی روکی اور ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا پھر ارمغان نے پیٹرول چھڑکا، گاڑی کو آگ لگانے کے بعد وہاں سے تین گھنٹے پیدل چلتے رہے۔

ملزم شیراز نے بتایا کہ سوزوکی والے کو 2 ہزار روپے دے کر دونوں فورکے چورنگی پہنچے، فور کے چورنگی پہنچنے کے بعد رکشے کے ذریعے ڈیفنس اور پھر اوبر سے گھر پہنچے۔

یہ پڑھیں: مصطفیٰ عامر کو قتل کیے جانے کے شواہد مل گئے ہیں، ڈی آئی جی سی آئی اے
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ پولیس چھاپے کے بعد ملزم ارمغان نے ویڈیو بنانے کے لیے گھر بھیجا لیکن پولیس کے خوف سے ویڈیو نہ بناسکا اور فرار ہوگیا۔

واضح رہے کہ آج مصطفیٰ کیس میں پولیس کو جلی ہوئی گاڑی اور لاش ملی تھی۔

پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے تصدیق کی تھی کہ شواہد مل گئے ہیں کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا ہے، کارپٹ سے ملے خون کے نمونے لاش سے ملے نمونوں سے میچ کر گئے ہیں۔

مصطفیٰ عامر نامی نوجوان کے اغوا اور قتل کیس کے سلسلے میں ڈی آئی جی سی آئی اے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 6 جنوری 2025 کو مصطفیٰ عامر لاپتا ہوئے جبکہ سی آئی اے اور سی پی ایل سی نے مل کر کیس کی تحقیقات کیں، شواہد مل گئے ہیں کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ کیس میں پولیس کو گاڑی اور جلی ہوئی لاش مل گئی

مقدس حیدر نے بتایا تھا کہ پولیس نے ڈیفنس میں چھاپہ مارا جہاں سے ایک ملزم ارمغان کو گرفتار کیا ہے، 7 جنوری 2025 کو مصطفیٰ عامر کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا، مقتول کی والدہ کو تاوان کی کال موصول ہوئی تو مقدمہ ہمیں ریفر ہوا، لاش کو ٹھکانے لگانے کیلیے بلوچستان کے شہر حب کے علاقے کا استعمال کیا گیا جہاں دراجی پولیس اسٹیشن کے قریب گاڑی میں لاش رکھ کر آگ لگائی گئی، تھانے کے قریب سے جلی ہوئی گاڑی ملی جسے لاوارث سمجھ کر دفنا دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم ارمغان سے اب تک 54 لاکھ روپے ریکور کر لیے گئے ہیں، اس کی انکم کیا تھی اور اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا تھا تحقیقات ہوں گی، بدقسمتی سے ملزم کا ریمانڈ ہمیں نہیں مل سکا، ہمیں ارمغان کا ریمانڈ مل جاتا تو مزید حقائق بھی معلوم ہوتے، ریمانڈ کی درخواست دی عدالت نے قبول نہیں کی۔

ڈی آئی جی سی آئی اے نے مزید بتایا تھا کہ ارمغان کے گھر سے مصطفیٰ عامر کا موبائل فون ریکور کر لیا گیا ہے، مقتول اور ملزم کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا، مصطفیٰ عامر ارمغان کے گھر پر گیا تھا اور وہاں دونوں میں جھگڑا ہوا تھا، مصطفیٰ عامر کو ارمغان نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
https://urdu.arynews.tv/karachi-defence-mustafa-murder-case/
====================

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے مصطفیٰ عامر اغوا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جن کی جلی ہوئی گاڑی اور لاش 11 جنوری کو بلوچستان کے علاقے حب دریجی سے ملی۔

سی آئی اے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مقدس حیدر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 6 جنوری2025 کو مصطفیٰ عامر لاپتا ہوا، مصطفیٰ کو گاڑی سمیت 6 جنوری کو حب چوکی لے جایا گیا، ملزم ارمغان نے ساتھی کے ساتھ مل کر گاڑی کو آگ لگائی تھی۔

ڈی آئی جی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ 25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو تاوان کی کال ملی، پولیس نے ڈی ایچ اے میں چھاپہ مارکر ملزم ارمغان کو گرفتارکیا۔

مقدس حیدر نے بتایا کہ مصطفیٰ کو قتل کے بعد حب کے علاقے دریجی میں گاڑی سمیت جلا دیا گیا، ریسکیو سروس نے مصطفیٰ کی لاش کو لاوارث قرار دے کر دفنا دیا تھا۔

ڈی آئی جی سی آئی اے نے مزید بتایا کہ مصطفیٰ کی والدہ کو تاوان کی کال ملنے پر کیس ہمیں دیا گیا، ملزم کے گھر سے مغوی کا موبائل فون ملنا تفتیش میں اہم موڑ ثابت ہوا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ قتل کیس کے شریک ملزم شیراز بخاری عرف شاویز کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے ریمانڈ کے لیے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ادھر، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) حب سید فاضل بخاری نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع حب کی تحصیل دریجی سے کار اور لاش 11 جنوری کو ملی تھی، لاش کو لاوارث حالت میں ایدھی کے حوالے کیا گیا تھا۔

مزید کہنا تھا کہ ایدھی کی جانب سے لاش کو لاوارث ڈیکلئیر کر کے دفنایا گیا تھا، اب ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ ملنے والی لاش غلام مصطفی کی تھی

ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزم کے انکشاف کے بعد دوبارہ سے گاڑی کی جانچ کی جا رہی ہے۔
====================

جرائمکراچی ڈیفنس سے اغوا نوجوان مصطفیٰ کی لاش مل گئی، قتل کے بعد اسی کی گاڑی میں جلادیا گیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو اغوا ہونے والے مصطفیٰ عامر کی لاش مل گئی۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والے مصطفیٰ عامرکے معاملے میں نئے حقائق سامنے آگئے۔ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے تصدیق کی کہ مصطفیٰ کے قتل میں اس کا گرفتار دوست ارمغان ہی ملوث ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ مصطفیٰ کو قتل کے بعد اسی کی گاڑی میں حب کے قریب لے جاکر گاڑی سمیت جلادیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کیس سے متعلق دیگر شواہد جمع کیے جارہے ہیں جس کے بعد ملزم ارمغان کا ریمانڈ حاصل کیا جائے گا، واردات میں شامل ارمغان کے دوسرے ساتھی کو بھی گرفتار کیا گیا، شیراز کو گرفتار کیا تو اس کی نشاندہی پر لاش اورگاڑی کی تصدیق ہوئی۔

مقدس حیدر نے بتایاکہ حب کے تھانے میں نامعلوم جلی ہوئی گاڑی اورلاش کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، لاش کوبلوچستان پولیس نے ایدھی کے حوالے کیا، ایدھی نے لاش کو لاوارث سمجھ کردفنا دیا، لاش کو نکالنے کے بعد ڈی این اے سے دوبارہ تصدیق کی جائے گی۔

===============
مصطفیٰ قتل کیس میں امید ہے جج کے ریمارکس پر بھی سزا ہوگی، وزیر اعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ قتل کیس کے ملزم کو عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیوں نہیں کیا، جج صاحب نے پولیس کے بارے میں غیر مناسب ریمارکس کیوں دیے۔

کراچی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کیس کی تحقیقات میں کسی پولیس افسر سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو اس کو سزا کے طور پر نوکری سے نکال دینا چاہیے، لیکن عدالت کے معزز جج نے کیس کی سماعت میں پولیس کے بارے میں جو ریمارکس دیے امید ہے عدلیہ اس پر بھی سزا دے گی۔

کراچی: 6 جنوری سے لاپتہ نوجوان مصطفیٰ کی لاش پولیس کو مل گئی، تفتیشی حکام

انہوں نے کہا کہ پولیس کے لیے نہیں لوگوں کےلیے کام کر رہے ہیں، چاہتے ہیں تھانے آنے والا پولیس سے نہ ڈرے، پولیس کو شہداء سے لے کر ہر چیز کا بجٹ دیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا کہ کراچی والوں کے لیے ماڈل تھانے بنانا چاہتے ہیں، شارع فیصل کے ایک پرانے تھانے کو تبدیل کیا ہے۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ تھانے کو 60 لاکھ روپے کا بجٹ دیا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف جاویدعالم اوڈھو نے بتایا کراچی میں 8 تھانوں کو ماڈل تھانا بنایا گیا ہے۔
=============
زشتہ دنوں پولیس نے مصطفیٰ کی تلاش میں اس گھر پر چھاپا مارا تو ملزم ارمغان نے بھاری اسلحے سے فائرنگ کردی تھی جس سے ڈی ایس پی اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

کراچی: ڈیفنس میں چھاپے کے دوران پولیس پر فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 2 اہلکار زخمی

گرفتاری کے بعد ملزم ارمغان سے تفتیش ہوئی تو اس نے مصطفیٰ کو قتل کرکے لاش ملیر ندی میں پھینکنے کا انکشاف کیا مگر مصطفیٰ کی لاش نہیں مل سکی، جس کے بعد ملزم اپنے ابتدائی بیان سے بھی مکر گیا تھا۔

ملزم کے گھر سے بڑی تعداد میں کمپیوٹرز بھی برآمد ہوئے، جس سے پتا چلا کہ وہ غیر قانونی کال سینٹر بھی چلاتا ہے۔

اس سے قبل ملزم کے گھر سے بڑی تعداد میں ممنوعہ بور کا اسلحہ اور مغوی مصطفی کا موبائل فون بھی مل چکا ہے۔
==========

’میں اپنے حساب سے اس کے ساتھ کھیلوں گا‘ مصطفیٰ عامر کی آخری آڈیو سامنے آگئی
کراچی میں مصطفیٰ قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے مقتول کی آخری آڈیو اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق آڈیو میں مقتول مصطفیٰ نے اپنے دوست رافع سے آخری بار بات کی اور ملزم ارمغان کے گھر پہنچنے کو کہا اور بولا کہ تم جم سے ارمغان کی طرف ہی آجاؤ۔

آڈیو میں مصطفیٰ نے کہا کہ ایسا ہے تو میں بھی اپنے طریقے سے اس کے ساتھ کھیلوں گا۔

واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ملزم شیراز نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ مصطفیٰ کو لڑکی کے معاملے پر قتل کیا گیا۔

شیراز نے پولیس کو بتایا کہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو بہانے سے گھر بلوایا اس کے بعد ارمغان تین گھنٹے تک لوہے کی راڈ سے تشدد کرتا رہا۔

یہ پڑھیں: کراچی: مصطفیٰ عامر کو لڑکی کے معاملے پر قتل کیا، ملزم شیراز کا انکشاف
مصطفیٰ کی گاڑی میں شیراز اور ارمغان کیماڑی سے ہمدرد چوکی پھر حب پہنچے، حب میں دراجی سے دو کلو میٹر دور پہاڑی کے قریب گاڑی روکی اور ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا پھر ارمغان نے پیٹرول چھڑکا، گاڑی کو آگ لگانے کے بعد وہاں سے تین گھنٹے پیدل چلتے رہے۔

ملزم شیراز نے بتایا کہ سوزوکی والے کو 2 ہزار روپے دے کر دونوں فورکے چورنگی پہنچے، فور کے چورنگی پہنچنے کے بعد رکشے کے ذریعے ڈیفنس اور پھر اوبر سے گھر پہنچے۔

یہ پڑھیں: مصطفیٰ عامر کو قتل کیے جانے کے شواہد مل گئے ہیں، ڈی آئی جی سی آئی اے

دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ پولیس چھاپے کے بعد ملزم ارمغان نے ویڈیو بنانے کے لیے گھر بھیجا لیکن پولیس کے خوف سے ویڈیو نہ بناسکا اور فرار ہوگیا۔

یاد رہے کہ آج مصطفیٰ کیس میں پولیس کو جلی ہوئی گاڑی اور لاش ملی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بنگلے پر پولیس نے مغوی مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تھا تو ملزم نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اہلکار زخمی ہوئے تھے لیکن مغوی بازیاب نہیں ہوسکا تھا۔

=========================

جہلم میں 4 رشتے داروں کو قتل کرکے بھاگنے والے 5 برطانوی ایئرپورٹ پر گرفتار
ملزمان کو چند روز قبل ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے بغض تھا، واقعے کے پیچھے ماضی کے کچھ اختلافات بھی تھے —فائل فوٹو: اے ایف پی
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پاکستانی نژاد 5 برطانوی شہریوں کو اس وقت گرفتار کر لیا، جب وہ جہلم میں اپنے 4 قریبی رشتے داروں کو قتل کرنے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ضلع جہلم میں منگلا کینٹ پولیس کے علاقے بھرت گاؤں میں خاندانی جھگڑے کے نتیجے میں ابرار حسین، مطیع الدین، عدیلہ کنول اور سکینہ ارشد کو قتل کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی، اور قتل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی امیگریشن ’اسٹاپ لسٹ‘ پر مشتبہ افراد کی تفصیلات اپ لوڈ کر دیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جمعہ کی رات ڈھائی بجے پرواز ای کے 619 میں سوار ہونا تھا، تاہم اس سے قبل ہی ان کی تفصیلات امیگریشن کے آئی بی ایم ایس سسٹم تک پہنچ چکی تھیں، جس کے بعد انہیں روکا گیا اور منگلا پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے ملزمان کی شناخت 25 سالہ مجتبیٰ ولد کرامت، 22 سالہ مرتضیٰ ولد کرامت، محمد ہارون ولد بشارت، محمد ظہیر اور چوہدری فیصل کے ناموں سے ہوئی۔

شکایت گزار دلاور حسین نے پولیس کو بتایا کہ ان کے اہل خانہ شب برات منانے گاؤں میں ان کے گھر پر جمع ہوئے تھے، جمعرات کی شام 7 بج کر 55 منٹ پر فیصل ولد غلام شبیر، جمیل حسین، ظہیر حسین، مرتضیٰ حسین، مجتبیٰ حسین، ہارون بشارت، یاسر سلیم اور تین نامعلوم افراد پستول اور بندوقوں سے لیس ہوکر ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ پر فائرنگ کی۔

دلاور نے بتایا کہ فیصل نے اپنی والدہ سکینہ ارشد کو گولی ماری، ظہیر نے اپنے بہنوئی ابرار حسین کو گولی ماری، جب کہ ہارون نے اپنی بہن عدیلہ ولد ابرار حسین کو گولی ماری۔

شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ ملزم جمیل حسین نے اپنے بھائی مطرشید کو بھی مارا۔

شکایت گزار کے مطابق سکینہ ارشد، ابرار حسین، عدیلہ اور مطرشید موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جب کہ انہوں نے پناہ لے کر اپنی جان بچائی۔

شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ملزمان کو چند روز قبل ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے بغض تھا، اور قتل کے واقعے کے پیچھے ماضی کے کچھ اختلافات بھی تھے۔

ڈی پی او طارق عزیز سندھو اور منگلا پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 302، 452، 148 اور 149 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
==========================

گوجرانوالہ، مفرور اشتہاری مجرم 14 سال بعد وطن واپسی پر گرفتار
گوجرانوالہ میں قتل کے مفرور اشتہاری مجرم کو 14 سال بعد وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری بدر منیر کو ناروے سے واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتارکیا گیا۔

مجرم کا نام پرویژنل نیشنل آئی ڈنٹیفیکیشن لسٹ میں شامل تھا اسے ایئرپورٹ امیگریشن کلیرنس کے دوران پکڑا گیا۔

بدر منیر نے 2011 میں گجرات عدالت پیشی پر آئے ملزم سرخاں محمد کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

مجرم کو مزید قانونی کارروائی کیلئے گجرات پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

=============
صوابی: بیوی کی ناراضی پر دلبرداشتہ شخص نے 4 بچوں کو ذبح کرکے خودکشی کرلی
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں بیوی کی ناراضی پر دلبرداشتہ شخص نے 4 بچوں کو ذبح کرکے خودکشی کرلی، متوفی پیشے کے اعتبار سے درزی تھا جس کی بیوی ناراض ہوکر میکے گئی ہوئی تھی۔

ڈان نیوز کے مطابق ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ ضلع صوابی کے علاقے یارحسین میں بیوی کی ناراضی سے دلبرداشتہ شخص نے 4 بچوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے ذبح کرنے کے بعد خودکشی کر لی، جاں بحق بچوں میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں، پولیس کے مطابق لاشوں کو یار حسین صوابی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

یار حسین تھانے کے ایس ایچ او عبدالولی نے بتایا کہ اس غیر انسانی حرکت میں ملوث شخص پیشے کے لحاظ سے درزی تھا جس کی بیوی ناراض ہوکر میکے گئی ہوئی تھی۔

ایس ایچ او کے مطابق جرگے کے ایک رکن اول شیر خان نے بتایا کہ بیوی کی ناراضی واقعے کی وجہ بنی ہے جو شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی تھی اور کئی جرگہ ممبران کی درخواستوں کے باوجود گھر واپس آنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

اول شیر خان نے مزید بتایا کہ متوفی نے 2 روز قبل صلح کی تمام تر کوششیں ناکام ہونے کے بعد اپنی 2 سالہ بیٹی کو اپنے رشتہ دار کے ذریعے بیوی کے پاس بھجوایا تھالیکن بیوی نے بچی کو واپس بھجوادیا جس کے نتیجے میں مایوسی کے باعث اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔
=============
کراچی: دوست ہی دوست کا قاتل نکلا، ’مصطفیٰ عامر کی لاش کو گاڑی سمیت جلا دیا گیا‘

گیارہ جنوری کی صبح کراچی کے قریب واقع حب شہر کی حدود کے ویران علاقے میں ایک لاوارث گاڑی اور جلی ہوئی لاش ملی جہاں سے ایک الم ناک کہانی کا آغاز ہوا۔
یہ لاش کراچی سے لاپتا ہونے والے مصطفیٰ عامر نامی نوجوان کی تھی جس کی گمشدگی نے نہ صرف اس کے خاندان کو بے حد پریشان کر رکھا تھا بلکہ پولیس کو بھی پیچیدہ تحقیقات میں اُلجھا دیا۔
لاش کی شناخت نہ ہونے پر حب پولیس نے اسے لاوارث قرار دے کر ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کیا جہاں سے اسے سرد خانے منتقل کردیا گیا۔ اس وقت تک کسی کو علم نہیں تھا کہ یہ کیس اتنی سنگینی اختیار کر جائے گا۔
کراچی میں پولیس کے ہاتھوں ایک ملزم کی گرفتاری کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ حب کے تھانہ دریجی کی حدود سے ملنے والی لاش اور گاڑی مصطفیٰ عامر کی تھی۔
ایس ایس پی حب سید فاضل بخاری کی نگرانی میں گاڑی کی دوبارہ جانچ اور فوررینزک کا عمل شروع ہوا۔
ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے جمعے کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سی آئی اے اور سی پی ایل سی نے مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’8 فروری کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کراچی میں کیے گئے ایک ریڈ کے دوران ایک ملزم گرفتار کیا گیا۔‘
’اس کارروائی میں پولیس کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب گھر کے اندر موجود افراد نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک ڈی ایس پی اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔‘
اس کارروائی میں پولیس مرکزی ملزم ارمغان کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی اور اس کے قبضے سے مغوی کا موبائل فون بھی برآمد کرلیا گیا۔
ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ ملزم ارمغان کے گھر کے قالین پر خون کے نشانات ملے، جو اس بات کی تصدیق کرتے تھے کہ یہاں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے حساس اداروں کی مدد سے مرکزی ملزم ارمغان کے ساتھی شیراز بخاری کو بھی گرفتار کر لیا جس نے مزید تفصیلات فراہم کیں۔

پولیس کو ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا کہ مصطفیٰ عامر اور ارمغان قریبی دوست تھے، تاہم ان کے درمیان کچھ تنازعات بھی چل رہے تھے۔
نیو ایئر کی پارٹی کے دوران دونوں کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔ مصطفیٰ عامر جس رات لاپتا ہوا اسی رات وہ ارمغان کے گھر آیا تھا۔
ارمغان کے گھر مصطفیٰ کی آمد پر دونوں کے درمیان جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور اس دوران ارمغان نے فائرنگ کردی۔ مصطفیٰ عامر کو زخمی حالت میں حب لے جایا گیا جہاں اسے گاڑی سمیت جلا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق لاش کو دریجی تھانے کی حدود میں جلا کر چھوڑ دیا گیا۔
اس سے قبل 6 جنوری کو مصطفیٰ کے لاپتا ہونے کے بعد ان کی والدہ نے 7 جنوری کو ڈیفنس تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی۔
والدہ کے مطابق مصطفیٰ موبائل فون استعمال نہیں کرتا تھا، لیکن انہوں نے خفیہ طور پر ایک موبائل فون اس کی گاڑی میں چھپا رکھا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر بیٹے کا پتا لگایا جا سکے۔
چند روز بعد اغوا کاروں نے مصطفیٰ کی والدہ کو تاوان کے لیے فون کیا۔ اس اطلاع پر کیس انسدادِ اغوا سیل منتقل کر دیا گیا اور سی پی ایل سی نے بھی تفتیش میں شمولیت اختیار کی۔

پولیس اور سی پی ایل سی نے ارمغان کے گھر پر چھاپہ مارا اور اس دوران ارمغان نے فائرنگ کر کے ایک ڈی ایس پی اور ایک کانسٹیبل کو زخمی کر دیا۔
تاہم بعد میں ارمغان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ارمغان نے مصطفیٰ کو جھگڑے کے دوران قتل کر کے لاش کو ٹھکانے لگا دیا تھا۔
مزید تفتیش پر مصطفیٰ کی کار میں رکھا گیا موبائل فون ارمغان کے کمرے سے برآمد ہوا۔ پولیس نے ارمغان سے پوچھ گچھ کے لیے دو دن کی مہلت حاصل کی۔
مصطفیٰ کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے مجرمانہ سُستی کا مظاہرہ کیا اور ارمغان کو وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ارمغان کرپٹوکرنسی کے کاروبار سے وابستہ تھا، اس کے گھر پر چھاپے کے دوران کئی لیپ ٹاپ اور موبائل فونز سمیت دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں۔
=============================

مصطفیٰ عامر کو دوستوں نے قتل کرکے لاش بلوچستان میں جلا دی: کراچی پولیس
پولیس کے مطابق 23 سالہ مصطفیٰ عامر کو ڈی ایچ اے کے ایک گھر میں قتل کرنے کے بعد ملزمان نے آٹھ جنوری کو لاش کو گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر حب میں دھوراجی تھانے کی حدود میں آگ لگا دی تھی۔

امر گرُڑو @amarguriro جمعہ 14 فروری 2025 21:15

کراچی پولیس نے جمعے کو بتایا ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے گذشتہ ماہ چھ جنوری کو لاپتہ ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کو ان کے دوستوں نے قتل کرنے کے دو روز بعد لاش بلوچستان کے شہر حب چوکی کے قریب گاڑی میں رکھ کر اسے آگ لگا دی تھی۔

پولیس کے مطابق 23 سالہ مصطفیٰ عامر کو ڈی ایچ اے کے ایک گھر میں قتل کرنے کے بعد ملزمان نے آٹھ جنوری کو لاش کو گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر حب میں دھوراجی تھانے کی حدود میں آگ لگا دی تھی۔

اس بات کا انکشاف گذشتہ روز مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم ارمغان اور مقتول کے مشترکہ دوست شیراز عرف شاویز بخاری کی گرفتاری کے بعد ہوا۔ مرکزی ملزم کو ارمغان کو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی تھی جبکہ تفتیش کے لیے ان کے دو ملازمین کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مقدس حیدر نے جمعے کی شام ایک پریس کانفرنس میں اس واقعے کی تفصیلات بتائیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کراچی ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس نے نوجوان کی گمشدگی کی رپورٹ پر اس کی تلاش شروع کی اور 25 جنوری کو مصطفیٰ عامر کی والدہ کو تاوان کے لیے فون کال موصول ہونے کے بعد مقدمہ اغوا برائے تاوان میں تبدیل کرکے سی آئی اے کو دے دیا گیا تھا۔

مقدس حیدر کے مطابق: ’اس کیس میں سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) نے بھرپور مدد کی۔ 25 جنوری کو تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد سی آئی اے اور سی پی ایل سی نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں۔

’آٹھ فروری کو پولیس اور سی پی ایل سی نے مشترکہ طور پر ڈی ایچ اے کے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جس کے دوران ملزم نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ڈپٹی انسپکٹر پولیس (ڈی ایس پی) احسن ذوالفقار اور سپاہی زخمی ہوئے، تاہم پولیس نے ملزم ارمغان کو گرفتار کرلیا۔‘

مصطفیٰ عامر کی گمشدگی کے بعد ان کی بازیابی کے لیے ان کی تصاویر اور والدہ کا ویڈیو بیان بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہا (کراچی پولیس)

انہوں نے بتایا کہ ’ملزم کی تحویل سے انتہائی مہنگے ہتھیار ملا۔ اس کے علاوہ لاپتہ مصطفیٰ عامر کا فوبائل فون بھی ملزم کے پاس سے ملا اور گھر کے قالین پر خون کے نشانات ملے، جو دونوں انتہائی اہم ثبوت تھے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پولیس نے گرفتار ملزم ارمغان کا ایک دن کا عدالتی ریمانڈ لیا، تاہم مزید ریمانڈ نہ مل سکا اور بعد میں سی پی ایل سی اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مدد سے مزید تفتیش کی گئی۔‘

سی آئی اے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے مطابق مقدمہ آگے بڑھا تو مرکزی ملزم ارمغان کے دوست اور مقتول کے مشترکہ دوست شیراز عرف شاویز بخاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے پولیس کو اس کیس کے متعلق تمام پہلو اور کرائم سین سے لاش کو ٹھکانے لگانے کی معلومات ملی اور اس نے پولیس کو جو کچھ بتایا، وہی ارمغان کے ان دو ملازمین نے بھی بتایا، جنہیں پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔

مقدس حیدر کے مطابق: ’ملزم شیراز عرف شاویز بخاری نے قتل کا اعتراف کرلیا ہے اور ہفتے (15 فروری) کو انہیں عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ لیا جائے گا۔‘

انہوں نے تفتیش کے دوران ملنے والی معلومات کے حوالے سے بتایا کہ ’مصطفیٰ عامر، ملزم ارمغان اور شیراز تینوں دوست ہیں اور انہوں نے پہلی سے ساتویں جماعت تک ایک ساتھ تعلیم حاصل کی تھی۔ نئے سال کے موقعے پر دوستوں کے درمیان کسی بات پر لڑائی ہوئے تھی۔

’ملزمان کے بیانات کے مطابق چھ جنوری کی رات کو جب مصطفیٰ عامر، ملزم ارمغان کے گھر گئے تو نئے سال پر ہونے والی لڑائی کا ایک بار دوبارہ تذکرہ ہوا اور دوبارہ لڑائی ہوگئی، جس کے دوران مصطفیٰ عامر گولی لگنے سے چل بسے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اسے گاڑی میں ڈال کر حب چوکی کے پاس آگ لگا دی گئی۔‘

مقدس حیدر کے مطابق ایک لاوارث گاڑی جلنے کے واقعے پر حب کے دھوراجی تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا جبکہ دھوراجی پولیس نے لاش کو ایدھی کے حوالے کیا، جسے لاوارث لاش کے طور پر دفنا دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم جلد ہی لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اس بات کی تصدیق کریں گے کہ یہ لاش مصطفیٰ عامر کی ہی ہے۔‘

مصطفیٰ عامر کی گمشدگی کے بعد ان کی بازیابی کے لیے ان کی تصاویر اور والدہ کا ویڈیو بیان بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہا۔

نوجوان کے والد عامر شجاع نے اپنے بیٹے کی گمشدگی کے متعلق گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے ملاقات میں اپنے بیٹے کی بازیابی کے سلسلے میں مدد کی درخواست کی تھی۔