
PTIکے سیف اللّٰہ ابڑو اور JUI کے احمد خان آج بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دینگے؟
13 نومبر ، 2025
اسلام آباد (ممتاز علوی )پیر کے روز سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کیلئے پارٹی سے انحراف کرنے والے پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے احمد خان، کے حوالے سے قوی امکان ہے کہ آج (جمعرات) کو جب ترامیم شدہ قانون سازی کو دوبارہ ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا تو وہ حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت یقینی بنانے میں دوبارہ مدد کریں گے۔96 رکنی ایوان میں، دو تہائی اکثریت 64 سینیٹرز پر مشتمل ہوتی ہے، جو آئینی ترمیم کو سینٹ سے منظور کرانے کے لیے لازمی ہے۔ پی ایم ایل (ن) کے عرفان الحق صدیقی انتقال کر چکے ہیں جو ترمیم منظور ہونے کے وقت شدید علیل تھے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین سینٹ اپنا ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکتے، جبکہ بظاہر اپوزیشن پارٹی – عوامی نیشنل پارٹی – کے تین ووٹ انتہائی اہم تھے لیکن پھر بھی مزید دو ووٹوں کی ضرورت تھی، جو ابڑو اور احمد خان کی طرف سے آئے، جنہیں پارٹی سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ایک بار پھر، ان دونوں سینیٹرز کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی بھی اس قانون سازی کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے رابطہ کرنے پر دی نیوز کو بتایا کہ ابڑو کو 27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔
============================
قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظور ی دے دی
نیوز ڈیسک
November 12, 2025
اسلام آباد:قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظور ی دے دی ۔ترمیم کے نتیجے میں چاروں صوبوں کی نمائندگی سے وفاقی آئینی عدالت قائم ہو گی ۔صدر مملکت اور گورنر کو اپنی مدت کے دوران کئے گئے فیصلوں پر تاحیات عدالتی استثنیٰ حاصل ہو گا۔
آئین کی 243 شق میں ترمیم کی منظوری سے ستائیس نومبر سے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفنس کا عہدہ بھی ہو گا۔شاندار کامیابی کے اعتراف کی صورت میں مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے ٹائٹل متعارف کرائے گئے ہیں۔ تینوں ٹائٹل عمر بھر کے لئے ہوں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ سے منظور ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے”دستور ستائیسویں ترمیمی بل 2025″ کی 59شقوں کی شق وار منظوری لی۔
قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دو تہائی اکثریت سے 234 ارکان کے ووٹ سے حاصل کی ۔ اس موقع پر قائد ایوان وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی ایوان میں موجودرہے اپوزیشن کے 4 ارکان نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کوبتایا کہ دستور عدالت کے قیام کے بعد چیف جسٹس کے عہدے کے حوالے سے وضاحت کردی گئی ہے۔
وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی منظور ی کے بعد ایوان کو مبارک باد پیش کی جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی 13نومبر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردی گئی ۔























