چار پانچ مہینے کے لئے قومی حکومت بنا لیں۔- اگرآپ حملہ آور ہوں گے آئین پرتوہم آپ کا ہا تھ پکڑیں گے۔- تیسرا راستہ دما دم مست قلندر کا ہے

پختونخو املی عوامی پارٹی کے سر براہ محمود خان اچکزئی نے 27ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی‘بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایوان عوام کا نمائندہ نہیں‘فارم 47کی حکومت کیسے آئینی ترمیم کرسکتی ہے ؟؟قومی حکومت بنائی جائے‘ اس ایوان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 6 ہزار ووٹوں سے ہار رہا تھا جسے کہا گیا ’آپ کو بنا دیتے ہیں‘ لیکن اس نے منع کردیا، اسی طرح ایک اور آدمی نے بھی منع کردیا‘یہ پارلیمنٹ یہ حکومت قاتلوں کی حکومت ہے ۔ آپ نے ڈی چوک میں ہمارے بچوں کو گولیاں ماری ہیں‘آپ نے مینڈیٹ چوری کیا۔کیا ایسی پارلیمنٹ کو ترمیم کا حق دیا جاسکتا ہے؟؟ اس ہاؤس کی مضبوطی کے لئے جو بھی ترمیم لائیں گے غیر مشروط ہماری سپورٹ ہے لیکن اگرآپ حملہ آور ہوں گے آئین پرتوہم آپ کا ہا تھ پکڑیں گے۔ہم ملک گیر تحریک چلائیں گے ‘ آپ کانوں میں روئیاں ڈالیں گے آپ کو خوف ہے بانی پی ٹی آئی سے۔ تیسرا راستہ دما دم مست قلندر کا ہے۔چار پانچ مہینے کے لئے قومی حکومت بنا لیں۔

============================

قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظور ی دے دی

اسلام آباد:قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظور ی دے دی ۔ترمیم کے نتیجے میں چاروں صوبوں کی نمائندگی سے وفاقی آئینی عدالت قائم ہو گی ۔صدر مملکت اور گورنر کو اپنی مدت کے دوران کئے گئے فیصلوں پر تاحیات عدالتی استثنیٰ حاصل ہو گا۔

آئین کی 243 شق میں ترمیم کی منظوری سے ستائیس نومبر سے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفنس کا عہدہ بھی ہو گا۔شاندار کامیابی کے اعتراف کی صورت میں مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے ٹائٹل متعارف کرائے گئے ہیں۔ تینوں ٹائٹل عمر بھر کے لئے ہوں گے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ سے منظور ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے”دستور ستائیسویں ترمیمی بل 2025″ کی 59شقوں کی شق وار منظوری لی۔

قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دو تہائی اکثریت سے 234 ارکان کے ووٹ سے حاصل کی ۔ اس موقع پر قائد ایوان وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی ایوان میں موجودرہے اپوزیشن کے 4 ارکان نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کوبتایا کہ دستور عدالت کے قیام کے بعد چیف جسٹس کے عہدے کے حوالے سے وضاحت کردی گئی ہے۔

وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی منظور ی کے بعد ایوان کو مبارک باد پیش کی جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی 13نومبر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردی گئی ۔