کھتری ہوٹل جونا مارکیٹ کراچی قائم شدہ 1943:


کھتری ہوٹل جونا مارکیٹ کراچی قائم شدہ 1943:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اقبال عبدالرحمٰن صاحب اپنی ایک پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ:
کل یامین کھتری بھائی Yameen Khatri نے جونا مارکیٹ کے مشہور کھتری ہوٹل کی یہ تصویر بھجوائی تو یادوں کا دبستان کھل گیا ۔ قیام پاکستان سے 4 برس قبل یہ ہوٹل قائم ہوا اس علاقے میں جہاں کچھی کھتری بعادری قدیمی طور پر آباد تھے ۔ چندو حلوائی کے مشہور کراچی حلوہ کے طرز پر انہوں نے کھتری حلوہ بنایا ۔ چندو بادام کے اس چکنے حلوے کو ٹھنڈا کرنے کے بعد تراش کر ملفوف صورت پیش کرتے تھے جبکہ کھتری ہوٹل والے گرما گرم حلوہ چائے کے ساتھ پیش کرتے ۔ حلوہ اور چائے کا یہ عجیب میل بھی چلا اور ایسا چلا کہ اسے جونا مارکیٹ کی سوغات بنا گیا، واقعی دلہن وہی جو پیا من بھائے ۔ اب جو جونا مارکیٹ جائے اور کھتری کا چائے حلوہ نہ کھائے تو سمجھو ” او جمیا ای نئیں ‘
جونا مارکیٹ قدیم کراچی کا شاہی بازار طرز کا مقام خریداری ہے، جونا کے معنی ہی پرانے یا قدیم کے ہوتے ہیں، جونا مارکیٹ کراچی کا قدیم ترین بازار جسکے بطن سے جوڑیا بازار نے جنم لیا ۔ نزدیک ہی (کچھی) ترک مسجد ہے جہاں (بر صغیر میں چلی خلافت تحریک کے دوران) خلافت بچانے کے لئے عہد و پیماں ہوئے تھے اور( اس وقت کے) لوگوں نے ترکوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ترکی ٹوپی اپنائی تھی ۔ ہوٹل کے مالک بھی (اس تصویر میں) اسی طرز کو اپنا کر اپنے عہد سے وفادار نظر آتے ہیں ۔