
سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی
پارکنگ ایریا میں گاڑی سے اترتے ہی ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا چہرے سے ٹکرایا، جیسے کسی نادیدہ میزبان نے خیر مقدم کیا ہو۔ یہ شینن فالز کے ٹھنڈے پانی سے ٹکرا کر آنے والی ہواہوں کا جونکا تھا،جو برٹش کولمبیا کی تیسری بڑی آب شار، ” سی ٹو اسکائی ہائی وے ” کے کنارے پر وینکوور سے 58 کلومیٹر وسلر کی طرف واقع ہے۔ ہمارے قدم آب شار کی جانب اٹھنے لگے، لیکن دل پہلے ہی پرواز کر چکا تھا، اُس بلند مقام کی طرف جہاں سے پانی، زندگی کا پیغام لے کر، بلندیوں سے گرتا ہے۔ جہاں پانی اور چٹانوں کی صدیوں پر محیط مکالمہ ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ یہ صرف ایک آب شار نہیں، بلکہ ایک تمثیل ہے، ایک استعارہ ہے اس عشق کا، جو فطرت اور خالق کے بیچ جاری ہے۔ 335 میٹر کی بلندی سے نیچے آتا پانی چٹانوں سے ٹکراتا، شور مچاتا، کبھی نرمی سے، کبھی دھاڑتا ہوا گرتا ہے، گویا آسمان کے دل سے زمین کے سینے تک اُترتا ہے — اور ہر بوند، ہر چھپاکا، قدرت کی طرف سے انسان کے لیے ایک پیغام ہے: ’’رک جا، دیکھ، محسوس کر، اور کچھ سیکھ جا۔‘‘ یہاں پہنچ کر چند لمحے میں، جیسے وقت کے دائرے سے باہر آ گیا ہوں ۔ میرے اردگرد انسانوں کی چہل پہل تھی، مرد بھی تھے عورتیں اور بچے بھی، مگر میرے اندر صرف خاموشی تھی — وہ خاموشی جو صرف عظمتِ فطرت کے سائے میں جنم لیتی ہے۔ یہاں شینن آب شار ایک مجسمہ ہے، مگر پتھر کا نہیں، پانی کا۔ ایک رواں، متحرک، زندگی سے لبریز مجسمہ، جسے کسی فنکار نے نہیں بلکہ قدرت نے وقت، ہوا، اور موسموں کے تناظر میں تراشا ہے۔ ایسی عظمت کو انسان صرف دیکھ سکتا ہے، چھو نہیں سکتا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، بچوں کی ہنسی، اور آب شار کی گونج… یہ سب مل کر ایک ایسے اورکِسٹرہ کی تشکیل دیتے ہیں، جو روح کی گہرائیوں میں اُتر جاتا ہے۔ آب شار کے اردگرد پگڈنڈیاں بنی ہوئی ہیں، جن پر چلتے ہوئے درختوں کی سرسراہٹ، کانوں میں ایسی لَے پیدا کرتی ہے جیسے قدرت کا کوئی راگ بج رہا ہو۔ آب شار کے قرب و جوار میں درختوں کی ٹہنیوں پر اچھلتے پھدکتے پرندوں کی چہچہاہٹ، بوندوں کو پکڑتے بچوں کی ہنسی، اور آب شار کی گونج… یہ سب مل کر ایک ایسے اورکِسٹرہ کی تشکیل دیتے ہیں، جو روح کی گہرائیوں میں اُتر جاتا ہے۔ گو کہ سردی آج بھی اتنی ہی ہے کہ آورکوٹ کی ضرورت پڑے، لیکن چمکتی دوھوپ کا بھی تو کچھ اثر ہے، تب ہی اکثر نوجوان اپنے اوپر پڑھنے والی ٹھنڈے پانی کی بوندوں کو محسوس کر رہے تھے، کچھ ہنستے، کچھ چیختے، اور کچھ چپ چاپ آنکھیں موندے جیسے کسی وصل کی کیفیت میں ہوں۔ نوجوانی بھی کیا آفت چیز ہے، جیسے آب شار کی وہ پہلی چھلانگ ہو، جو بے خوف ہو کر نیچے گرتی ہے نہ زخم کا غم نہ موت کا خوف۔ اور ہم جیسے عمر رسیدہ، بس کنارے کھڑے پانی کے بہاؤ کو دیکھ کر زندگی کے اس بہاؤ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کبھی تھمتا نہیں کبھی رکتا نہیں۔ یہ بہاو کتنوں کو بہا کر لے گیا اور کتنوں کا نمبر لگا ہے۔ یہاں آب شار پر کچھ لوگ پتھروں پر ایسے بیٹھے ہیں جیسے مراقبے میں ہوں۔ کچھ تصویر کشی میں مگن، ان لمحات کو محفوظ کر رہے ہیں جو اپنے ساتھ لے جائیں گے، سنہری یادوں کے طور پر۔۔ اورکچھ خاموشی اور سوچ میں گم پانی کو تکتے جا رہے ہیں — جیسے وہ اس راز کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں جو شینن فالز اور ایسے کئیں اور پوائنٹ کی صورت میں قدرت نے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔




99 ہائی وے کے اس سفر میں جگہ جگہ ایسے ویو پوائنٹ ہیں جنیں دیکھ کر گویا وقت رک جاتا ہے ۔ کبھی “Stawamus Chief” کی چٹانیں حیران کر دیتی ہیں، کبھی دور نظر آتا “Howe Sound” سمندر آپ کو گہرائی کا مفہوم سکھاتا ہے۔ شینن فالز ان سب کے درمیان ایک ایسی علامت ہے جو توازن، خوب صورتی اور سکون کی تصویر بن کر ابھرتی ہے۔ میرے جیسے، جنہوں نے دنیا دیکھی نہیں اس کی تراش خراش اور خوب صورت میں کھو جاتے ہیں۔ اس شاہراہ پر سفر صرف ایک مقام کی سیر نہیں یا ایک خوب صورت پوائنٹ ہی نہیں، ایک داخلی سفر بھی ہے اور متاثر کن معلومات بھی۔ آب شار کے گرتے پانی کے اس شور میں سکون ہے، پہاڑ کی اس بلندی میں عاجزی ہے، اور اس پانی میں وقت کی بے ثباتی کا سبق پنہاں ہے جس میں انسان کو سیکھنے سمجھنے کے لیے اور خاص طور پر عبرت پکڑنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ شینن فالز کے پاس کھڑے ہو کر احساس ہوتا ہے کہ کبھی کبھی انسان کو صرف دیکھنے، محسوس کرنے اور خاموشی سے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی دوران احمر بشیر خان کی آواز نے خیالات کی گہرائی سے نکالا، “ایسے ہر پوائنٹ پر اتنے رکتے رہے تو کیلگری پہنچنے میں چھ مہینے لگیں گے!” اور میں مسکرا دیا۔ شاید یہی مسافت اصل خزانہ ہے، نہ کہ منزل۔ میرے دل میں ایک خیال ابھرا: “کیوں نہ ہم بھی ان پرانے سیاحوں کی طرح ہو جائیں جو تنہا پیدل چلتے تھے، ہر منظر کو سمیٹتے تھے، ہر لمحے کا تجزیہ کرتے اور پھر اسے لفظوں میں ڈھالتے تھے؟” تب ہی سفر اور سفر نامہ میں نکھار پیدا ہوتا اور آج تک ادب اور ادیبوں میں زندہ ہیں، میرے جیسے مسافروں کا بھی بھلا کوئی سفر ہوا۔ شینن فالز کے قدموں میں کھڑا ہو کر احساس ہوا کہ اصل سفر وہی ہے جو انسان کو باہر سے زیادہ اندر کی طرف لے جائے۔ اڑن گھٹولے میں بیٹھ کر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جانا اور خبر تک نہ ہو کہ جہاں سے چلے تھے اور جہاں پر رکے ہیں بیچ میں پانی تھا، خشکی تھی، پہاڑ تھے جنگلات یا کچھ اور تھا، اور تیز رفتار دوڑتی گاڑی میں بھی کون سا سفر ہوا جو سفر نامہ مثالی اور ادبی شاہکار ہو گا۔ سفر اور سفر نامہ کے نتائج تو پیدل ہی چلنے سے نکلیں گے۔ بات کئیں سے کئیں چلی گئی ” سی ٹو اسکائی ہائی وے ” کا سفر ابھی جاری ہے ، جو صرف جسمانی ہی نہیں، روحانی بھی ہے۔ ہر منظر، ہر درخت، ہر بوند ایک کہانی ہے۔ اور شینن فالز اس داستان کا سب سے دلنشیں باب ہے، ایک ایسا باب جسے بند کرتے ہوئے دل نہیں چاہتا۔ لیکن
بحالت مجبوری ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ہاں، شینن آب شار کا قصہ تمام ہوا، لیکن یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ پھر ملیں گے شاید کسی اور فال، کسی اور پہاڑ، یا کسی اور جھیل کے کنارے پر کسی خوب صورت قصبے میں جہاں ہم رکیں گے — لیکن ہر مقام پر قدرت ہمیں خود ہم سے ملوائے گی، اور ہم آپ سے مل کر باتیں کریں گے پھولوں کی، خوشبو کی پانی اور ہوائوں کی جو زندگی ہے آپ کی اور میری بھی۔ انتظار کیجئیے گا اگلی ملاقات تک























