
لاڑکانہ(بیورورپورٹ) سندھ کے دیگر شہروں کی طرح لاڑکانہ میں بھی حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار ساتھیوں کا چہلم انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا، چہلم کے موقع پر ضلع لاڑکانہ سے 44 ماتمی جلوس برآمد ہوئے اور 65 مجالس منعقد کی گئیں، جن کی سیکیورٹی کے لیے دو ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ رینجرز کے جوانوں نے بھی اپنے فرائض انجام دیے، چہلم کا مرکزی ماتمی جلوس سید جاڑل شاہ امام بارگاہ سے نمازِ ظہرین کے بعد برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا شام کے وقت شہر کے پاکستانی چوک پر اختتام پذیر ہوا، جہاں عزاداران کی جانب سے سینہ زنی اور زنجیر زنی کی گئی۔ عزاداری کے دوران زخمی ہونے والے عزاداروں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے، جہاں زخمی عزاداروں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ذاکرین نے کربلا کے میدان میں دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے قربانی دینے والے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کی زندگیوں پر روشنی ڈالی، چہلم کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوں میں ٹھنڈے پانی کی سبیلیں بھی لگائی گئیں، لاڑکانہ پولیس کی جانب سے چہلم کے موقع پر نکالے گئے ماتمی جلوسوں اور مجالس کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی گئی، ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پولیٹیکل سیکریٹری و ایم پی اے جمیل احمد سومرو نے وزیرِاعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی خیر محمد شیخ اور دیگر کے ہمراہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر شہر کی مرکزی امام بارگاہ جاڑل شاہ بخاری کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم پی اے جمیل احمد سومرو نے کہا کہ آج کربلا کے شہداء کا چہلم ہے، اور پوری امتِ مسلمہ اس دن کربلا کی سرزمین پر دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے عظیم قربانی دینے والے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراجِ تحسین پیش کررہے ہیں۔
Load/Hide Comments























