“سی ٹو اسکائی ہائی وے’ کا سفر، حسین نظاروں اور قدرت کی قربت کا احساس،

سچ تو یہ ہے،

“سی ٹو اسکائی ہائی وے’ کا سفر، حسین نظاروں اور قدرت کی قربت کا احساس،

بشیر سدوزئی

برٹش کولمبیا کی اس عظیم شاہراہ “سی ٹو اسکائی ہائی وے” پر ہمارا سفر جاری ہے۔ اس کے اطراف جتنے بھی علاقے ہیں سب خوب ہیں جن کی جتنی بھی تعریف لکھی جائے کم ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد کے لیے یہ سرزمین جنت جیسی ہے جو معمولات زندگی سے اتنے تھک جاتے ہیں کہ کبھی کبھی ان کو خیال آتا ہے کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ایک لمحہ خاموشی و تنہائی کا، قدرت کی قربت کا اور حسین و دل کش نظاروں کے ساتھ باتیں کرنےکا ملے، جہاں نیلا آسمان ہو، گہرا صاف شفاف پانی ہو، اطراف میں سرسبز باغات اور بلند برف پوش پہاڑ سر پر ہوں، تو پھر پورٹو کوو (Porteau Cove) کا انتخاب بہترین ہو سکتا ہے۔ پورٹو کوو، برٹش کولمبیا کی “سی ٹو اسکائی ہائی وے” کے کنارے وینکوور سے 38 کلومیٹر کے فاصلے پر خوب صورت علاقوں میں سے ایک ہے۔ ہم نے وینکوور سے یہاں تک کا فاصلہ ڈیڑھ گھنٹہ میں طہ کیا، یہ مقام نہ صرف فطری خوب صورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ یہاں کیمپنگ، غوطہ خوری، فوٹوگرافی اور سکون سے وقت گزارنے کے شوقین افراد کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔ صبح کی خنک ہوا،،آبشاروں، جھیلوں اور دریاوں کی لہروں کی مدھم آوازیں، سورج کے طلوع و غروب کے مناظر سمیت اور کئی مناظر ایسے ہیں جو دل کو چھو لیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت سے براہِ راست ملاقات ہو رہی ہے۔ یہاں ایک سمندر نما دل کش جھیل ہے جس کے کنارے نصب بینچوں پر بیٹھ کر چائے یا کافی کا کپ ہاتھ میں ہو، تو وہ لمحہ آ پہنچتا ہے جس کا انتظار آپ کو سالوں سے رہا ہو گا۔ اس خوب صورت مقام کا دورہ کرتے ہوئے ہم نے قدرتی تحائف کی حفاظت کا خاص خیال رکھا۔ کافی کا خالی ہونے والا کاغذی کپ پکڑے گھومتے رہے کہ کئیں کچرا دان نظر آئے تو اس کو ٹھکانے لگایا جائے لیکن نظر کئیں نظر نہیں آیا، چھوٹے بڑے کئیں ندی نالے عبور کئے جہاں اپنی روایات اور معاشرتی تربیت کے مطابق خالی کاغذی گلاس کو ان کے حوالے کیا جا سکتا تھا،

لیکن پورے علاقے میں کچرے کا ایک تنکا بھی نہیں، ایسے صاف اور اجلے ماحول میں خالی کاغذی گلاس کو ندی نالوں یا سڑک کے کنارے پر پھینکنا، مجھے لگا کہ یہ گلاس کچرے کا ڈھیر لگے گا۔ بلاآخر اس خالی گلاس کو گاڑی میں واپس لے آیا اور اس تھیلے میں رکھ دیا جہاں پہلے سے اس مقصد کے لیے کچرا جمع کیا جا رہا تھا کہ جب کسی جگہ ڈسٹ بین نظر آئے گا تو کچرا کا یہ تھیلا ٹھکانے لگایا جائے گا۔ ہمارے لیے ایسا کرنا مجبوری نہیں تھی لیکن ادھر کینیڈا میں الٹا حساب چل رہا ہے۔ ہمارے پاکستان میں ہم کچرا چلتی گاڑی سے باہر پھینکتے ہیں اور یہاں باہر سے کچرا لا کر گاڑی میں سنبھالا جاتا ہے جیسے بڑی قیمتی شہ ہو۔ اس عمل سے ایک تو شہر سے دور دراز کے علاقوں میں بھی صفائی برقرار رہتی ہے اور لوگوں میں صفائی ستھرائی کی عادت بھی مضبوط ہوتی ہے۔جب کہ یہ جنگلی حیات کی حفاظتی اقدامات و احترام کے حوالے سے مقامی قوانین و اصولوں کی پاسداری بھی ہے۔ کینیڈا میں کوئی بھی شخص کسی بھی جانور کو کچھ کھلا نہیں سکتا وہ پرندے ہوں چرندے یا درندے۔ یہ قانون کی خلاف ورزی اور قابل گرفت جرم تو ہے ہی لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کسی کی دی ہوئی خوراک غیر معیاری ہونے کی صورت میں جانور کو بیمار یا ہلاک کر سکتی ہے۔ جانوروں کی حفاظت کی خاطر ایسے حفاظتی اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جنگل یا جھیل میں تو آپ خوراک ڈال ہی نہیں سکتے اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ نے جرم کیا۔۔ ابھی تک کینیڈا کے تین صوبوں کا تفصیلی دورہ کر چکا، کسی چوک چورہاہے پر کبوتروں اور چڑیوں کے غول کو دانہ چگتے نہیں دیکھا، نہ کوئی بھوکا مرا دیکھا۔ کینیڈین کا کہنا ہے کہ پرندوں کی خوراک آپ کی ذمہ داری کب سے ہو گئی، یہ سوشل ویلفیئر ریاست ہے، یہاں کوئی کتا بھی بھوکا مرا تو حاکم وقت ذمہ دار ہو گا۔ یہ تو محاورے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جب کہ کینیڈا کے کتے جس قدر مزے میں ہیں، جو سہولتیں اور خدمت گزاری ان کی ہو رہی ہے تیسری دنیا کے لوگوں کو اس کے بارے میں پورا علم ہو جائے تو وہ ایسی سہل اور آرام دہ زندگی کے لیے دعا کریں۔۔۔اسی باعث اسے ملک میں جانوروں کے بھی حقوق کی بات ہی نہیں خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ یہاں ہم ” سی ٹو اسکائی ہائی وے ” کے کنارے پر واقع قصبہ “پورٹو کوو ” جو ایک پار نما کھلی جگہ ہے، میں کچھ دیر رکھے اور کالی کافی کی چسکی کے ساتھ ٹھنڈے موسم اور سرد ہواوں میں قدرتی ماحول کا لطف اٹھایا “پورٹو کوو” صرف ایک تفریحی مقام نہیں، بلکہ یہاں کا قیام ایک یادگار تجربہ اور سفر کے لطف کو دوبالا کرتا ہے۔ اگر آپ زندگی کی دوڑ سے کچھ لمحے چرا کر سکون چاہتے ہیں، تو ایک بار ضرور ” پورٹو کوو ” کا سفر کریں جو زمین پر جنت کا سفر ہو سکتا ہے۔ “پورٹو کوو” واقعی میں بہت خوب صورت ہے تاہم کینیڈا میں جس قدر پانی کے ٹھنڈے میٹھے ذخیرے ہیں شاید ہی کسی دوسری سرزمین پر ہوں۔ دنیا کے کل پانی کا چوتھا حصہ اللہ تعالٰی نے کینیڈا کی سر زمین پر دیا، چپے چپے پر چھوٹی بڑی آبشاریں اور سمندر سے چھوٹی چھوٹی جھیلوں تک ہر حصہ ہر شہر اور ہر گاوں میں پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ ہم نے کچھ دیر قیام اور کافی سے مظوظ ہونے کے بعد Sèe to Sky Highway پر سفر کو جاری رکھا، یوں محسوس ہورہا ہے جیسے کسی داستانوی راہ پر چل نکلے ہوں۔ Sea to Sky Highway کا یہ راستہ، جو آسمان کو زمین سے ملاتا ہے، کینیڈا کے دلکش ترین مناظر میں سے ایک ہے۔ دائیں جانب نیلا سمندر نما دریا کیپی لانو، بائیں طرف برف سے ڈھکے پہاڑ، اور بیچ میں ہم، وسیع و کشادہ شاہراہ پر گاڑی کو بھگا رہے ہیں، میں نے احمر بشیر خان کو گاڑی ذرا آہستہ چلانے کا کہا تو وضاحتیں شروع ہو گئیں، اس شاہراہ پر گاڑی کی رفتار کا تعین کر دیا گیا ہے، اس سے زیادہ رفتار سے چلائیں گے تو کیمرے محفوظ کریں گے پھر بھارا چلان ہو گا، اتنا کہ جتنا شاید ہم سارے سفری پروگرام پر خرچ کر رہے ہوں اور کم رفتار میں چلائیں گے تو ہمارے پیچھے آنے والوں کو پریشانی ہو گی، ان کو آور ٹیک کرنا پڑے گا وہ بھی قانونی درست نہیں اور ان شاہراہوں پر خطرے ناک ہو سکتا ہے۔ انا بی بی نے اس پر لقمہ دیا کہ ابو اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں اسٹیرنگ ہو وہی سڑک کا بادشاہ، چاہے قانون کی جیسے تشریح کرے ہمیں وہی ہی صحیح ماننی پڑے گی ۔۔ احمر بشیر نے اس میں اپنی سبکی محسوس کی اور فورا ہی بول بڑا نہیں جی یہ کوئی پاکستان نہیں ہے اور نہ میں پاکستان کا بیوروکریٹ یا سیاست دان ہوں کہ قانون کو اپنی لونڈی سمجھ لوں، کینیڈا ہے اور میں کینیڈا کا معزز شہری ہو، قانون کا میں اس سے بڑ کر احترام کرتا ہوں، جتنی عزت و احترام قانون نے مجھے دے رکھا ہے ۔ میں اپنے ملک کے قانون کا احترام نہیں کروں گا تو میرا احترام کیوں کر ہو گا۔ اس پر خاصی بحث چل نکلی کینیڈا کے دو تعلیم یافتہ شہریوں کے درمیان، اس سے پہلے کے بحث لمبی ہوتی اور ہمارے سفر کا کچھ حصہ لطف اٹھائے بغیر ہی گزر جاتا، ہم نے سربراہی اختیارات استعمال کرتے ہوئے مداخلت کی اور بات قانون کی موشگافیوں، ایوانوں اور قانون اور دستور کی کتابوں سے نکال کر ” سی ٹو سکائی ہائی وے ” پر لے آیا۔ اور کہا کہ یہ قدرت نے جو شاہکار بنایا سو بنایا مگر اس ملک کے اداروں اور حکم رانوں کے لیے بھی بے ساختہ دعا نکلتی ہے کہ انہوں نے اس کو برباد نہیں بلکہ نکھارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم نے تو قدرت کے عطیات کی بھی بےتوقیری کی، جنگلات کاٹ کاٹ کر بیچ دئیے، اور شہر کچرے اور سیوریج سے بھر دئیے ۔ اس پر ایک مرتبہ پھر کینیڈا کے اداروں، سیاست دانوں اور معاشرے کی تعریف و توصیف میں گفتگو شروع ہوئی اور یہ بھی تسلیم ہوا کہ اس سرزمین کو خوب صورت اور صاف ستھرا رکھنے میں حکم رانوں اور اداروں کے ساتھ عوام کا بھی پھر پور تعاون شامل ہے۔ یہ ایک مثال کافی ہے کہ ہم اپنے کچرے کو گاڑی میں اٹھائے اٹھائے گھوم رہے ہیں کہ کہاں ڈسٹ بین ملے اور اس کو ٹھکانے لگائیں ورنہ پھینکنے کو اتنی کئی جگہیں ہیں کہ ہمیں کون پکڑے گا اور کتنی سزا دے گا۔۔ اگر ہر کوئی کچرا ہی زمین پر پھینکنے لگے تو ادارے کتنا اٹھائیں گے اور حکومت کتنوں کو سزا دے گی۔ ایسی صورت میں کینیڈا نے کیا صاف رہنا اور زمین میں کیا خوب صورتی رہ جائے گی۔ اسی گفتگو کے اور حیرت زدہ نگاہوں کے ساتھ، قدرت کی شان کا مشاہدہ کرتے جا رہے تھے۔ میں نے اپنی طرف سے گاڑی کا شیشہ نیچے گیا تو ہوا کے ساتھ خوشبو اور درختوں، پودوں کی مہک کا ایک جھونکا گاڑی میں داخل ہوا، یوں لگا جیسے پوری گاڑی معطر اور فگار و تھکے جسم میں طمانیت پیدا ہو گئی۔ اسی دوران ہم اسکوا مش کے قریب پہنچے تو ایک پرچم نما سائن بورڈ نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لی: “Shannon Falls Provincial Park”۔ ہم نے پھر کہنہ مشق سیاح کو طور پر یہاں رکھنے کا کہا کہ اتنی خوب صورت آبشار کو دیکھے بغیر یہاں سے آگئیں نہیں گزر سکتا۔ گاڑی کو پارکنگ میں لگا کر نیچے اترتے ہی تھے کہ آبشار سے گرتے پانی کی کرنیں فضاء میں مچلتے نظر آئیں اور پانی کی گونج سنائی دینے لگی۔ جیسے کوئی پہاڑ کے دل میں چھپی طاقت آہستہ آہستہ بیدار ہو رہی ہو۔( سفر اور سفرنامہ جاری ہے)