انہیں روبوٹک سرجری میں مقام حاصل تھا

جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر شاہد رسول انتقال کرگئے
15 نومبر ، 2025
کراچی – پاکستان کے ممتاز سرجن، معروف طبی ماہر اور جناح اسپتال کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر شاہد رسول جمعہ کے روز حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی عمر59برس تھی۔ پروفیسر شاہد رسول ملک کے نمایاں سرجنز میں شمار ہوتے تھے، انہیں روبوٹک سرجری میں مقام حاصل تھا، وہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر بھی رہ چکے تھے جبکہ حال ہی میں انہیں رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز گلاسگو میں بطور پاکستان مشیر ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ انہوں نے 1994 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس مکمل کیا اور پھر جناح اسپتال سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے پوری زندگی خدمات سرانجام دیں۔ بعدازاں انہوں نے ایف سی پی ایس سرجری میں کیاور رائل کالج آف سرجنز سے اعلیٰ سرجیکل ٹریننگ مکمل کی۔ تقریباً تین دہائیوں کے دوران انہوں نے ہزاروں مریضوں کا علاج کیا، درجنوں نوجوان سرجنز کی پیشہ ورانہ تربیت کی اور جناح اسپتال کی انتظامی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر شاہد رسول کی نمازِ جنازہ ہفتے کو نمازِ ظہر کے بعد جناح اسپتال کی مرکزی مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں ہو گی۔ پروفیسر شاہد رسول کے انتقال پر طبی، تعلیمی اور سرکاری حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر نے اپنے تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی طبی، تدریسی اور انتظامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
(بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر)
==================

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا مستعفی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کے مستعفی ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور اب لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا، اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کے باوجود 26 ویں ترمیم کے ذریعے جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے محروم کر دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے، میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں کیوں کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں، 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بے بس ہوگیا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا، استعفے کے متن میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا، ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں، آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا، تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔

==================

صدر مملکت نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے,جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا. جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تجویز کردہ شقوں کا ہمارے آئینی نظام پر کیا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرآنے والی نسلیں انہیں کسی مختلف نظر سے دیکھیں گی، تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے سپریم کورٹ جج کے عہدے سے رسمی استعفیٰ پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا۔