27 ویں آئینی ترمیم کا ایک ہی ڈرافٹ آئے گا۔ وفاقی مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ

پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 پر اتفاق رائے ہوچکا ہے
آئینی ترمیم میں دوہری شہریت کو ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، 27 ویں آئینی ترمیم کا ایک ہی ڈرافٹ آئے گا۔ وفاقی مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ

پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 پر اتفاق ..
اسلام آباد – 06 نومبر 2025ء ) وفاقی مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کے قیام پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اتفاق رائے ہوچکا ہے، دونوں جماعتیں آرٹیکل 243 پر بھی متفق ہیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا ایک ہی ڈرافٹ آئے گا، وفاقی کابینہ میں کل 27ویں ترمیم کا مسودہ پیش ہوگا، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد مسودہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
27ویں ترمیم کا مسودہ اگلے پیر ، یا منگل کو قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔ 27ویں ترمیم کا مسودہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھی بھیجا جائے گا، اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں مسودے پر دو دن تک بحث ہوگی۔ سینیٹ سے مسودہ پیر کو منظور ہوا تو قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے 3 دن چاہیئے ہوں گے۔

27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں کچھ تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ آرٹیکل 243 فورسز کو آئینی کردار دینے سے متعلق نہیں ہے، آرٹیکل 243 آرمڈ فورسز کی چین آف کمانڈ سے متعلق ہے، معرکہ حق میں کامیابی ملی اور کمانڈ اسٹرکچر سے متعلق تجربہ ہوا۔

اس میں ادارے کی طرف سے کچھ چیزوں کی تجاویز دی جائیں گی۔ آئینی عدالت کے قیام پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اتفاق رائے ہوچکا ہے، آئینی ترمیم میں دوہری شہریت کو ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، ہم نے اتحادیوں سے مشاورت کرکے اعتماد حاصل کیا ہے۔ دوسری جانب نیوز ایجنسی کے مطابق حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کی شقوں پر غور کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا ، کمیٹی کی سربراہی فاروق ایچ نائیک کو سونپے جانے کا امکان ہے ، کمیٹی میں تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی ۔
ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کی جائیگی ، ترمیم پرغور کیلئے مشترکہ کمیٹی کی منظوری سینیٹ دے گا ، چیئرمین سینیٹ پارلیمانی کمیٹی کیلئے سپیکر قومی اسمبلی سے نام لیں گے، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی صدارت فاروق ایچ نائیک کریں گے، کمیٹی میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کو شامل کیا جائے گا ، پارلیمانی کمیٹی کو27ویں ترمیم پرغور کیلئے 2 دن کا وقت دیا جائیگا۔
پارلیمانی کمیٹی ترمیم کی ہر شق پر غور کرے گی، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اپنی رپورٹ پیر کو سینیٹ میں پیش کرے گی، سینیٹ میں پیر یا منگل کو آئینی ترمیم کی منظور کروائی جائے گی، ایوان بالا سے منظوری کے دن ہی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیگی، قومی اسمبلی بحث کے بعد بدھ یا جمعرات تک ترمیم منظور کرے گی۔
======================

پیپلزپارٹی کی سی اِی سی نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجاویز منظور کرلی
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس کل تک موخر کردیا گیا، اجلاس میں آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجاویز سی اِی سی نے منظور کرلی۔

کراچی میں سی ای سی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27ویں ترمیم کی تجویز کے ایک کے سوا تمام نکات مسترد کردیے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ کا ایک وفد پیپلزپارٹی کے پاس آیا اور 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی بات کی، ہم اس تجویز کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں حکومت نے تبدیلیاں لانے کا سوچا ہے، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نےصرف اسی ترمیم کی حمایت کی ہے، باقی پوائنٹس پوری طرح مسترد ہوئے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز پیپلز پارٹی نے مسترد کر دی ہے۔ آئینی عدالت پر رائے یہ ہے کہ چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہو۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سی اِی سی کا اجلاس نماز جمعہ کے بعد دوبارہ ہوگا جس میں آئینی عدالت پر حتمی فیصلہ کریں گے۔