
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کردی۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیرِ اعظمِ پاکستان میاں شہباز شریف نے اس ہاؤس میں کھڑے ہو کر اپوزیشن کو بار بار مذاکرات کی دعوت دی، وفاقی وزیرِ قانون و انصاف نے بھی متعدد مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی، میں بحیثیتِ اسپیکرِ قومی اسمبلی اپوزیشن اور حکومت کے مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے تیار ہوں۔
نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مکالمہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں بیٹھیں گے تو راستے نکلیں گے، اگر پہلے دن کچھ نہ نکلے بھی تو مذاکرات کا عمل جاری رکھنے سے نتائج ضرور نکلیں گے، مذاکرات کے پلیٹ فارم پر حکومت اور اپوزیشن کو لانا میرا کام ہے، اپوزیشن میری مذاکرات کی دعوت قبول کرے، نتائج یہاں سے نکلیں گے، لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، آپ کہتے ہیں بھارت، افغانستان اور ایران سے مذاکرات کریں تو اس کے لیے بھی یہاں بیٹھنا پڑے گا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے لیڈر کو دو مرتبہ ہرایا ہے، اس الیکشن میں بھی میرے خلاف کوئی پٹیشن دائر نہیں ہوئی، کسی نے یہ پٹیشن بھی دائر نہیں کی کہ میرے حلقے کے انتخابی نتائج درست نہیں ہیں، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔
=====================
محمود خان اچکزئی نے 27ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران محمود خان اچکزئی نے 27ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت فارم 47 پر قائم کی گئی ہے، اس ایوان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 6 ہزار ووٹوں سے ہار رہا تھا جسے کہا گیا ’آپ کو بنا دیتے ہیں‘ لیکن اس نے منع کردیا، اسی طرح ایک اور آدمی نے بھی منع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ بتائیں ایسی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟ پاکستان میں عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے آئین میں غیر جمہوری قسم کی ترمیم پر دکھ ہوتا ہے، ترمیم میں وہ لیڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے بہت بڑی قربانیاں دیں، پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی جاری ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بانی تحریک انصاف اچھا یا برا آدمی ہے، آپ نے اسے کیوں وزیراعظم بننے دیا، ملک کی اعلیٰ عدلیہ ایک پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیتی ہے، تحریک انصاف نے مختلف انتخابی نشانوں پر الیکشن لڑ کر ملک کی کایا پلٹ دی۔
تکنیکی غلطی کے باعث 27ویں آئینی ترمیم واپس سینیٹ میں جانے کا امکان
اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود اچکزئی سے کہا، ’وزیراعظم اور حکومت نے آپ کو کئی مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی، وزیر قانون نے بات چیت کی دعوت دی، میں نے بھی دعوت دی، آج بھی دعوت دیتا ہوں آئیں بیٹھیں بات کریں۔‘
محمود اچکزئی نے اسپیکر کو جواب دیا کہ آپ سے بات نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ حقیقی نمائندے نہیں۔
اسپیکر ایاز صادق نے محمود اچکزئی سے کہا کہ میں آپ کے لیڈر کو دو بار ہرا کے یہاں آیا ہوں، اس الیکشن میں میرے خلاف کوئی پٹیشن نہیں، آپ ڈائیلاگ سے بھاگنے کا بہانہ بنا رہے ہیں، ڈائیلاگ کریں گے تو بات آگے بڑھے گی۔
جس پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں حصہ لینے کی ہر ممکن کوشش کی، ہمارے ایم این ایز کو پارلیمنٹ ہاؤس سے اٹھایا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 26 نومبر کو ہمارے لوگوں کی شہادتیں ہوئیں، ہم پاکستان کے ساتھ تھے اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ہمارے وزیر اعلیٰ کو اپنے لیڈر کے ساتھ ملنے نہیں دیا جا رہا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ میرا کام مذاکرات کی سہولت کاری کرنا ہے۔























