
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے این ایف سی پر مشاورت کا عندیہ دیتے ہوئے کہاہےکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے کہتا ہوں کہ آئیں 18ویں ترمیم پر مل بیٹھ کر بات کریں‘ سب سے زیادہ قربانیاں پاک فوج نے دی ہیں‘ طالبان رجیم ٹی ٹی پی کو لگام دے ‘ہم آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں ‘ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گےجبکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا قیام ہماری تاریخی کامیابی ہے‘آرٹیکل 243 میں فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلوا رہے ہیں‘ 18ویں ترمیم میں اتنی طاقت ہے کہ کسی کا باپ بھی اسے ختم نہیں کرسکتا۔بدھ کو قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعداپنے خطاب میں شہبازشریف کا کہنا تھاکہ افغان طالبان رجیم سے مسلسل کہا جا رہا ہے
کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو لگام دے‘40سال افغانوں کی مہمان نوازی کاصلہ آج دنیا دیکھ رہی ہے۔ دہشت گردوں کولگام دیں ہم آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں‘افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،فتنہ الخواج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑ جواب دیاتھا اور اب بھی منہ توڑجواب دیں گے۔ وزیراعظم کا کہناتھاکہ بلاول بھٹو میرے انتہائی قریبی ساتھی 
اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں‘ان کی اور میری سوچ میں کوئی فرق نہیں‘ اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا‘یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مشاورت کے بغیراٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کوئی ترمیم ہو سکے،ہمیں اس کا پوری طرح احترام ہے‘جو چیزپاکستان کے لئے مفید نہیں جیسے کالا باغ ڈیم ہے ‘اگراس پراتفاق رائے نہیں ہے توقومی یکجہتی پر100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ میری استدعا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے جہاں چاروں اکائیاں نہیں مانیں گی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے،وفاق ہے تو ہم ہیں۔انہوں نے کہاکہ میثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کل وانا میں دہشت گردوں نے ایک بارپھردہشت گردی کابازارگرم کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی‘اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ خوارج جس میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ شامل تھے‘ وہ تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے‘اسی طرح کل اسلام آباد میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ ہوا،
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، کل میں نے بیان دیا کہ فتنہ الخوارج میں ہندوستانی ہاتھ شامل ہے اوراس میں بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے فٹ پرنٹ نظرآرہے ہیں‘اس پرہندوستان کی حکومت کی جانب سے ٹویٹ آیا کہ الزامات غلط ہیں ۔جعفر ایکسپریس پرحملہ کے ثبوت ہم نے پوری دنیا کے سامنے پیش کئےجس کوکسی نے چیلنج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی تردید کی۔ ہم چاہتے کہ امن قائم ہو اور افغانستان امن میں برابرشریک ہولیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جھوٹے سچے وعدے کرے اور ان گروپوں کولگام نہ دے، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاوعدہ کیاگیاتھا آج وہ خواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا مجھے پورا یقین ہے کہ آج شہید بے نظیر بھٹو کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی۔ 19 سال اپوزیشن کو میثاق جمہوریت یاد نہیں آیا، آج ان کو آئینی عدالت پر تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔























