کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے ۔ آغا فخر حسین

کراچی07 نومبر۔سندھ ہیومن رائٹس کمیشن (SHRC) نے کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں چائلڈ میرج کے موضوع پر منعقدہ اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثے میں شرکت کی۔ یہ تقریب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) اور سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (SCSW) کے اشتراک سے، حکومتِ سندھ کے تعاون کے ساتھ اور پروگرام “بین الصوبائی سیکھنے کے ذریعے: چائلڈ میرج قانون سازی کا فروغ” کے تحت منعقد کی گئی تھی۔ اس راؤنڈ ٹیبل میں قانون سازوں، سول سوسائٹی نمائندگان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں چائلڈ میرج سے متعلق قانون پر عمل درآمد اور پاکستان بھر میں اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکریٹری، آغا فخر حسین نے کمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ اعزازی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور سندھ بھر میں صنفی مساوات کے فروغ کے حوالے سے کمیشن کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے UNFPA اور SCSW کی جانب سے اس اہم ڈائیلاگ پلیٹ فارم کے انعقاد کو قابلِ تحسین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے 2013 میں سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ منظور کر کے 18 سال کی کم از کم شادی کی عمر مقرر کرکے تاریخ رقم کی۔ یہ قانون بچوں، بالخصوص بچیوں کی عزت اور مستقبل کے تحفظ کے ہمارے مشترکہ اخلاقی اور سماجی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اصل چیلنج اس قانون پر موثر اور حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہے۔تقریب میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس، حکومتِ سندھ کی جانب سے شروع کیے گئے چائلڈ میرج پریوینشن انیشی ایٹو (CMPI) کا بھی اعتراف کیا گیا، جسے صوبائی سطح پر ایک کامیاب ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ضلع دادو کو ماڈل ڈسٹرکٹ قرار دیا جا چکا ہے، جہاں تعلیم، پولیس، سماجی بہبود اور مقامی انتظامیہ سمیت مختلف محکمے مذہبی رہنماؤں اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔آغا فخر حسین نے مزید کہا کہ چائلڈ میرج کا خاتمہ صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور ترقیاتی ذمہ داری ہے۔ ہر بچی کے تعلیم، صحت اور تحفظ کے حق کو یقینی بنانا پاکستان کی پائیدار اور جامع ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔”سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے UNFPA، سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور تمام معزز شراکت داروں کی تعاون اور قائدانہ کردار کی تعریف کی، جن میں خصوصاً ڈاکٹر گلنارا کادیراکولوا (UNFPA)، ایڈووکیٹ روبینہ بروہی (SCSW)، محترمہ ملیحہ ضیا (لیگل ایڈ سوسائٹی)، محترمہ فرح سہیل (رکن سندھ اسمبلی)، فیض اللہ کوریجو (ڈی آئی جی پولیس)، اسامہ خاور گھمن (پارلیمانی ڈیولپمنٹ یونٹ) اور گولڈن مولیلو (UNFPA) شامل ہیں۔تقریب کے اختتام پر “بین الصوبائی سیکھنے کے ذریعے، چائلڈ میرج قانون سازی کا فروغ” پروگرام میں نمایاں خدمات پر شرکاء اور وفود کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

ہینڈآؤٹ نمبر 1244۔۔۔ ایم۔یو