اسحاق ڈار نے دوہزار میں منی لانڈرنگ کا جو اعتراف کیا تھا کیا اس وقت ان کا کیا وہ ضمیر جاگا تھا


سینیٹر مشال یوسفزئی نے گزشتہ روز اسحق ڈارکے بیان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کل انہوں نے ہاؤس فلورنگ کو سپورٹ کیا اسحاق ڈار نے دوہزار میں منی لانڈرنگ کا جو اعتراف کیا تھا کیا اس وقت ان کا کیا وہ ضمیر جاگا تھا
سینٹ میں گزشتہ روز نکتہ اعتراض پر مختلف ارکان نےاظہار خیال کیا اور سپریم کورٹ کے دو ججز کے استعفے ، خواجہ آصف کے مساجد ومدارس بارے بیان پر تنقید کی ،انوشہ رحمن نےمستعفی ہونے والے ججوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کل سپریم کورٹ سے دو ججز کے استعفے آئے استعفوں کا مواد سیاسی تھا، سپریم کور ٹ کو خود جو کام کرنا چاہیے تھا وہ کام پارلیمان نے کیا، پارلیمان نےقآنون سازی کی اس پر استعفی دیا، دس سال سے فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا تھا ،بہتر ہوتا کہ وہ اجلاس ہوتا اور خود اقدامات کئے جاتے،2016 سے ایک طریقہ کار چل رہا تھا ،پارلیمان نے اس تباہی کو روکا2017سے صرف وہی بینچز بنتے رہے جو چند ججز پر مشتمل تھے ،کچھ ایسے ججز بھی تھے جو کبھی ان پینچز کا حصہ ہی نہیں بنے، پانامہ کیس میں بھی وہی تھے، نواز شریف نااہل ہوئے اس میں بھی وہی تھے،ڈیم فنڈ کے پیسے کہا ں ہیں کسی کو پتا ہے، آپ اپنی غلطیوں کی وجہ سے استعفی دیتے ہیں تو آپ کے پنشن لینے کا کیا جواز ہے، کیا سپریم جوڈیشل کمیشن مستعفی ہونے والے جج کو ریٹائر ہونے والے جج کی طرح ٹریٹ کریگا، ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان شور مچاتے رہے۔مولانا عطاالرحمن نے گزشتہ روز سینٹ میں خواجہ آصف کے مساجد اور مدارس سے متعلق ا بیان پر شدید تنقید کی، انہوں نے کہا کیا خواجہ آصف کو صرف مساجد اور مدارس غیر قانونی نظر ا ٓرہے ہیں ،کیا ان کو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور مارکیٹیں نظر نہیں آرہیں، انہوں نے کہاستائیسویں آئینی ترمیم کی اتنی جلدی کیا تھی لوگوں کو ان کا مطالعہ تو کرنے دیتے، انہوں نے کہا کہایک جنڈر بل آ رہا ہے، اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لی جائے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خواجہ آصف کو معلوم ہونا چاہئےمساجد ایک بار بن جائیں تو وہ مصلے تبدیل نہیں کئے جاتے، دو ججز کے استعفوں کی بات ہوئی ، اعتراض کیا جا رہا ہے کہ یہ پنشن کیوں لیں گے کوئی کالا کوٹ پہن کر ا ٓجاتا تھا اور کیس کرتا تھا، انہوں نے کہا کہہ مزید استعفی ائیں گے ابھی لوگ ستائیسویں آئینی ترمیم کا مطالعہ کر رہے ہیں،سینیٹر مشال یوسفزئی نے گزشتہ روز اسحق ڈارکے بیان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کل انہوں نے ہاؤس فلورنگ کو سپورٹ کیا اسحاق ڈار نے دوہزار میں منی لانڈرنگ کا جو اعتراف کیا تھا کیا اس وقت ان کا کیا وہ ضمیر جاگا تھا، سینتر فلک ناز نے جو کہ چترال سے تعلق رکھتی ہیں نے چترال کے مسائل پر حکومتی بے حسی کا زکر کیا اور کہاکہ وہان انٹرنیٹ نہیں نوجوان مایوس ہیں ۔

=============================

==============

بلوچستان اسمبلی نے شدید ہنگامہ آرائی کے باوجود بچپن کی شادی کی ممانعت سے متعلق ’چائلڈ میرج پروہبیشن بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق بل پیش کرنے اور منظوری کے دوران ایوان میں گرما گرم صورتحال پیدا ہو گئی، اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی اور شور شرابا کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت اجلاس کا آغاز بچپن کی شادی پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پیش کرنے سے ہوا۔

بل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف یونس زہری (جے یو آئی ف) نے کہا کہ یہ قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف ہے اور صرف ایک غیر سرکاری تنظیم کو خوش کرنے کے لیے لائی جا رہی ہے، اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شریعت کورٹ اس معاملے میں اعلیٰ ترین اتھارٹی ہے اور اس کا فیصلہ پہلے ہی آگیا ہے۔

یونس زہری نے احتجاجاً ایجنڈے کی دستاویزات پھاڑ دیں، بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن ارکان احتجاج جاری رکھتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہےم شور شرابے کے باوجود چائلڈ میرج پروہیبیشن بل اسمبلی سے منظور ہو گیا۔

اپوزیشن کے ایم پی اے اصغر ترین نے کہا کہ اگرچہ بل منظور ہو چکا ہے، اپوزیشن اسے عدالت میں چیلنج کرے گی، اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اجلاس میں پنجگور کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تقسیم میں تاخیر، گوادر میں کھیلوں کی سرگرمیوں اور فنڈنگ، متعدد نکاتِ اعتراض اور محکمہ جاتی سوالات پر بھی بات ہوئی، تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث تین قراردادیں پیش نہ کی جا سکیں۔

عرفان صدیقی اور آغا سراج کے انتقال پر تعزیت
ایوان نے سینیٹر عرفان صدیقی اور آغا سراج درانی کے انتقال پر تعزیت کی، اور ارکان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

قائدِ حزبِ اختلاف یونس زہری نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات پر اپنے منصوبوں کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، جس سے ان کے اور اسمبلی کے استحقاق کو نقصان پہنچا۔

اسپیکر نے رولنگ دی کہ اگلے اجلاس میں مناسب جواب دیا جائے گا اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بچپن کی شادی پر پابندی کے بل کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے آئینی اختیار کو پھر سے واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی حکومت کا آئینی حق ہے، اور آج صوبائی اسمبلی نے یہ حق استعمال کیا ہے، بل کثرت رائے سے منظور ہوا ہے، جو جمہوری عمل کی مضبوطی کی علامت ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور حکومت اس کا احترام کرتی ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ بات چیت اور مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر قانون سازی ہمیشہ عوام کے بہترین مفاد میں کی جاتی ہے، بل 6 ماہ تک کمیٹی کے جائزے میں رہا اور کابینہ سے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اتفاقِ رائے پر مبنی قانون سازی کو ترجیح دیتی ہے اور ہر بل وسیع مشاورت اور شفاف عمل کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ بگٹی نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی اور فلاح کے لیے سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہی ہے اور قانون سازی کا عمل بلا رکاوٹ جاری رہے گا۔

بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس 17 نومبر تک ملتوی کر دیا۔