پاکستانی سیاسی رہنماؤں میں کون کس عمر میں ہے ؟ نواز شریف، عمران خان آصف زرداری ،مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو مریم نواز ،چوہدری شجاعت حسین ،محمود اچکزئی ،حافظ نعیم کے بارے میں رپورٹ

پاکستانی سیاسی رہنماؤں میں کون کس عمر میں ہے ؟ نواز شریف، عمران خان آصف زرداری ،مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو مریم نواز ،چوہدری شجاعت حسین ،محمود اچکزئی ،حافظ نعیم کے بارے میں رپورٹ


سینٹر فیصل واوڈا نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران دعوی کیا ہے کہ پاکستان میں صرف دو ہی لیڈرز ہیں ان کے مطابق پہلے عمران خان تھے اور بلاول بھٹو نظر اتے ہیں جبکہ نواز شریف جس عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں مزید شرمندہ نہ کیا جائے ۔فیصل واوڈا کے اس بیان کی روشنی میں ائیے دیکھتے ہیں پاکستانی سیاسی رہنماؤں کی عمر کیا ہے کون کون کس عمر میں ہے کہ اس کو شرمندہ کیا جائے یا نہ کیا جائے ۔
پاکستان کی سیاست میں سابق وزیر اعلی سید قائم علی شاہ اور سابق وزیر اعلی سید غوث علی شاہ اس وقت 91، 91 سال کے ہیں سابق نگران وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین 79 برس کے ہیں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی 72 برس کے ہیں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف 74 برس کے ہیں سابق وفاقی وزیر مخدوم جاوید ہاشمی 77 برس کے ہیں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 68 برس کے ہیں مختلف صورتوں میں وزرائ اعلی کی بات کریں تو تین گھنٹوں اور سرفرازی سندھ کے وزیراعظم سید مراد علی شاہ اس سے چھوٹے ہیں مراد علی شاہ 62 برس کے ہیں جبکہ سب سے چھوٹی وزیر اعلی مریم نواز شریف ہیں جو 51 برس کی ہیں 76 برس کے ہیں مولانا فضل الرحمان 71 برس کے ہیں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 73 برس کے ہیں صدر پاکستان اصف علی زرداری 69 برس کے اور بلاول بھٹو زرداری 36 برس کے ہیں عمران خان 72 برس کے اور نواز شریف 75 برس کے ہیں ۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن 55 برس کے ہیں
====================

اس وقت پاکستان میں 2 ہی لیڈرز ہیں
پہلے عمران خان تھے اور اب بلاول بھٹو نظر آتے ہیں، نواز شریف جس عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں مزید شرمندہ نہ کیا جائے، سینیٹر فیصل واوڈا کی گفتگو

اس وقت پاکستان میں 2 ہی لیڈرز ہیں

لاہور – فیصل واوڈا نے پاکستان میں اس وقت صرف عمران خان اور بلاول بھٹو کو لیڈر قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 2 ہی لیڈرز ہیں، پہلے عمران خان تھے اور اب بلاول بھٹو نظر آتے ہیں، نواز شریف جس عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں مزید شرمندہ نہ کیا جائے۔
عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری سب محب وطن ہیں، پاک بھارت کشیدگی کے دوران تحریک انصاف کا بطور اپوزیشن کردار مثالی رہا۔ عظمٰی بخاری کی جانب سے نواز شریف کو بھارت کیخلاف حالیہ ملٹری آپریشن کا کریڈٹ دیے جانے پر بھی سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے ردعمل دیا گیا۔ اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فیصلہ واوڈا نے کہا کہ یہ لوگ جاہل ہیں، ان میں سیاسی شعور نہیں ہے، یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں، نواز شریف جس عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں مزید شرمندہ نہ کیا جائے۔

ایک اور نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستانی میڈیا نے پورے ملک کو متحد رکھا، پاکستان کے میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ عمران خان سے جیل میں اہم ملاقات کی خبر کا کوئی سر پیر نہیں۔ میری خواہش تھی کہ ملاقات ہوتی لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک لیڈرشپ کوالٹی دکھائی۔
پورا پاکستان ایک ساتھ کھڑا ہوا ہے، شہبازشریف کے پاس مذاکرات شروع کرنے کا سنہری موقع ہے، وزیراعظم شہبازشریف کو لیڈرشپ کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ پنجاب حکومت ٹک ٹاک حکومت ہے، کوئی بیان نہیں آیا، پی ٹی آئی کے اندر بھی غیرسنجیدہ لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر آئیں۔ پاک بھارت جنگ کے دوران تمام سیاستدانوں نے بھی اچھا کام کیا۔ نوازشریف نے جنگ کے دوران خاموشی اختیار کئے رکھی، مریم نواز نے اپنے والد کو آپریشن اور جہاز کا کریڈٹ دے دیا ۔