
امیر محمد خان
===========
ؓپاکستان کا سازشی پڑوسی بھارت اپنے کہے سے مکرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اسکا میڈیا نے فیک خبروں کے حوالوں سے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، بھارت تو عالمی قوانین کی بھی پاسداری نہیں کرتا جس وجہ آج وہ عالمی افق پر ایک بڑی ریاست اور علاقے کی بڑی طاقت ہونے کا جواز کھو چکا ہے حال ہی مئی میں پاکستان نے اسکی عسکری قیادت کو دو چار دن میں جو بھرکس نکالا وہ دنیا نے دیکھارافیل جہازوں کی تباہی ایک طرف اس پر سونے پر سہاگہ والا اسکا فیک نیوز والا میڈیا جس پر بھارتی بھی ناراض تھے کہ کیا بکواس کررہے ہیں چونکہ وہ لاہور کی بندرگاہ تباہ کرنے کا دعوی کررہے ہیں جہاں دریا تو ہوگا سمندر کبھی نہیں رہا ۔ 3 جون 1947ء کے تقسیم ہند پلان کے تحت ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت سے الحاق کریں یا آزاد رہیں۔ اس فارمولے کے مطابق ریاستوں کو یہ آزادی دی گئی تھی کہ وہ اپنی عوامی خواہش اور جغرافیائی و مذہبی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔ کشمیر چونکہ مسلم اکثریتی ریاست تھی اور جغرافیائی طور پر بھی پاکستان سے جڑی ہوئی تھی، اس لیے اس کی فطری وابستگی پاکستان کے ساتھ تھی۔ یہی وابستگی 19 جولائی 1947ء کی قراردادِ الحاق پاکستان کے ذریعے واضح ہوئی، جسے کشمیری قیادت اور عوام نے اپنی اجتماعی خواہش کے طور پر منظور کیا۔ لیکن بھارت نے اس اصول کو پامال کرتے ہوئے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر پر فوجی قبضہ کر لیا اور ایک طویل المیے کی بنیاد رکھ دی۔ یہ ہی رویہ جونا گڑھ ریا ست کے سلسلے میں بھی اپنایا وقت گزرتا رہا اور کشمیری عوام اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے قربانیاں دیتے رہے۔ لیکن 5 اگست 2019ء وہ سیاہ دن تھا جب بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت اور نیم خودمختاری چھین لی، یہ واقعہ اڈیالہ کے باسی سابق وزیر اعظم کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے ٹھیک 14دن بعد پیش آیا ، ملاقات کے بعد پاکستان آنے پر انکی جماعت نے ہوائی اڈے پر ڈھول کی دھوم دڑھکر کے ساتھ استقبال کیا اور پاکستان کے عوام کو تاثر یہ دیا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ عمرانخان نے پوری شدت سے امریکی صدر کے سامنے رکھا ہے اور انہوں نے ثالث بننے کا وعدہ کیا بقول ٹرمپ کے بھارتی وزیر اعظم نے ان سے ثالث بننے کی درخواست کی تھی، جبکہ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نہ ہم ثالث چاہتے ہیں، نہ ہم نے کوئی درخواست کی
ہے اور عمران خان کی ٹرمپ سے ملاقات کے ٹھیک 14 دن بعد ہندوستان نے حسب روائت منفی سوچ اور کشمیر کو مکمل طور پر ہڑپ کرنے کیلئے مجرمانہ طور پر اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اقر 35 A کو منسوخ کردیا جس سے مقبوضہ کشمیر اب مسلمان ریاست نہیں بلکہ بھارتی ریاست کہلایا یہ مجرمانہ اقدام 5 اگست کو کیا ، او ر ساتھ ہیں وادی میں اٹھنے والے شور اور احتجاج کو روکنے کیلئے ہزاروں مسلح افواج بھیج دیں جو تاحال وہاں نہتے کشمیروں پر ظلم توڑ رہی ہیں، ہندو بنیوؤں کو وہاں مکانات دئے گئے، انہیں کاروبار کرنے کی تلقین کی تاکہ وہاں صرف مسلمان ریاست نہ رہے۔ پاکستان اسوقت سے تاحال دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کی آزادی کی آواز اٹھارہا ہے، مگر بے سود کشمیر میں ظلم ہو یا فلسطین میں اسکی تمام تر ذمہ داری اسرائیل یا بھارت پر نہیں ڈالی سکتی چونکہ اسکے ذمہ دار وہ تمام عالمی طاقتیں اور ادارے بھی ہیں جنکے کانوں میں جون نہیں رینگتی،وہ وہیں بولتے ہیں جہاں انکے مقاصد ہوں دوست ملک ایران نے اسرائیل کوماضی قریب میں مزہ چکھایا
مگر و ہ اسرائیل غزہ میں جو ظلم ڈھار رہا ہے اسکی آواز ایران کے کانوں میں نہیں آرہی یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے وہ مسلمانوں اور اسلام کے لئے نہیں بلکہ اپنے مفادات کیلئے لڑتے ہیں، اب یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ 5اگست کی تاریخ پی ٹی آئی نے کیوں مقرر کی؟؟یہ میڈیاکا مسئلہ ہے، حکومتیں بھی ایسا کرتی ہیں اور ہماری سیاسی جماعتیں وہ خبروں میں جگہ لینے کیلئے ”خبروں کو موت کی گھانٹ“اتارتے ہیں جس سے خبروں کا تاثر ختم ہوتاہے ماضی میں بھی جب کشمیر پر اگر کوئی حکومت آواز اٹھاتی تھی یا کشمیر کا دن مناتی تھی اسی دن ایم کیوایم کراچی اور سندھ میں کسی احتجاج کی کال دیتی تھی یقنی بات ہے حکومت تادیبی کاروائی کرتی تھی جس پر پروپگنڈہ ہوتا تھا کہ کشمیر میں ہی نہیں ہم پر پاکستان میں بھی ظلم ہورہا ہے اور عوام کی توجہ کو منتشر کیا جاتا تھا ، اسی طرح آج پی ٹی آئی بھی کررہی ہے جبکہ اسکے گزشتہ احتجاجوں پر عوام نے کان دھرنا بند کردیئے ہیں اب 5اگست کو پی ٹی آئی نے ”ہم نہیں یا تم نہیں“کہ تحریک کے نام سے اڈیالہ جیل پر مظاہرہ کرکے خان کی رہائی کی خوامخواہ کوشش کررہے ہیں اسوقت جب پاکستان کے عوام کشمیر کا یوم استحصال منارہے تھے ملک کے اندر اور بیرون ملک پاکستانیوں کی تمام تر توجہ ہندوستان کے کشمیر میں مظالم پر ہے پی ٹی آئی اپنی لاحاصل تحریک کا اعلان کررہی پی ٹی آئی کے مظاہروں کی تاریخ ہمارے سامنے وہ تشدد کے بغیر نہیں ہوتے حکومت کا اس پر ہاتھ ڈالنااور املاک کی حفاظت کرنا فرض ہے، پھر گرفتاریاں ہوئیں جسکا واویلا پھر پی ٹی آئی پیٹے گی اسکا سوشل میڈیا ظلم و ستم کا رونا روئیگا اسکا سوشل میڈیا پاکستان میں اور تاحال بیرو ن ملک موجود ہے جس پر حکومت قابوتاحال نہیں کرسکی، ریاست دشمنی میں پی ٹی آئی قومی دھارے سے بہت دور ہوچلی، انکے اکابرین اگر ان مظاہروں کو یوم استحصال کشمیر سے منسوب کردیتے تو شائد عوام خوش ہوتے کہ یہ قومی بات بھی کرتے ہیں پاکستان کی خوش آئیند کوشش ہے کہ وہ کشمیر میں بھارتی تسلط کو دنیا کوبتائے جبکہ پی ٹی آئی اس دن اپنے سیاسی بیانئے کو بڑھانا چاہتی ہے دو د د ن قبل ہونے والے عوام کے ہر شہر میں مظاہرے پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ ان کے 5 اگست 2025 کے مظاہرے کشمیر کاز کے لیے ہو رہے تھے بیرون دنیا میڈیا میں پی ٹی آئی کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ظلم کشمیر میں ہی نہیں ہم پر پاکستانی ادارے بھی کررہے ہیں اس سے بیرونی دنیا میڈیا میں خبروں کا حجم کشمیر پر حکومت پاکستان اور عوام کی محبت اور احتجاج کم ہوگیا۔بھارتی میڈیا 5اگست اور بعد میں پی ٹی آئی مظاہرے دکھاتا رہے گا، بھارتی میڈیا نے اپنی خبروں میں زیادہ وقت اڈیالہ اور ”ہم نہیں یاتم نہیں“کے مذاق کو دیا انہوں نے خبروں کو اس بات کا محور بنایا کہ پاکستان حکومت کشمیر میں ظلم کی کہانیان گڑھ رہی ہے جبکہ جو ظلم وہ عمرانخان پر ڈھا رہے ہیں اسکاجواب کیوں نہیں دیتے ۔ پاکستان کے محب وطن عوام سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی ہمیشہ کی طرح اپنی راگنی گائی اسلئے یوم استحصال کو ہم نہیں یا تم نہیں کانعرہ دے کر پاکستان کے اپنے معصوم ہمدروں کو ایک مرتبہ پھر جیل میں بسا دیا،دانستہ طور پر 5 اگست کا انتخاب کرکے، پی ٹی آئی نے دانستہ کشمیر سے توجہ ہٹا نے کی کوشش کی انکی کوشش تھی کہ 5اگست کو میڈیا میں کشمیر پر دنیا بھر اور پاکستانیوں کی جانب سے ریلیوں کے بجائے انکے احتجاج، گرفتاریوں کا غلبہ رہے کشمیر نہیں، جو سیاسی جماعت یا شخص مسئلہ کشمیر کے حل سے قبل مسئلہ کشمیر کو دفن کرنا چاہے گا پاکستان کے غیور عوام اسے دفن کرنے کی بے پناہ صلاحیت اپنے اتحاد سے رکھتے ہیں۔























