پاکستانی نژاد امریکی نوجوان دوستی کے مستقل سفیر بن سکتے ہیں، سفیر رضوان سعید شیخ


واشنگٹن: امریکہ کی ہارورڈ گریجویٹ اسکول آف ایجوکیشن میں پاکستان اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (PSA) کے ساتھ ایک نشست میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستانی نژاد امریکی طلبہ اور نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کریں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں اور بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیوں کو اعتماد اور شواہد پر مبنی تجزیے کے ساتھ سمجھیں۔

یہ نشست، جس کا مرکزی موضوع خارجہ تعلقات، نئی ٹیکنالوجی اور دوطرفہ روابط تھے، سوال و جواب اور کھلی گفتگو پر مشتمل رہی۔ اس پروگرام میں طلبہ، بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پیشہ ور، شخصیات اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عمار احمد اتوزئی نے بھی شرکت کی۔

سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے 30 سالہ سفارتی تجربے کی بنیاد پر پاکستان کے عالمی کردار کو تاریخی اور اسٹریٹجک تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے پاک۔امریکہ تعلقات کو ’’پاکستان جتنے پرانے‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات سرد جنگ اور افغان تنازع کے دور کے سکیورٹی اتحادوں سے نکل کر آج ایک مضبوط معاشی شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

امریکہ اور چین سے پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ دونوں کے ساتھ پاکستان کے روابط اپنی اپنی نوعیت کے فوائد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ہمیشہ متوازن سفارت کاری اپنائی ہے اور ملک کی جغرافیائی حیثیت اسے جیوپولیٹیکل اور جیو اکنامک طور پر منفرد مقام دیتی ہے۔

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر نے پاکستان کی نوجوان آبادی، جس کا 65 فیصد حصہ 30 برس سے کم عمر ہے، کو ’’ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ نوجوانوں کی ایسی افرادی قوت تیار کی جائے جو AI، IT اور کرپٹو میں مہارت رکھتی ہو۔

انہوں نے بتایا کہ علاقائی عدم استحکام کے باوجود پاکستان فری لانسنگ اور کرپٹو کے استعمال میں عالمی سطح پر سرفہرست تین ممالک میں شامل ہے اور حکومت نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے مالی، فزیکل اور قانونی سہولتوں سمیت AI کے شعبے میں سازگار ماحول فراہم کرنے کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات کرتے ہوئے سفیر نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ’’ملک کے مستقل سفیر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ڈائیسپورا پاکستان کی مثبت تصویر اور تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی شناخت پر فخر کریں، اپنی بہترین صلاحیتیں سامنے لائیں اور اپنی مادرِ وطن کی بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا: ’’دنیا کو پاکستان کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیں۔‘‘

آخر میں سفیر نے PSA کے عہدیداران کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستانی طلبہ کے ساتھ کھلی اور بامقصد گفتگو کا موقع فراہم کیا۔