
لاہور – حکومت سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کراچی نے ادویات کی ٹیسٹنگ کے دوران ان کو انکشاف ہوا کہ پاکستان میں 7کمپنیاں اہم جعلی ادویات بنا رہی ہیں ان کی نہ ہی رجسٹریشن نمبرز ہیں اور نہ ہی ڈرگ اتھارٹی سے جاری شدہ کوئی مینوفیکچرنگ لائسنس ہے لائسنس کے بغیر کام کرنے والی اتنی بڑی تعداد میں پہلی دفعہ یہ انکشاف ھوا ہے صوبائی ڈرگ انسپیکٹروں کی روٹین سیمپلنگ کی بنا جب ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کے سربرا عدنان رضوی نے فارما کمپنیوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تو ان کو پتہ لگا کہ یہ سات کمپنیاں جعلی ہیں اور ان کا کوئی بھی لائسنس ڈرگ اتھارٹی اسلام اباد سے جاری شدہ نہیں ہے پہلی دفعہ اتنی زیادہ تعداد میں ایک بہت بڑے جعلی ادویات کی تیاری کا انکشاف سامنے ایا ہےماہر فارماسسٹ نور مہر کا بیان جاری
پکڑی جانے والی یہ تمام 7 کمپنیوں کی 8 دوائیں سکھر شکارپور عمرکوٹ اور کراچی جیسے بڑے شہر سے پکی گئی ہیں ادویہ سازی میں اتنی بڑی تعداد میں جعلی کمپنیاں اس منظم انداز سے اتنے بڑے بڑے برینڈز اور ادویات بنا رہے ہیں جو کہ ہمارے ادویات کے نظام پر بہت بڑا سوال پیدا کر رہی ہیں ، ان ادویات کی کھلے عام مارکیٹ میڈیکل سٹورز فارمیسیوں پر دستیابی نے تمام نظام کا پول کھول دیا ہے نظام کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے یہ اتنی بڑی اہم ادویہ سازی کے لحاظ سے اہم سوال ہے کہ اخر یہ نظام چل کیسے رہا ہے ماہر فارماسسٹ نور مہر کے اہم ہوشربا انکشافات
پاکستان میں ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت پاکستان میں ادویات کا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے پاکستان میں کوئی بھی فارمسی یا میڈیکل سٹور کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی دوائی وہ بیچنے سے پہلے اس دوا کی قیمت اس کی مینوفیکچرر تفصیل کسی کمپنی نے یہ دوا بنائی ہے اور یہ ایا کہ یہ دوائی رجسٹر ہے کہ نہیں ہے لیکن عملی طور پر ایسا میڈیکل سٹورز پر نہیں ہو رہا، جال سازی کا یہ دھندھ کتنے سالوں سے چل رہا ہے ، نور مہر ماہر فارماسسٹ وکیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خیبر پختون خواہ پنجاب میں تو صورتحال قدر بہتر ہے لیکن سندھ میں حالات انتہائی خراب ہیں سندھ میں صرف ڈائریکٹر ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کے سربراہ عدنان رضوی نے صرف ہمت کی ہے اور یہ حادثاتی طور پہ اتنی کمپنیاں سامنے انا انتہائی انتہائی ہمارے ڈرگ اتھارٹی کے نظام کے لیے سوالیہ نشان ہے ، پنجاب میں 6 ڈرگ ٹیسٹنگ لیبٹریز اور ایک اسلام اباد میں کام کر رہے ہیں جبکہ پورے سندھ میں صرف ایک ڈرگ کورٹ ہے اور ایک ڈرگ ٹیسٹنگ صوبائی لیب ہے ایک مرکزی CDL لیب ہے
صوبہ سندھ میں نہ فارمیسی کونسل مناسب کام کر رہی ہے اور نہ ہی وہاں پہ صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ مناسب کام کر رہا ہے پی کیو سی بی کی سالوں سال میٹنگز نہیں ہوتی اور نہ ہی ڈرگ کورٹ کو پی کیو سی بی اپنے کیسز بھیج پاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبے میں ڈرگ انسپیکٹرز پورے نہ ہونے کی وجہ سے اور جعل ساز اور کرپشن سسٹم کی وجہ سے سندھ جال سازوں کی جنت بن چکا ہے , سندھ صوبے میں سیاسی اثرات اور خاص طور پر پیپلز پارٹی ایم کیو ایم جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی جعل سازوں کو پناہ دینے اور ان کے تحفظ دینے کی وجہ سے ڈرگ انسپیکٹر مناسب طور پر کام نہیں کر پاتے اور ان کی تعداد بھی باقی صوبوں کی نسبت بہت کم ہے اس صوبے میں جعل سازی بڑھنے کی ایک سب سے بڑی وجہ کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسییشن ہے ان کی طاقتور یونین سازی کی وجہ سے ڈرگ انسپیکٹروں کو صرف ماہانہ بھتہ دیا جاتا ہے اور سیاسی اثراسوخ کی وجہ سے یونین سازی کی وجہ سے کوئی بھی ڈرگ انسپیکٹر براہ راست میڈیکل سٹور یا فارمیسی یا فارما کمپنی پر چھاپہ نہیں مار پاتا ,
ماہر فارماسسٹ نور مہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کی یہ ڈائریکشن کے براہ راست چوروں اور جعل سازوں کے خلاف کاروائی صوبائی حکومت نہیں کر سکتی یہ انتہائی حیران کن ہے سندھ صوبہ کی ہائی کورٹ کی ڈائریکشن ہے کہ لازما صوبائی کوٹی کنٹرول بورڈ پہلے اس کی منظوری دے گا کہ کس جعلی اور دو نمبر کمپنی کے خلاف کاروائی کرنی ہے پی کیو سی بی کی منظوری کے بغیر سندھ میں کوئی ایف ائی ار چوروں کے خلاف نہیں ہو سکتی جبکہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں ڈرگ انسپیکٹر اور سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر کو یہ تحفظ حاصل ہے کہ ڈرگ چیف انسپیکٹر اگر چاہے تو اس کی منظوری اور اس کی درخواست پر ایف ائی ار درج کی جا سکتی ہے کسی بھی جعل سازی کے اہم ہونے پر جبکہ سندھ میں وفاقی ڈرگ ریگوٹری اتھارٹی کی کارگردگی بھی مایوس کن ہے پاکستان کی 70 فیصد فارماسیوٹیکل انڈسٹری کراچی اور سندھ میں ہے کرپشن اور اقربہ پروری کے باٹا ریٹ فکس ریٹ کی وجہ سے سندھ جعل سازوں کی جنت ہے نور مہر صدر پاکستان ڈرگ لائرز فورم
سندھ میں پکڑی جانے والی یہ سات کمپنیاں جن کی 8 پروڈکٹ ادویات ہیں اس میں نشہ اور ادویات اور بچوں کے سیرب اور جعلی اینٹی بائوٹکس کی بہتات ہے لیکن یہ بات سمجھ سے قاصر ہیں ہم کہ اخر ایک نشہ ادویات جن کی ایک ایک گولی کا حساب رکھنا ہوتا ہے تو اینٹی نارکوٹس فورس اے این ایف کہاں پہ ہے ادویات کی مزید تفصیل کچھ اس طرح ہے
1. Eyosef (Cephradine)
کو کان، ناک، اور گلے کے مختلف انفیکشنز کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایو سیف سیفراڈین یہ جعلی دوا بنانے کی کمپنی کا نام ایسٹ فارماسوٹیکل ہے جو 19 کلومیٹر شیخوپورہ روڈ لاہور کا پتہ درج ہے
2. Cefixime 100mg/5ml
ایک اینٹی بائیوٹک، مختلف قسم کے بیکٹیریل انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سیفالوسپورن اینٹی بائیوٹک کے نام سے مشہور ہے یہ جالی دوا الپائن لبٹریز پلاٹ نمبر 41 اے سائٹ نارتھ کراچی کا پتہ درج ہے اور جعلی لائسنس 878 درج کیا گیا ہے جس کا کوئی ریکارڈ ڈرگ اتھارٹی میں دستیاب نہیں ہے
3. Milixime )Bromazepam گولی
یہ دوا نیند کے مسائل جیسے بے خوابی کے علاج میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ تناؤ, یہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے یہ جالی دوا منوکس لنگ فارماسوٹیکل سائٹ پلاٹ نمبر 11 کورنگی کراچی کا پتہ درج ہے اس دوا کا اور اس کمپنی کا ڈرگ ریگوٹی اتھارٹی اف پاکستان اسلام اباد میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے
4۔ مرزپام mirzpam سفق زائم اینٹی بائیوٹک دوا یہ کمپنی بناتی ہے یہ میرز میراث فارما پلاٹ نمبر 23 انسٹل سٹیٹ قصور پنجاب کی یہ کمپنی ہے
5.Bromalax 3mg (Bromazepam)
یہ دوا نیند کے مسائل جیسے بے خوابی کے علاج میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ تناؤ, یہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ پیشگی سرجری, کچھ مریضوں دی جاتی ہے یہ دوا پوم فارماسوٹیکلز 220 ورشل سٹیٹ حیات اباد پشاور کی بنی ہوئی ہے جس پہ جعلی رجسٹریشن نمبرز لکھے ہوئے ہیں
7. ذِونےش Zionex
الپرازولم ایک بینزودیازپائن ہے جسے ڈاکٹر عام اضطراب اور گھبراہٹ نیند میں کمی کے عوارض کے علاج کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ یہ صرف ڈاکٹر نسخے کی دوا ہے اس دوا کی ایک ایک گولی کا حساب رکھنا ضروری ہوتا ہے اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے انڈر بھی یہ دوا اتی ہے یہ دوا بنانے والی کمپنی ملٹی کیئر فارماسیوٹیکلز پلاٹ نمبر 23 کورنگی انڈسٹریل سٹیٹ کراچی کی ہے اور اس پہ جعلی رجسٹریشن نمبر اور کمپنی رجسٹریشن نمبر لکھا ہوا ہے ۔























