معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد عمران یوسف (ستارہ امتیاز)نے کہاکہ ہر کام مکمل یکسوئی اور پوری توجہ سے کرنا چاہیے۔ مثبت عادات اپنانے سے ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے

معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد عمران یوسف (ستارہ امتیاز) منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے اجلاس میں’’نونہالوں کی ذہنی صحت :تشویش،دبائو، ڈپریشن اور تھکن کے چیلنجز ‘‘ کے موٖٖضوع پر بیت الحکمہ آڈیٹوریم ، مدینۃ الحکمہ میں نونہالوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد عمران یوسف (ستارہ امتیاز)نے کہاکہ ہر کام مکمل یکسوئی اور پوری توجہ سے کرنا چاہیے۔ مثبت عادات اپنانے سے ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلیمی اہداف متعین کیجیےاور پھر اُن اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پورے انہماک سے تعلیم حاصل کریں۔ ہر چھوٹی کامیابی انسان کو پُراعتماد بناتی ہے۔ہر طالب علم کو مستقل مزاجی جیسی خوبی پیدا کرنی چاہیے۔وہ گزشتہ روز بہ حیثیت مہمان خصوصی بیت الحکمہ آڈیٹوریم ، مدینۃ الحکمہ میں منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے ماہانہ اجلاس بہ عنوان ’’نونہالوں کی ذہنی صحت :تشویش،دبائو، ڈپریشن اور تھکن کے چیلنجز ‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اجلاس میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان بھی شریک ہوئے۔نظامت کے فرائض اسپیکر نونہال اسمبلی سیدہ مریم فاطمہ (ہمدرد پبلک اسکول) نے انجام دئیے۔
ڈاکٹر عمران یوسف نے کہاکہ پاکستانی نونہالان اور نوجوانوں کے لیے شہید حکیم محمد سعید ایک بہترین قابل تقلید رول ماڈل ہیں، جنھوں نے اپنی صلاحیتوں اور قوت ارادی کی بدولت دنیا بھر میں اپنا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نےجس طرح شہید پاکستان کے مشن کو آگے بڑھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہماری مشرقی تہذیب ہمارا اثاثہ ہے جو ہمیں رشتوں کا تقدس سکھاتی ہے۔صلہ رحمی اور معاف کرنا صرف اعلا اخلاق ہی نہیں بلکہ ہماری اپنی صحت کے لیے ضروری ہے۔ غصہ غم ہمیں مستقل ذہنی دبائو میں رکھتے ہیں۔
اُنھوں نے مزید کہاکہ سوشل میڈیا نشے کی طرح لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواچکا ہے اس کا کم سے کم استعمال ہونا چاہیے۔ آن لائن کاروبار کا ماڈل ترقی پذیر ممالک کے لیے کئی مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کو یقیناً نئےجدت پسند انٹر پرینیورز چاہئیں۔البتہ فون کا غیر ضروری استعمال آپ کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ پژمردگی اورمایوسی انسانی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہر عمل کا مقصد تعمیری ہونا چاہیے۔ علم پھیلانے سے بڑھتا ہے۔ اگر آپ اپنے ایسے ساتھیوں کو پڑھائیں جو تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں تو آپ کی ذہنی صحت اچھی ہوگی۔ اُن کی کامیابی آپ کی کامیابی ہوگی۔ آپ کی اپنی معلومات ذہن نشین ہوتی ہے۔ پھر آپ عمر بھر اُس معلومات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
نونہالان کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اپنے اوپر اعتماد کرنا سیکھیں، غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں۔ اپنی غلطی پر پشیمان ہونا چاہیے لیکن اُس غلطی کا روگ نہیں لگانا چاہیے۔ ہمارا مسئلہ فقدان ِ نعمت نہیں کسرتِ نعمت ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں جو اللہ کی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے لاکھوں ہم وطن اشیائےضروریہ کے لیے روزانہ شب و روز تگ و دو کرتے ہیں۔اپنی ذہنی صحت کے لیے دوسروں کی مدد کرنا شروع کریں۔ اُن کی خوشی آپ کو بھی مسرور کرے گی۔
نونہال مقررین بہ شمول قائد ایوان عائشہ فواد( ہمدرد پبلک اسکول)، قائد حزب اختلاف سید محمد شجاع(ہمدردپبلک اسکول)، عمر عظیمی (عظیمی پبلک ہائر سیکنڈری اسکول)، کرینہ اعوان(دی سیوی اسکول)، بریرہ صدیقی (جی سی ٹی ہلال اسکول) اور زینت (ہمدرد ولیج اسکول) نے موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔روز ہائوس گرامر اسکول کے طلبہ نے تھیٹر پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ولیج اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔


ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام ایک نونہال مقررہ کرینہ اعوان منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے اجلاس میں’’نونہالوں کی ذہنی صحت :تشویش،دبائو، ڈپریشن اور تھکن کے چیلنجز ‘‘ کے موٖٖضوع پر بیت الحکمہ آڈیٹوریم ، مدینۃ الحکمہ میں خطاب کر رہی ہیں