
“کراچی کا المیہ: 11 دن سے پانی کے بحران پر خاموشی، کیا چھپا رہے ہیں KWSC کے سربراہ؟”
کراچی: گزشتہ 11 دن سے شہر کے نصف علاقوں میں پانی کی شدید قلت جاری ہے، لیکن کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کے منیجنگ ڈائریکٹر احمد صدیقی اور چیئرمین واٹر بورڈ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عوام کو سچ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ میڈیا سے بات کرنے کے بجائے وہ “مصروفیت” کا بہانہ کرکے ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ افسران عوام کو جواب دینے کے لیے تیار نہیں، تو پھر سچ کون بتائے گا؟
“پانی ہے، مگر پہنچ کیوں نہیں رہا؟”
KWSC کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پپری فلٹر پلانٹ سے پانی مکمّل سپلائی ہو رہا ہے، لیکن شہریوں کے گھروں تک پانی نہیں پہنچ رہا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا چیف انجینئر ظفر پلیجو نے کسی خاص علاقے کو پانی کی سپلائی کو ڈائیورٹ کر دیا ہے؟ گلشن اقبال، لیاقت آباد اور پرانے شہر کے مکینوں کے گھروں میں پانی کیوں نہیں پہنچ رہا؟ KWSC نے یونیورسٹی ایریا میں پھٹی لائن کو 5 دن پہلے ہی مرمت کر لیا تھا، لیکن پھر بھی متاثرہ علاقوں میں سپلائی بحال نہیں ہوئی۔

“عوام کو جھوٹ کیوں کھلایا جا رہا ہے؟”
شہریوں کو واضح جواب چاہیے:
سچ کیا ہے؟ پانی کہاں جا رہا ہے؟

کب تک بحال ہوگی سپلائی؟ کیا 2 دن، 4 دن یا صرف ایک دن پانی دیا جائے گا؟


کون ذمہ دار ہے؟ KWSC کے اندر کیا ہو رہا ہے؟


“میڈیا اور عوام سے کیوں ڈر رہے ہیں افسران؟”
MD احمد صدیقی اور میئر مرتضیٰ وہاب میڈیا کو جواب دینے سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی چھپانے کو ہے؟ اگر پانی کی سپلائی بحال ہو چکی ہے، تو پھر عوام کو دھوکہ کیوں دیا جا رہا ہے؟
حکام کو چاہیے کہ عوام کے سامنے آئیں، سچ بتائیں، اور اس بحران کا فوری حل نکالیں۔ کیا کراچی کے لوگوں کو بنیادی حقِ زندگی (پانی) سے محروم رکھنا کسی “ترقیاتی ماڈل” کا حصہ ہے؟
کراچی کا آبی بحران: 10 دن بعد بھی پانی کی ترسیل بحال نہیں، عہدیداروں کی خاموشی پر سوالات
رپورٹ:
کراچی کے عوام گزشتہ 10 دن سے شدید آبی بحران کا شکار ہیں، لیکن حکام اس بحران کی وجہ بتانے سے قاصر ہیں۔ جی پی پمپنگ اسٹیشن اور پیپری پمپنگ اسٹیشن 100 فیصد کام کر رہے ہیں، پھر بھی شہر کو پانی کی فراہمی معمول پر کیوں نہیں آ رہی؟ شہری اربوں روپے کا پانی خرید چکے ہیں، لیکن کسی عہدیدار کو اس بات کی فکر نہیں کہ وہ عوام کو جواب دے۔
سوالات جو اٹھنے چاہئیں:
پمپنگ اسٹیشنز کے 100 فیصد کام کرنے کے باوجود پانی شہر تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ کیا یہ انتظامی نااہلی ہے یا کہیں پانی کی چوری ہو رہی ہے؟
84 انچ کی لائن کی مرمت کے 5 دن بعد بھی پانی کی فراہمی بحال کیوں نہیں؟ کیا یہ محض بہانہ ہے یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور واٹر بورڈ کے ایم ڈی احمد صدیقی میڈیا کو جواب دینے سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی جواب نہیں یا وہ شہریوں کے مسائل سے لاپرواہ ہیں؟

لانڈھی ہائیڈرنٹ سے مسلسل پانی کی سپلائی کیوں جاری ہے جبکہ رہائشی علاقوں میں پانی نہیں پہنچ رہا؟ کیا یہ پانی غیرقانونی طور پر کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے؟
واٹر بورڈ نے پانی کے بلوں میں 21 فیصد اضافہ کیوں کیا؟ جب شہریوں کو بنیادی سہولت تک میسر نہیں، تو یہ اضافہ کس بنیاد پر کیا گیا؟

عوام کا ردعمل:
شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، گلشن اقبال، پی آئی بی کالونی، لیاقت آباد، شریف آباد اور ناظم آباد جیسے علاقوں میں پانی کی قلت نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کئی علاقوں میں ہفتے میں صرف دو دن پانی دیا جا رہا ہے، جبکہ پہلے چار دن فراہمی ہوتی تھی۔
حکام کی بے حسی:
میڈیا کو جواب دینے کی بجائے، واٹر بورڈ کے عہدیداروں نے میٹنگز میں مصروف ہونے کا بہانہ کر دیا۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے صاف کہہ دیا کہ وہ میڈیا کو کوئی بیان نہیں دیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ جواب دینے کے لیے تیار نہیں، تو پھر اپنے پریس ریلیزز اور ہینڈ آؤٹس میڈیا کو کیوں بھیجتے ہیں؟
آخری بات:
کراچی کا آبی بحران انتظامی ناکامیوں کی واضح علامت ہے۔ اگر حکام سنجیدہ نہیں ہوں گے، تو یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ عوام کو جواب چاہیے، اور ابھی چاہیے!























