
سچ تو یہ ہے،
سی ٹو اسکائی ہائی وے پر وینکوور سے وسلر تک، زمین سے آسمان کا سفر۔۔
بشیر سدوزئی
صاحبو! ہم گزشتہ کئی روز سے سفر میں ہیں، اور یہ سفر ابھی کئیں روز اور جاری رہے گا، مانا کہ یہ ابن بطوطہ یا مارکو پولو کا سفر نہیں جو پیدل یا گدھے کی پیٹھ پر بیٹھ کر کیا جاتا ہو، لیکن سفر تو سفر ہے، چاہیے کسی کا بھی ہو اور کسی پر بھی ہو، تھکاوٹ تو ہوتی ہے مسافر کو، مگر یہ میرا شوق ہے، اسی باعث گئی ممالک کے سفر کر چکا، لیکن برٹش کولمبیا کا سفر بھی کیا سفر ہے، نہ بھوک نہ تھکاوٹ، بس نظریں ہیں کہ تھک نہیں رہی تشنگی باقی رہتی ہے۔ کیا دیکھیں اور کیا چھوڑیں ۔ میں سوچتا تھا ہالی وڈ والوں کو کیا پڑی ہے جو ساری دنیا چھوڑ کر برٹش کولمبیا میں آن کھستے ہیں، لیکن خواتین مصر کو ملکہ کے عشق کا اس وقت پتہ چلا جب انگلیاں کاٹ بیٹھی اور دیدار یوسف کو روک کر انگلیوں سے خون بند کرنا بھی بھول گئیں۔ ہمیں بھی ہالی وڈ کے مکینوں کی بے چینی کا اس وقت اندازہ ہوا جب ہم برٹش کولمبیا میں اترے، کس پہاڑ کو دیکھیں اور کس جھیل کے کنارے کھڑے ہوں کسی شہر کی منظر کشی کریں یا کسی پہاڑ کی تصویر اتاریں۔ جنگلات کی ایک سیریز، اور میدان ہیں کہ ختم ہو کر نہیں دیتے ۔ سلسلہ کوہ کی تو بات ہی کیا کسی جگہ بلند اتنے کہ گلیشیئرز پگل پگل کر وادیوں میں گرتے ہیں اور قدرتی جھیلیں ٹھنڈے میٹھے پانی سے بھری ہوئی ہیں۔ لیکن چوٹیوں پر سے برف ختم نہیں ہوتی۔ برٹش کولمبیا پاکستان کے کل رقبہ سے لگ بھگ ساڑے چھ ہزار کلومیٹر بڑا ہے۔

بالکل صحیح کہا کسی نے کہ کبھی کبھی سفر منزل سے زیادہ خوب صورت اور دیدا زیب ہوتا ہے، اگر وہ سفر “Sea to Sky Highway” برٹش کولمبیا کی 99 ہائی وے جیسی شاہراہ پر ہو، تو ہر لمحہ ایک نئی تصویر، ایک نئی کہانی بن جاتا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ میں کیا کروں کس لمحے کی تصویر اتاروں اور کس کی کہانی لکھوں، نہ مجھ میں اتنی ہمت اور نہ میرے قارئین میں اتنی تاب۔ مختصر پر ہی کام چلے گا ورنہ کینیڈا اور خاص طور پر برٹش کولمبیا کے پہاڑوں نہروں، کھیتوں اور کھلیانوں، دریاوں اور جھیلوں کے بارے میں پوری تفصیل ممکن نہیں لکھناا۔ 99 ہائی وے جتنی طویل اور بلندیوں کو چھوتی ہے اس کے اطراف کا ہی اگر احاطہ کریں تو کتابیں نہیں لائبریریاں بھر جائیں۔ یہ شاہراہ واشنگٹن ڈی سی کی سرحد پر واقع پوائنٹ رابرٹس کے قریب سے شروع ہو کر نارتھ وینکوور، ویسلر، اور پمبرٹن سے گزرتی ہوئی لیلوئٹ (Lillooet) کے قریب جا کر ختم ہوتی ہے۔ ہائی وے 99 کا ایک مشہور حصہ فطرت اور بلندیوں سے قربت کے باعث “سی ٹو اسکائی ہائی وے” (Sea to Sky Highway) کہلاتا ہے، جو وینکوور سے ویسلر تک کا خوب صورت راستہ ہے۔ ہمارا آج رات کا قیام وسلر میں ہی ہے، جس کی خوب صورتی اور شہرت کا یہ عالم کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے اولمپکس گیمز کے لیے اس شہر کا انتخاب کیا۔ کبھی برف اور کبھی جنگلات و ہریالی سے ڈھکے پہاڑوں، بلندیوں ، وادیوں، بہتے شور مچاتے دریاوں اور ندی نالوں کو عبور کرتے، کبھی جھیلوں اور آبشاروں کو چھوتے یہ شاہراہ وسلر سے دور آگئیں لیلوئٹ کو سلام کر کے 97 ہائی وے سے ملاقات کرتی اور اپنے سینے پر اٹھائے ہوئے بوج کو اس پر منتقل کرتی ہے۔

یو جانیے کہ 99 شاہراہ پر سفر، زمین سے آسمان کی طرف کا سفر ہے، ہم اب اسی شاہراہ پر سفر کرنے والے ہیں، جو وینکوور شہر کے نواحی علاقے کیپی لانو بحرالکاہل کی نیلاہٹ کے کنارے سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے ایک طرف دریا کیپی لانو کی بہتی موجوں کا چٹانوں سے ٹکرانے کا شور اور دوسری جانب برف سے ڈھکے آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں اور جنگلات کا سکون ساتھ ساتھ چلنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھتی ہے، منظرنامہ بدلتا ہے اور دل کشی میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔
وینکوور کے اطراف میں کئی بڑی، بڑی جھیلیں ہیں، ہم 99ہائی وے پر سفر شروع کرنے سے پہلے ایک جھیل دیکھنے چلے گئے جو احمر بشیرخان نےانٹرنٹ کی مدد سے تلاش کر کے پہلے ہی شڈول میں شامل کر رکھی تھی۔ یہ جھیل وینکوور کے مشرق میں تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے دامن میں کئی کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ میرے اندازے کے مطابق یہ دریا کیپی لانو پر قدرتی جھیل ہے۔ یہاں بورڈ پر درج معلومات کے مطابق جھیل کے اطراف میں 19 کلومیٹر طویل پیدل چلنے اور سائیکلنگ کے راستے، 6 کلومیٹر گھڑ سواری اور دیگر سرگرمیوں کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ جھیل میں تیراکی کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی شکار کر سکتے ہیں ۔ یہ پرندوں سے باتیں کرنے فطرت سے لطف اندوز ہونے اور سکون کے لمحات گزارنے کے لیے
بہترین مقام ہے۔ ہم کچھ دیر جھیل کے ویو پوائنٹ پر کھڑے رہے جہاں ایک چبوترہ نما کشادہ جگہ پر لکڑے کے بنچ رکھے ہوئے ہیں ۔ جھیل کے کنارے پر جنگلا لگا ہوا ہے تاکہ سیاح پانی تک نہ جا سکے۔ پہاڑوں کے درمیان حد نظر نیلگوں پانی مکمل خاموش اور پر سکون ہے۔ کبھی کبھار کچھ پرندے پانی پر بیٹھ کر تیرنے لگتے ہیں اور کبھی کوئی مچھلی خود کو ظاہر کر کے پھر ڈبکی لگاتی ہے تو پانی میں ہلکی سی آواز آتی ہے۔میرے دل نے کہا کہ یہاں ایک پتھر پھینک کر ہلچل مچاو، اور دیکھوں کہ اس پرسکون ماحول میں پانی میں پیدا ہونے والی ارتعاش کا کیسا لطف آتا ہے، لیکن بچوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ یہ حرکت کینیڈا کے معاشرے میں مناسب نہیں سمجھی جائے گی۔ میں نے پوچھا پانی میں ایک ہلکا سا پتھر مارنے سے اٹھنے والی ارتعاش سے معاشرے کو کیا مسائل ہوں گے۔ فرمایا گیا، آپ کے اس شوق سے مچھلیوں اور پرندوں میں خوف پیدا ہو گا کہ ہمیں کوئی چھیڑ رہا ہے اس طرح آپ جانوروں کے حقوق متاثر کر رہے ہوں گے۔ میں نے پوچھا پانی میں تیرتی مچھلیوں اور ہوائیوں میں اڑتے پرندوں کے کیا حقوق ہوتے ہیں۔ احمر بشیر خان اور انا بی بی ہنس پڑے، بولے اسی لیے تو ہمارا کینیڈا
عظیم ہے کہ یہاں صرف انسانوں کے ہی نہیں ہر جاندار کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے، آپ اپنی آزادی کی حد سے اتنے آگئیں نہیں بڑھ سکتے کے دوسرے کے حقوق متاثر ہوں۔ آپ کا پانی میں پھینکا ہوا یہ پتھر کسی مچھلی کو زخمی بھی کر سکتا ہے۔ اور اس وقت پانی پر جو پرندے بیٹھے تیر رہے ہیں پانی میں گرنے والے پتھر کی آواز اور پانی میں اٹھنے والی ہل چل و لہروں سے خوف زدہ ہو کر اڑیں گے، تو ان کو تکلیف ہو گی، ان میں خوف پیدا ہو گا، اس لیے آپ کو یہ کرنے کا اختیار نہیں ۔ میں تھوڑ دیر کے لیے سوچتا رہا کہ یہ کیسا ملک ہے کہ ایک مسافر کے دل کو تھوڑے سے سکون پہنچانے کے لیے مچھلیوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ پر گھسنا اور پرندوں کا غیر ارادی اڑنے کی بے سکونی بھی گوارا نہیں۔ ہم تو اپنی خوشی کے لیے انسانوں کے سکون کو برباد کر دیتے ہیں کوئی نہیں روکتا کوئی نہیں ٹوکتا، اور نہ قانون حرکت میں آتا ہے۔ اسی سوچ میں گم تھا کہ مجھے احساس ہوا میرے پاوں پر کچھ گرا ہے، جھنجھلا کر دیکھا تو وہی پتھر تھا جو میں نے پانی میں ارتعاش پیدا کرنے کے لیے اٹھایا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کوئی بھی ایسی حرکت جو غیر ضروری اور غیر مناسب ہو دوسرے کے لیے تکلیف دہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ کینیڈا کی آزاد اور پر سکون زندگی صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں ہر جاندار کے لیے ہے ہم جھیل پر باقی ساری سرگرمیاں بند کر کے “سی ٹو سکائی وے” کی طرف بڑے اور جلد ہی اس پر رواں دواں ٹریفک میں شامل ہو گئے۔ ابھی صرف 30 کلومیٹر کا فاصلہ طہ کیا تھا کہ وینکوور کے بعد 99 ہائی وے کے پہلے قصبہ لائینز بے تک (Lions Bay) تک پہنچے گئے۔ لائینز بے برٹش کولمبیا میں واقع ایک خوبصورت اور پُرسکون گاؤں ہے، جو میٹرو وینکوور کا حصہ ہے ۔ اس کے جنوبی کنارے پر گلیشیئرز کے پگھلنے سے بنی گہری اور تنگ خلیج، ہوڈ ساونڈ ہے جو تین اطراف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ “سی ٹو سکائی ہائی وے” پر سے گزرتے اس خلیج کا نظارہ سفر کو اور بھی دل فریب بناتا ہے۔ لائینز بے ایک پُرسکون، قدرتی مناظر سے بھرپور گاؤں ہے۔ برنسوک ماؤنٹین، ماؤنٹ ہاروی، اور دو مشہور چوٹیاں “دی لائینز” (The Lions) کے سربراہ پر جھکی ہوئی ہیں
جو کوہ پیمائی کے لیے مشہور ہیں۔























