
محکمہ اطلاعات سندھ کے 200 صفحات پر مشتمل اشتہار کی کرپشن کہانی
اے بی سی ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان؟؟؟
اخباری ملازمین کے نفاذی ٹریبونل (IMPLEMENTATION TRIBUNAL FOR NEWSPAPER EMPLOYEES) نے اپنے 18 صفحات پر مشتمل فیصلے میں محکمہ اطلاعات سندھ کے ستمبر2021 میں کئے جانے والے کرپشن کارنامے کی کہانی بیان کردی جس میں افسران نے کروڑوں روپے کا چھکا لگا کر اپنی جیبیں بھریں تھیں
محکمہ داخلہ سندھ نے 2202 مفروران کی فہرست کاایک بڑا اشتہار تین بڑے قومی اخبارات(اردو، انگریزی اور سندھی زبان میں شائع کرنے کیلئے محکمہ اطلاعات سندھ کو بھیجا ۔ محکمہ اطلاعات سندھ کے افسران نے دو اشتہاری ایجنسیوں کے ذریعے وہ اشتہار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3 اخبارات کے بجائے 21 اخبارات میں شائع کروادیا
ایک اخبار جس کا اس فیصلے میں ذکر کیا گیا ہے اسکی روزانہ اشاعت اس وقت 40200 تھی اس نے 200 صفحات کا یہ اشتہار شائع کیا جس سے اسکی کل تعداد 8,040,000 صفحات بنتی ہے ۔ اگر21 اخبارات کے ای بی سی سرٹیفکیٹ میں درج اعداد و شمار کو 200 صفحات سے ضرب دی جائے تو اس اشتہار کے کروڑوں صفحات بنتے ہیں جن کا اتنی بڑی تعداد میں شائع ہونا ممکن ہی نہیں۔ ایک ہی رات میں کوئی اخبار80 لاکھ صفحات کیسے چھاپ سکتا ہے؟؟؟
اس کیس کے حوالے سے APNS، RIUJ، CPNE ، نیشنل پریس کلب سمیت مقامی پریس کلب کو باقاعدہ نوٹس بھیجے گئے مگر ان کی جانب سے بھی کسی نے آج تک اپنی کوئی تحریری رائے، تجویز یا مشاہدہ جمع نہیں کرایا۔
یہ محکمہ اطلاعات سندھ کی صرف ایک کرپشن کہانی ہے جس میں کروڑوں روپے افسران نے اپنی جیبوں میں ڈالے ۔ 21 اخبارات میں ایسے بھی اخبارات کو اشتہار جاری کیا گیا تھا جن کی سرکیولیشن کا وجود ہی نہیں نہ ان کے آفس ملینگے
آج بھی یہ دھندہ زور و شور سے جاری ہے ، محکمہ کے افسران نے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے اخبارات خرید رکھے ہیں اور اشتہارات کی مد میں خاموشی سے ہر ماہ کروڑوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہیں، جن اخبارات کو زیادہ تر اشتہارات دیئے جارہے ہیں ان کی آفس جاکر دیکھیں یا تو ملے گی نہیں ، اگر مل گئی تو بند ہو گی اور اسٹاف کا نام و نشان بھی نہیں ہو گا۔
from Facebook wall of…..
Asad Arain
is with Bilqees Jahan and
10 others
.
#ChiefJusticeOfPakistan #SupremeCourtOfPakistan #JusticeForPakistan #SindhHighCourt #ChiefJusticeSindh #JudicialAction #UpholdJustice #TransparencyInJustice #PakistanArmy #ArmyChief #ISPR #DGISPR #ISI #PakistanForces #DefendersOfPakistan #NationalIntegrity #StandWithPakistan #ForcesAgainstCorruption #SupremeCourt #SindhHighCourt #RuleOfLaw #JusticeForAll #NAB #AntiCorruption #FIA #Accountability #SindhInformationDepartment #SINDHCorruption #PublicFunds #Transparency #StopCorruption #ExposeCorruption #InvestigativeJournalism #PublicRightToKnow #RTILaw #RightToInformation #Pakistan #PublicMoneyPublicRight #PakistanFightsCorruption #TransparencyInPakistan #CleanPakistan #TransparencyInSindh #CorruptionInSindhGovt #SindhAwareness #GlobalAwareness #HumanRights #FreedomOfInformation #PressFreedom #MediaTransparency #SpeakUp #ExposeTheTruth #FightForJustice #DigitalAwareness #PakistanAgainstCorruption #CleanGovernance #followers #transparencyinternaional #SharjeelInamMemon #BilawalBhuttoZardari #CMMuradAliShah #ChiefSecretarySindh #SindhGovernment #BilawalHouseKarachi
=========================
صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو مخالفت کریں گے، فضل الرحمان
امیر جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فضل الرحمان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات میں کمی کی کوشش قابلِ قبول نہیں، جمیعت علماء اسلام صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، صوبوں کے حق میں اضافہ کیا جاسکتا، کمی نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27ویں ترمیم پر تو فی الحال بات نہیں کرسکتے، ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات میں کمی کی کوشش قابل قبول نہیں۔ ہماری جماعت صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، صوبوں کے حق میں اضافہ کیا جاسکتا، کمی نہیں۔
آرٹیکل 243 اور آئینی عدالت پر اتفاق رائے ہوچکا ہے، رانا ثنا
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا، ٹھیک تو کچھ بھی نہیں ہورہا۔ ٹھیک کرنے کےلیے اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ اپنے ملک کے بچوں کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھتا ہوں۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ سود کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی ہے، مدارس کے ہاتھ مروڑ کر وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی، اگر دستبردار شقوں میں سے کوئی شق 27ویں ترمیم میں پاس ہوئی تو آئین کی توہین سمجھی جائے گی۔ 26ویں ترمیم کے دستبردار ہونے والے نکات 27 ویں ترمیم میں قابل قبول نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم نے 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔
=========================

صدرآصف علی زرداری کاجکارتہ میں سکول کی مسجد میں دھماکے پر اظہار افسوس
نیوز ڈیسک
November 07, 2025
اسلام آباد:صدرآصف علی زرداری نے جکارتہ میں سکول کی مسجد میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔صدرمملکت نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاکی۔
اپنے تعزیتی پیغام میں صدرمملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم نےانسداد دہشت گردی کیلئےبہت قربانیاں دی ہیں۔دہشت گردی نے میری اپنی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا۔ لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔
صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی کوششوں میں انڈونیشیا کے ساتھ ہے۔
اس پوسٹ کو شیئر کریں
========================

وزیراعظم شہباز شریف دوروزہ سرکاری دورے پرباکو پہنچ گئے، آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے
نیوز ڈیسک
November 07, 2025
باکو:وزیراعظم محمد شہباز شریف آذربائیجان کے دوروزہ سرکاری دورے پرباکو پہنچ گئے۔حیدر علیؤف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اول نائب وزیراعظم یعقوب ایوبوف، اول نائب وزیر خارجہ فریز رضایوف، پاکستانی سفیر قاسم محی الدین اور اعلیٰ حکا م نے ان کااستقبال کیا۔وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔
محمد شہبازشریف صدر الہام علیوف کی دعوت پر آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے۔پاکستان اورآذربائیجان کی قیادت کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدرالہام علیوف کی ملاقات میں تجارت ، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، تعلیم اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور نئی راہوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
پاکستان اور آذربائیجان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات جڑیں مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور باہمی اعتماد سے جڑی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی قریبی تعاون ہے۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف کا یہ دورہ آذربائیجان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی ٹھوس حمایت اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم کرنےکے عزم کا اعادہ ہے۔























