ضلع نوشہرو فیروز میں ایک شخص بلاول زرداری کا قتل ہوا جسکی ورثاء نے ایف آئی آر درج کروائی تھی ورثاء نے مرتضی جتوئی کے خلاف بیان دیا اور انکی گرفتاری عدالت کے حکم پر ہوئی ہے۔

کراچی
مور خہ18فروری 2025
کراچی 18 فروری ۔جی ڈی اے رہنما غلام مرتضی جتوئی کی گرفتاری سے متعلق صوبائی وزیر قانون، داخلہ و پارلیمانی امور ضیاءالحسن لنجار نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ غلام مرتضی جتوئی کی گرفتاری کورٹ آرڈرتحت کی گئی ہے۔ غلام مرتضی جتوئی کے خلاف قتل کا مقدمہ نگراں دور حکومت میں قائم ہوا تھا جس پر انکی گرفتاری عمل میں لائی گئی، وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار کا مزید کہنا تھا کہ ضلع نوشہرو فیروز میں ایک بے گناہ شخص بلاول زرداری کا قتل ہوا جسکی ورثاء نے ایف آئی آر درج کروائی تھی ورثاء نے مرتضی جتوئی کے خلاف بیان دیا اور انکی گرفتاری عدالت کے حکم پر ہوئی ہے۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ایف آئی آر کی نقل اور عدالت کا آرڈر بیان کے ساتھ منسلک ہے انہوں نے کہا کہ جب تک مرتضی جتوئی ضمانت پر تھے تب تک پولیس نے انکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی ضمانت مسترد کی تو پولیس نے عدالت کے حکم کی تعمیل کی، وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ معزز عدالت کے حکم پر ہونے والی گرفتاری انتقامی کارروائی کیسے شمار کی جاسکتی ہے؟ عدالتی حکم کی تعمیل کی حکومت پابند ہے مرتضی جتوئی کیس کو انتقامی کارروائی کہنے والے دراصل عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ ضیاءالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام باشعور ہیں اور وہ پیپلزپارٹی کے شانہ بشانہ ہیں۔ ہم سیاسی انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتے ہم اپنے حریفوں کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے مزید کہا کہ جتوئی خاندان کے خلاف کئی الیکشنز ہوئے مگر پیپلز پارٹی نے کبھی انتقامی سیاسی کارروائی نہیں کی البتہ مرتضیٰ جتوئی کے والد صاحب جب نگران وزیر اعظم تھے تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر بے بنیاد کیسز قائم کیے گیے اور انہیں سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا اس دور میں آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔