آئینی ترمیم کے بعد کوئی سوموٹو شوموٹو نہیں ہوگا، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلا رہے ہیں، آئینی ترمیم کے بعد کوئی سوموٹو شوموٹو نہیں ہوگا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیاگیا، اس وقت عدالتوں میں برابر کی نمائندگی نہیں تھی ہم نے دیکھا کیسے عدالتوں نے سوموٹو لے کر وزیر اعظم اور وزراء کی توہین کی، اب کوئی سوموٹو نہیں ہوگا، افتخار چوہدری کے بعد سوموٹو کا اختیار بھگتا، عدالت نے سوموٹو کا اختیار استعمال کر کے کبھی ٹماٹر تو کبھی آلو کی قیمت چیک کی، سوموٹو سوموٹو کہہ کر وزیراعظم، وزرا اور منتخب نمائندوں کی توہین کی گئی، اب آئینی ترمیم کے بعد کوئی سوموٹو شوموٹو نہیں ہوگا، پی پی نے این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی تجویز مسترد کی، ایف بی آر کی ناکامی صوبوں پر نہ ڈالی جائے، صوبوں کو اختیار ملا تو ایف بی آر سے زیادہ ٹیکس جمع کریں گے۔

چیئرمین پی پی کا کہنا ہے کہ کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کر سکتا، اپوزیشن کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے لیڈر کیلئے رونا دھونا کرے یا کسی ایک قیدی کی رہائی کا سوچے بلکہ اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ ہم کو جوابدہ ٹھہرائے، 27 ویں آئینی ترمیم تاریخی کامیابی ہے، 26 ویں ترمیم میں پی ٹی آئی کی رضا مندی سے آئینی بینچ بنے، پی ٹی آئی کے مطالبے پر ہی قاضی فائز عیسی کو آئینی بینچ کا سربراہ نہیں بنایا، مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے اجازت لے کر حمایت کی تھی، آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، محمود اچکزئی سمیت سب کو ماننا پڑے گا آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہماری کامیابی ہے، یہ پاکستان جتنا میرا ہے اتنا ہی شہبازشریف کا اتنا ہی عمران خان کا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی، 27 ویں آئینی ترمیم میں میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدے پورے کرنے جارہے ہیں، کسی آئینی ترمیم کی مضبوطی کثرت رائے سے نہیں اتفاق رائے سے ہوتی ہے، کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا، آئینی عدالت قائم کرکے رہیں گے، اس سے پہلے سوموٹو کی تلوار ہر حکومت پر لٹکائی گئی، 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی سوموٹو نہیں لے سکے گا، میثاق جمہوریت کے دیگر نکات پر بھی عملدرآمد کیا جائے، جب تک سیاستدان اپنی قسمت کا فیصلہ خود نہیں کریں گے یہ ملک نہیں چلے گا، اپوزیشن احتجاج کرے لیکن سیاسی میدان نہ چھوڑے۔