
گلشن معمار،گھر کے باہر کھڑی خاتون قتل
کراچی( اسٹاف رپورٹر )گلشن معمار کے علاقے میں گھر کے باہر کھڑی خاتون کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ،لانڈھی میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے خاتون زخمی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق گلشن معمار تھانے کی حدود نور محمد گوٹھ میں فائرنگ سے خاتون جاں بحق ہوگئی جس کی لاش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں مقتولہ کی شناخت 40سالہ صلحانہ زوجہ خیر اللہ کے نام سے ہوئی۔پولیس نے بتایا کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔ مقتولہ گھر کے باہر کھڑی تھی کہ نامعلوم ملزمان نے اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے ۔ مقتولہ کو دو گولیاں لگی ہیں۔ سکھن تھانے کی حدود بھینس کالونی شہریار ٹاؤن میں فائرنگ سے 50 سالہ خاتون جویریہ زوجہ قربان علی زخمی ہوگئی جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ۔ پولیس کے مطابق واقعہ جھگڑے کے دوران پیش آیا ۔
======================
تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے دعویدار سے بشریٰ بی بی حلال کرپشن کرواتی رہیں: عظمیٰ بخاری
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ چار سال تک کوچ اور پیرنی نے بانیٔ پی ٹی آئی کو بیوقوف بنایا، تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے دعویدار سے بشری بی بی حلال کرپشن کرواتی رہیں۔
عالمی جریدے کی بشریٰ بی بی سے متعلق خصوصی رپورٹ پر عظمیٰ بخاری نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جریدے کی بشریٰ بی بی پر رپورٹ 100 فیصد درست اور حقائق کے مطابق ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بعد بشریٰ بی بی کے کارناموں کے چرچے عالمی میڈیا میں ہو رہے ہیں، رپورٹ نے جعلی پیرخانے اور روحانیت میں چھپی شیطانیت سے پردہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنکی، گوگی، کوچ اور بزدار نے مل کر بانی پی ٹی آئی کو چار سال ڈگڈی پر نچایا، جادو ٹونے سے جعلی پیرخانے چلتے ہیں، ملک اور معیشت نہیں چلتے۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی بشری بی بی پر خصوصی رپورٹ، عمران کی شادی اور انداز حکمرانی پر سوالات اٹھ گئے
عظمیٰ بخاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ مخالفین کو دیوار میں چنوانے والوں کی روحانیت تین سال سے دفن ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور رانا ثناءاللّٰہ کو بشریٰ بی بی کی فرمائش پر مینٹل ٹارچر کیا جاتا تھا، آج مریم نواز کی حکومت میں بشریٰ بی بی کو جیل میں بی کلاس کی سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں، یہ اپنا اپنا ظرف ہے۔
=======================
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ، عمران کی شادی اور انداز حکمرانی پر سوالات اٹھ گئے
برطانوی جریدے ’The Economist‘ نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں تہلکہ خیر انکشافات کیے گئے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں ایک کردار ایسا ہے جو منظرِ عام پر کم نظر آیا لیکن اُس کا پسِ پردہ اثر و رسوخ موضوعِ بحث بنا رہا۔ پاکستان کے حساس ادارے کی بشریٰ بی بی میں دلچسپی کی پہلی علامت اُن کی عمران خان کے ساتھ خفیہ شادی کے فوراً بعد سامنے آئی۔
حساس ادارے کے عمران بشریٰ تعلق سے فائدہ اٹھانے کے اشارے
’دی اکنامسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ حساس ادارے نے یہ رشتہ نہیں کروایا تھا لیکن ایسے اشارے ضرور موجود تھے کہ ادارہ اس تعلق سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔
بعض مبصرین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے جنہیں بشریٰ بی بی عمران خان کے سامنے اپنی ’روحانی بصیرت‘ سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کو نہایت باریک مگر مؤثر طریقے سے استعمال کیا، حساس ادارہ اپنے ایک افسر کے ذریعے آئندہ ہونے والے واقعات کی معلومات بشریٰ بی بی کے کسی پیر تک پہنچاتا جو اُسے آگے بشریٰ بی بی تک منتقل کرتا اور یہ انفارمیشن بشریٰ بی بی عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں، جب وہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا اپنی اہلیہ کی بصیرت پر یقین مزید پکا ہو جاتا۔
رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے کردار پر اختلاف صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں تھا، فوجی قیادت کے ساتھ عمران خان کے تعلقات بھی ایک مرحلے پر شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، بعض سینئر اہلکاروں حتیٰ کہ جنرل باجوہ کو بھی شکایت تھی کہ عمران خان اپنی اہلیہ کی بات زیادہ سنتے ہیں، یہی وجہ تھی کہ 2019ء میں اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل عاصم منیر کی برطرفی کو بھی بشریٰ بی بی سے جوڑا جاتا ہے۔
بشریٰ بی بی اور جادو ٹونے کی بازگشت
عمران خان کے ڈرائیور اور گھر کے سابق ملازمین نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں جیسے کہ عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، لال مرچیں جلانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھنکوانا اور کبھی کبھار زندہ سیاہ بکرے منگوانا، علاقے کے قصائی نے بھی ایسے آرڈرز کی تصدیق کی۔
جہانگیر ترین بشریٰ بی بی کی ملاقات
’دی اکانومسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ایک رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالا جادو کرتی ہیں تاہم پی ٹی آئی نے اِن باتوں کو ناراض ملازمین کی پھیلائی ہوئی بےبنیاد کہانیاں قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے بعد ایک دعوت میں جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے خود جہانگیر ترین سے کہا کہ اُنہوں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ اِنہیں کالے جادو والی عورت نہ سمجھیں۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ اُنہوں نے اسی رات سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی میں اِن کا مستقبل نہیں اور بعد میں پارٹی چھوڑ دی۔
جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ تاثر پھیل گیا کہ اگر کسی نے بشریٰ بی بی پر تنقید کی تو وہ پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔
عون چوہدری کی عہدے سے برطرفی
عون چوہدری بھی اسی وجہ سے زیرِ عتاب آئے، عمران خان نے اِنہیں حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
عمران کا سیاسی فیصلوں میں بشریٰ بی بی سے رائے لینے کا انکشاف
گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان سیاسی اور سرکاری فیصلوں سے پہلے بشریٰ بی بی سے رائے لیتے تھے اور اِن کے کہنے پر لوگوں کی تصاویر بھیج کر چہرہ شناسی کرواتے تھے، یہاں تک کہ ایک بار فلائٹ چار گھنٹے تک رکی رہی کیونکہ بشریٰ بی بی کے مطابق اُڑان کا وقت موزوں نہیں تھا۔
’دی اکنامسٹ‘ نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے اِن کی صرف ذاتی زندگی نہیں بلکہ اِن کے اندازِ حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔
سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ’روحانی مشاورت‘ کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی اور نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔
خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ کا بیان
دوسری جانب برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کی خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران بتایا کہ بشریٰ بی بی کی اسٹوری پر رپورٹ تیار کرتے وقت اِنہیں کئی حیران کن معلومات ملیں۔
اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی نے روحانیت کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا اور اسی تناظر میں وہ بانیٔ پی ٹی آئی پر اثر انداز ہوئیں۔
اِن کا کہنا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا اور ان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا مرکزی کردار رہا۔
بشریٰ تسکین نے مزید کہا کہ رپورٹ کی تیاری کے دوران ’کالے جادو‘ سے متعلق الزامات کو ادارے اور عملے کو سمجھانا مشکل تھا، جو ثبوت جمع کیے اس کے بعد ہمارے لیے ادارے اور لوگوں کو سمجھانا آسان ہو گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا حکومتی اداروں کے روز مرہ کے کام، تقرری تبادلے ہر چیز جادو اور علم کی بنیاد پر ہو رہی تھی، ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کا وزیرِاعظم اپنی حکومت کے فیصلے جادو اور خیالات کی بنیاد پر کر رہے تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی ایک پیرنی سے شادی کی خبر اِن کے لیے حیران کُن تھی اور سیاسی تجربے کی کمی کے باعث بشریٰ بی بی جلد ہی ایکسپوز ہو گئیں۔
اُنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے کہا بشریٰ بی بی کے پاس کوئی طاقت ہوتی تو پی ٹی آئی اور بانیٔ پی ٹی آئی کا وہ حال نہ ہوتا جو ہوا۔
’دی اکانومسٹ‘ کی اس خبر پر جیو نیوز نے بشریٰ بی بی کا موقف لینے کے لیے اِن کے قریبی حلقوں سے رابطہ کیا جنہوں نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
واضح رہے کہ 2022ء میں اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کے خلاف متعدد مقدمات قائم ہوئے، آج دونوں جیل میں ہیں، پی ٹی آئی کے کچھ رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کو فوج کے ساتھ مصالحت پر آمادہ کر سکتا ہے تو وہ بشریٰ بی بی ہی ہیں جو فوج سے مصالحت کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں لیکن عمران خان کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ اِن کی بہن علیمہ خان سمیت پارٹی کے سخت گیر عناصر مصالحت کے خلاف ہیں۔























