نواز شریف کا 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ

نواز شریف کا 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ
وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے قائد مسلم لیگ ن کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے تصدیق کر دی

نواز شریف کا 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ
اسلام آباد 11 نومبر 2025ء) نواز شریف کا 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ،وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے قائد مسلم لیگ ن کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے تصدیق کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کی جانب سے نواز شریف کے 27 ویں ترمیم کو ووٹ دینے کے فیصلے کے حوالے سے وضاحت دی گئی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سے متعلق گزشتہ چند روز سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم مسلم لیگ ن کے قائد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور 27 ویں ترمیم کو ووٹ بھی دیں گے، حکومت کا ارادہ ہے کہ بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے 27 ویں ترمیم منظور کروا لیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی اورجےیوآئی کے سینیٹرر کو زبردستی اور لالچ دے کر ان سے ووٹ لیا گیا، کیا آئینی ترامیم ایسے پاس ہوتی ہے؟ ایکس پر اپنے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ہمراہ صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا میں کل بروزبدھ 10بجے منعقد ہونے والے امن جرگہ کے سلسلے میں انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پرممبران قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی ممبران سمیت دیگر متعلقہ افسران و انتظامی عملہ بھی موجود تھا۔ اسد قیصر نے کہا کہ بہت افسوس ہے جس طرح 27ویں آئینی ترمیم کو پاس کیا گیا ۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی اور جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر کو زور زبردستی یا لالچ دے کر ان سے ووٹ لیا گیا ۔کیا آئینی ترامیم ایسے ہوتی ہے پوری دنیا میں رواج ہے کہ جب بھی ملک کے آئین میں کوئی ترمیم لانی ہوتی ہے تو سب کو ان بورڈ لیا جاتا ہے ایک کنسنس کے ساتھ ترمیم کی جاتی ہے ۔
مزید برآں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اب آئینی عدالت کا چیف جسٹس وزیر اعظم مقرر کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کردیا گیا۔حکومت اپنے مفادات کے لئے آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔ جماعت اسلامی چھبیسویں ترمیم کے وقت بھی آئین کے ساتھ تھی اور آج بھی ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان عدل لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور جماعت اسلامی کی جدوجہد ملک میں آئین و قانون کے تحفظ کے لئے ہے۔اگر متفقہ آئین کو اسی طرح بازیچہِ اطفال بنایا جاتا رہا تو یہ قومی یکجہتی کے لئے خطرناک ہوگا۔ملکی سلامتی اور فیڈریشن کی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ آئین کی حفاظت کے لئے قوم متحد ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ ہم انشاء اللہ آئین پاکستان کو اصل شکل میں بحال کروا کر رہیں گے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ہمارا موقف واضح تھا، اب 27 ویں ترمیم بارے بھی آنیاں جانیاں لگی رہیں لیکن جماعت اسلامی کا موقف وہی ہے جو چھبیسویں ترمیم کے وقت تھا۔