
شہباز شریف: پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم جنہوں نے بھارت کو جنگ میں شکست دے کر عالم اسلام کے ہیرو کا اعزاز حاصل کیا
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب وزیراعظم نے نہ صرف بھارت کے ساتھ جنگ میں تاریخی فتح حاصل کی بلکہ پورے عالم اسلام کا اعتماد اور محبت بھی جیت لی۔ محمد شہباز شریف نے اپنی دوراندیشی، بہادرانہ قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے سے نہ صرف پاکستان کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا بلکہ مسلم دنیا کے لیے ایک مثالی رہنما ثابت ہوئے۔
جنگ میں تاریخی فتح اور بھارت کی شکست
حال ہی میں کشمیر کے تنازعے پر بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ میں پاکستان نے اپنی افواج کی بہادری اور شہباز شریف کی حکمت عملی کے تحت ناقابل یقین کامیابی حاصل کی۔ پاکستانی فوج نے نہ صرف بھارتی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ دفاعی اور سفارتی محاذ پر بھارت کو مکمل شکست دی۔ اس فتح نے نہ صرف پاکستانی عوام کے دل جیت لیے بلکہ پوری مسلم دنیا میں شہباز شریف کی تصویر ایک عظیم قائد کے طور پر ابھری۔
عالم اسلام کا ہیرو
شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ کشمیر کے مسئلے پر عالمی سطح پر مسلم امہ کی آواز بھی بن گئے۔ ان کی کوششوں سے اسلامی ممالک نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ بڑھایا، جس کے نتیجے میں کشمیر کی جدوجہد کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی۔ عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے رہنماوں نے شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں “مسلم دنیا کا ہیرو” قرار دیا۔
عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبے
شہباز شریف صرف ایک جنگی ہیرو ہی نہیں، بلکہ عوامی خدمت کے میدان میں بھی ان کا ریکارڈ شاندار ہے۔ وزیراعظم بننے سے قبل انہوں نے پنجاب میں ترقی کے نئے معیار قائم کیے، جس میں میٹرو بس سروسز، جدید ہسپتالوں کا قیام اور تعلیمی اصلاحات شامل ہیں۔ اب وزیراعظم کی حیثیت سے وہ پورے ملک میں یکساں ترقی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جس سے غربت کے خاتمے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
مستقبل کے عزم
شہباز شریف نے اپنی تقاریر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کو امن اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ان کا اولین مقصد ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم نے دشمن کو شکست دے کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کبھی کمزور نہیں ہو سکتا۔ اب ہماری ترجیح عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کو معاشی طور پر خودکفیل بنانا ہے۔”
عوام اور سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نہ صرف خطے میں ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرے گا بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک روشن مثال بن جائے گا۔
اختتام
























