
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اجتماع عام کے موقع پر جماعت اسلامی نظام کی مکمل تبدیلی کے لیے منظم ملگ گیر جدوجہد کا آغاز کرے گی۔ ہماری مزاحمتی تحریک آئینی فریم ورک کے اندر ہوگی۔ ”بدل دو نظام“ کے نعرہ کے تحت مینار پاکستان پر ہونے والا اجتماع عام دنیا کی حالیہ سیاسی تحریکوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔
گریٹر اقبال پارک کے تین سوانتیس ایکڑ میں انسانوں کا سمندر نظر آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں اجتماع عام کے مرکزی کیمپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
افتتاحی تقریب کے اہم شرکاء میں نائب امرا لیاقت بلوچ، پروفیسر محمد ابراہیم، میاں محمد اسلم، ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈاکٹر عطاالرحمن، ڈپٹی سیکریٹریز اظہر اقبال حسن، مولانا عبدالحق ہاشمی، شیخ عثمان فاروق، ممتاز سہتو، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر ہزارہ عبدالرزاق عباسی، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ شامل تھے۔
ڈپٹی سیکریٹری وقاص انجم جعفری نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔
امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ناظم اجتماع کی متعلقہ امور کو احسن طریقے سے انجام دینے پر تحسین کی۔ انہوں نے ترکی میں ایک سو انتیس ایکڑ پر ہونے والے دنیا کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اجتماع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جماعت اسلامی کا اکیس، بائیس اور تئیس نومبر کو ہونے والا اجتماع ترکی کا ریکارڈ توڑ دے گا۔
انھوں نے کہا کہ اجتماع عام میں عالم اسلام کے پویلین قائم کریں گے۔ تاجر، صنعتکار، نوجوان اور طلبا تحریکوں کے کارکنان اور رہنما جمع ہوں گے۔ اس موقع پر قومی معاشی پالیسی کی قرارداد پاس ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سود کی لعنت کے ہوتے ہوئے معیشت بہتر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع عام میں خواتین کی بہت بڑی تعداد جمع ہوگی جن کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا جماعت اسلامی اجتماع عام کے موقع پر قوم کے سامنے تعلیم کے شعبہ میں بہتری، عدالتی اصلاحات کا مکمل ایجنڈا پیش کرے گی۔ استحصالی نظام نے مزدوروں، چھوٹے کسانوں کو کچل کر رکھ دیا ہے، زراعت میں کارپوریٹ سیکٹر کا نیا رجحان جاگیرداری نظام کا تسلسل ہے،ملک میں افسر شاہی اپنے آپ کو حاکم تصور کرتی ہے، سیاست وراثت، خاندان اور ذات کے گرد گھوم رہی ہے۔
ان حالات میں ایک منظم سیاسی جماعت ہی فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ سکتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف کامیاب تحریک چلائی، جس کے نتیجہ میں قوم کو سستی بجلی ملی اور خزانہ کو اربوں کا فائدہ ہوا۔ اجتماع عام سے نظام کی تبدیلی کی منظم ملک گیر تحریک کا آغاز ہوگا۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے چھبیسویں ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کیا اور اس موقع پر اپوزیشن کو حکومت سے بات چیت میں نہ الجھنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
ہم مجوزہ ستائیسویں ترمیم کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
نائب امیر اور ناظم اجتماع عام لیاقت بلوچ نے انتظامات سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ انتظامی امور کے لیے چار سو کے قریب ارکان پر مشتمل 37کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔اجتماع عام میں شرکت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز ہوچکا ہے، تمام پروگرامات سوشل میڈیا پر براہ راست نشر ہوں گے، معلومات سے مکمل آگاہی کے لیے خصوصی ویب سائٹ اور ایپ تیار کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے 50ویں سالانہ اجتماع کے لیے دس ترانے بھی تیار ہوئے ہیں۔
=====================
پیپلزپارٹی کی سی اِی سی نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجاویز منظور کرلی
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس کل تک موخر کردیا گیا، اجلاس میں آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجاویز سی اِی سی نے منظور کرلی۔
کراچی میں سی ای سی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27ویں ترمیم کی تجویز کے ایک کے سوا تمام نکات مسترد کردیے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ کا ایک وفد پیپلزپارٹی کے پاس آیا اور 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی بات کی، ہم اس تجویز کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں حکومت نے تبدیلیاں لانے کا سوچا ہے، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نےصرف اسی ترمیم کی حمایت کی ہے، باقی پوائنٹس پوری طرح مسترد ہوئے ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز پیپلز پارٹی نے مسترد کر دی ہے۔ آئینی عدالت پر رائے یہ ہے کہ چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہو۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سی اِی سی کا اجلاس نماز جمعہ کے بعد دوبارہ ہوگا جس میں آئینی عدالت پر حتمی فیصلہ کریں گے۔























