ہم پشتون افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کیساتھ اسمگلنگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے

مرکزی رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہم پشتون افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کیساتھ اسمگلنگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، ہماری معیشت کی بنیاداور روزگار کا دارومدار افغانستان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کے پی اسمبلی میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 40سال سے کے پی کبھی دہشتگردی کی جنگ ، کبھی روس کی فوجوں کی مداخلت اور کبھی جہاد کے نام پر ہمیں کیا ملا؟ ہمیں کلاشنکوف کلچر، دہشتگردی اور خودکش دھماکے ملے، جس کے پاس پیسا ہے وہ صوبے سے نقل مکانی کرگیا ہے۔
اس وقت خیبرپختونخواہ کا کاروبار اور روزگار کا تعلق افغانستان سے ہے، یہ جو قصہ خوانی بازار مشہور ہے، یہ ہزاروں سال سے ہے، یہاں سارا کاروبار ہوتا تھا، یہاں خوشحالی تھی، پشاور میں انڈسٹری کیوں لگے گی؟ جب یہاں پر دہشتگردی ہو اور امن وامان نہ ہو۔

جہاں تھوڑا بہت کاروبار کرسکتے ہیں اس سرحد کو بھی بند کردیا جاتا تھا، ہماری بین الاقوامی امپورٹ ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے، ہم جرگے میں افغانستان سے مطالبہ کریں گے کہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل سفارتی سطح پرحل کرے۔

میں بطور پشتون افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، ہم پنجاب اور کراچی کی انڈسٹری کا مقابلہ نہیں کرسکتے، افغانستان اور وسطی ایشیاء میری معیشت کی بنیاد ہے، اسی طرح افغانستان بھی پاکستان کے بغیر گزارا نہیں کرسکت
===============================

محکمۂ داخلہ سندھ کی سیکیورٹی سے متعلق اعلامیے کی سختی سے تردید
وزیرِ داخلہ سندھ کے دفتر نے مختلف ذرائع ابلاغ، میڈیا، سوشل میڈیا پر محکمۂ داخلہ سندھ سے منسوب سیکیورٹی سے متعلق اعلامیے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اعلامیے میں مبینہ طور پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس تاثر کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ 12 سے 30 نومبر تک خطرات کی سطح میں اضافہ ہو گا۔

محکمۂ داخلہ حکومتِ سندھ نے دفتر سے جاری کیے گئے وضاحتی بیان میں بتایا ہے کہ محکمۂ داخلہ اس طرح کے کسی بھی مکتوب، الرٹ کے جاری کرنے کی سختی سے تردید کرتا ہے اور مذکورہ بالا مکتوب اس کے عنوان کے تحت کسی سرکاری خط و کتابت اس محکمے یا اس کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والی کسی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی سے تعلق نہیں ہے۔

مزید یہ تمام حقیقی سیکیورٹی ایڈوائزریز، الرٹس اور اطلاعات، خصوصی طور پر محکمۂ داخلہ کے سرکاری چینلز کے ذریعے یا قانونی طور پر مجاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ہی جاری کیے جاتے ہیں لہٰذا ان چینلز کے ذریعے زیرِ گردش کوئی بھی مکتوب، دستاویز یا پیغام کو غیر مستند اور گمراہ کن سمجھا جائے۔

محکمۂ داخلہ سندھ نے وضاحتی بیان میں کہا کہ عوام الناس اور میڈیا سے گزارش ہے کہ ایسی گمراہ کن، من گھڑت اور جعلی مندرجات پر مبنی مکتوب، خبروں کی شیئرنگ سے گریز کریں اور قواعد و ضوابط کی پاسداری ایک قومی فریضہ سمجھ کر انجام دیں جبکہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش غیر تصدیق شدہ معلومات پر بھروسہ کرنے اور سرکاری سرکاری ذرائع سے ایسی کسی بھی بات چیت کی صداقت کی تصدیق کا حصہ بھی نہ بنیں۔