
سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی (ٹورانٹو)
کینیڈا امریکہ کی 51ویں ریاست کی خواہش ٹرمپ کا مذاق ہے یا حقیقت اس کا اندازہ ابھی تک نہیں ہوا، اگر واقعی یہ مذاق ہے تو کیسا مذاق ہے کہ ایک عظیم قوم کی سالمیت اور خود مختاری پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے اور حقیقت ہے تو ٹرمپ اس پر کیسے عمل کریں گے؟۔ تاریخ میں امریکا اور کینیڈا کی طویل جنگ کا تذکرہ ملتا ہے جس کے بعد اس سرحد کا تعین ہوا تھا جو آج تک دنیا کی طویل سرحد ہونے کے باوجود غیر عسکری ہے۔ لیکن کینیڈین شہریوں نے ٹرمپ کے اس بیان کو جس قدر سنجیدہ اور رنجیدہ لیا، کینیڈا سے باہر بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ کینیڈین نے اس کا اظہار انتخابات کے ذریعے بھی کیا اور عام زندگی میں بھی، یو سمجھ لیجئے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ نیاگرا ندی پر دوستی پل ویران پڑا ہے، جہاں آر پار جانے کے لیے گاڑیوں کی لائنز لگی ہوتی تھی اکا دکا کوئی گاڑی گزرتے نظر آتی ہے وہ بھی کبھی کھبار۔۔۔ نیاگرا فال کے اس پار کینیڈین سائیڈ کا وہ پارک بھی ویران ہے جہاں دنیا بھر کے سیاح آتے تھے اور آبشار کے نیچے گزرنے پر ڈالرز برساتے تھے۔ ہمیں نیاگرا فال کو دیکھ کر ایسا نہیں لگا جیسا کہ ویڈیو میں دیکھا کرتے تھے جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے رنگ برنگے لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا، اب لوگوں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں خاص طور پر آدھے لباس والیاں تو کم ہی نظر آتی ہیں۔ موسم بہار شروع ہوا چاتا ہے بتایا جاتا ہے کہ اس موسم میں لاکھوں کینیڈین امریکہ سیر سپاٹے کے لیے جاتے تھے اور کروڑوں ڈالر امریکن معشیت میں ڈال کر واپس آتے تھے، اب کوئی امریکہ جانے کے لیے تیار ہی نہیں۔ نہ غیر ضروری طور پر امریکہ سے کوئی کینیڈا آتا ہے۔ کینیڈین کہتے ہیں امریکہ نہیں جانا وہ دھوکے باز اور لالچی ہے ہمارے وسائل پر بری نظر جمائے بیٹھا ہے۔ ٹرمپ کی بھی پنڈ کے چوہدری کی مثال ہے جو بدمعاش بھی ہو اور پنڈ کی بہو بیٹیوں پر بری نظر بھی رکھے۔ ٹرمپ نے جب اچھے اور شریف پڑوسی کے لیے اپنی اس پوشیدہ خواہش کو عیاں کیا کہ کینیڈا امریکہ کی 51ویں ریاست ہونا چاہئے، کینیڈین نے شراب کے سارے گودام خالی اور اسٹاک تلف کر دیا جس کا تعلق امریکہ سے تھا اور آئندہ کوئی بھی ایسی گاڑی امریکہ سے کینیڈا میں داخل نہیں ہو سکتی جس میں شراب کی ایک بوتل بھی ہو ۔ باقی اشیاء کے لیے کینیڈین کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیوں کہ ان کے لیے تو سب سے عزیز چیز یہی ہو سکتی ہے جس کا وہ مکمل بائی کاٹ کر چکے۔ ہم نے ٹورنٹو، مسی ساگا نیاگرہ ریجن سمیت کئی دوسرے علاقوں میں بڑے بڑے سپر سٹور کا دورہ کیا لیکن امریکن مصنوعات کو کم ہی دیکھا، میں پوچھتا رہا کہ اچانک امریکی مصنوعات غائب کہاں ہو گئی، ایک دیسی کینیڈین کا اس پر خوب صورت تبصرہ تھا کہ جب امریکن شراب ہی مارکیٹ سے اٹھا لی گئی تو باقی مصنوعات کا کینیڈین کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔کینیڈا اور امریکہ کے درمیان 8891 کلومیٹر طویل سرحد ہمیشہ سے غیر عسکری رہی ہے، جہاں امریکہ کی 49 ریاستیں کینیڈا کے ساتھ ملتی ہیں اب کسی سطح پر اس بارے میں فکر ہو رہی ہے اور اس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ کینیڈا بھی اپنی مضبوط فوج تیار کرے۔ مجھے تعجب اور افسوس بھی ہوا کہ برصغیر میں نفرتیں بڑھانے میں مودی اور اس کے مدمقابل نے مل کر جو کام کیا وہ شمالی امریکہ میں اکیلا ٹرمپ کر رہا ہے۔ کیا امریکن عوام ٹرمپ یا کسی اور لیڈر کو یہ اختیار دیں گے کہ کینیڈا کے ساتھ غیر ضروری اختلافات پیدا کرے تاکہ خطہ میں جنگی ماحول پیدا ہو، امریکہ اور کینیڈا کے عوام بھی برصغیر کے لوگوں کی طرح مفلوک الحال ہو جائیں۔۔ جہاں تک کینیڈا کا تعلق ہے وہ برابری کی بنیاد پر امن اور انصاف کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ لیکن اپنی سرزمین کی حفاظت پر کمربستا ہے۔ اسی خواہش پر کینیڈا کے نئے لیڈر ماہر معاشیات مارک کارنی نے قوم سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد 6 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں پہلی بار ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مرکزی موضوع کینیڈین مصنوعات پر امریکی محصولات (ٹیکسز) تھا، لیکن صدر ٹرمپ کی صورت میں بیٹھا اونٹ کروٹ لینے کے لیے تیار ہی نہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آئندہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بظاہر یہ ملاقات ناکام ہی لگتی ہے کیوں کہ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ ان محصولات کو کم کرنے پر راضی نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم کارنی کچھ بھی کہہ لیں، وہ محصولات میں کمی پر قائل نہیں ہو سکتے۔ اُن کے الفاظ تھے: “نہیں، بس ایسا ہی ہے۔”ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر سال کینیڈا کو 200 ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے، مفت فوجی تحفظ بھی فراہم کر رہا ہے، اور کینیڈا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو ہمارے لیے ضروری ہے۔ تاہم یہ دعویٰ حقائق کے برعکس ہے — سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024ء میں تجارتی خسارہ صرف 35.7 ارب ڈالر تھا، اور کینیڈا امریکی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار بھی رہا۔ وزیراعظم کارنی نے ٹرمپ کو بتایا کہ کینیڈا امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور آزاد تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ کینیڈا کبھی امریکہ کی 51ویں ریاست بنے گا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ “کینیڈا برائے فروخت نہیں ہے۔” صدر ٹرمپ نے کہا، “یہ جوڑی واقعی شاندار رہے گی۔” لیکن کارنی نے فوراﹰ جواب دیا،”چوں کہ آپ ریئل اسٹیٹ کے بارے میں بخوبی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جو کبھی فروخت کے لیے نہیں ہوتی ۔” جیسا کہ یہ جگہ یعنی وائٹ ہاؤس یا بکنگھم پیلس۔۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا “فروخت کے لیے نہیں ہے، یہ کبھی بھی فروخت کے لیے نہیں ہو گا۔” کینیڈا کے وزیر اعظم نے زور دے کر کہا “لیکن شراکت داری میں مواقع ہیں اور ہم مل کر اسے بہتر بنا سکتے ہیں۔” ٹرمپ نے اس پر مسکراتے ہوئے کہا،”کبھی نہیں، کبھی نہ کہو”۔جب امریکی صدر نے کہا کہ کینیڈین “وقت گزرنے کے ساتھ خود امریکا کے ساتھ” وزیراعظم مارک کارنی نے ہاتھ کھڑا کر لیا جس کا مقصد ٹرمپ کو روکنا تھا کہ اس سے آگئیں سننے کی ہمت نہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ نے کینیڈا کی بہت سی مصنوعات پر 25% ٹیکس لگا دیا ہے، خاص طور پر اگر وہ USMCA (امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدے) کے معیار پر پوری نہ اتریں تو۔ کینیڈا نے بھی جواباً 43 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کیے ہیں (مثلاً وسکی، کھیلوں کا سامان، گھریلو اشیاء) وغیرہ پر ٹیکس لگا دیا ہے جو مارکیٹ میں یہ بہت مہنگی ہو چکی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ بھی یو کرین کے صدر جیسا سلوک کریں گے تاہم شمالی امریکہ کے دونوں رہنماؤں کی ملاقات خوشگوار ماحول اور شکوہ جواب شکوہ کی صورت میں ہوتی رہی اور اپنے اپنے موقف پر ڈنے رہنے کے باوجود خوش گوار ماحول میں ہی ختم ہوئی۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے مانا کہ کسی بھی تجارتی معاہدے یا حل کے لیے وقت درکار ہوگا، اور آج کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ نے کہا: “کچھ ہو سکتا ہے… یہ ایک دن کا معاملہ نہیں۔” صدر ٹرمپ اور وزیراعظم کارنی کی ملاقات میں واضح اختلافات بھی دیکھے گئے۔ ٹرمپ سخت مؤقف پر قائم رہے، جبکہ کارنی نے مثبت رویہ رکھتے ہوئے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ دونوں رہنما اس بات پر متفق تھے کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں، مگر فوری طور پر کسی بڑے تجارتی فیصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔























