زبردست موقع موجود لیکن دلچسپی ہے نہ فرصت !


زبردست موقع موجود لیکن دلچسپی ہے نہ فرصت !

وہ تو اسی بات پر خوش ہے کہ پارٹی کا چیئرمین اور صوبے کا وزیراعلی اس کے ساتھ ٹینس کھیلتے ہیں اور وہ رنگ برنگے چڈے پہن کے شہر میں گھومتا رہتا ہے ۔

مرتضیٰ وہاب: کراچی کے لیے سنہری موقع ضائع ہوتا دیکھ رہے ہیں؟

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، جس کی آبادی اور معیشت 44 سے زائد ممالک سے بڑی ہے، ایک ایسے میئر کے ہاتھوں میں ہے جس کے پاس اس شہر کو بدلنے کا تاریخی موقع موجود ہے۔ مگر افسوس، مرتضیٰ وہاب کی کارکردگی اور ترجیحات پر سوالیہ نشانات لگے ہوئے ہیں۔ ان کی غیر سنجیدہ رویہ اور کام کے بجائے سیاسی مصروفیات پر توجہ شہر کے عوام اور ان کی اپنی پارٹی کے کارکنوں کو بھی حیران کر رہی ہے۔

سنہری موقع، مگر دلچسپی کہاں؟
کراچی کو بنیادی سہولیات، صاف پانی، ٹھوس فضلہ کے انتظام، سڑکوں کی مرمت، اور عوامی نقل و حمل کے نظام کی شدید ضرورت ہے۔ اگر مرتضیٰ وہاب چاہیں تو وہ ایک ماہر ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر ان مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ مگر ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ وہ صوبائی وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت کے ساتھ ٹینس کھیلنے، رنگ برنگے لباس پہن کر شہر میں گھومنے اور سیاسی تقریبات میں وقت گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کیا یہی کراچی کے میئر کی اولین ذمہ داری ہے؟

عوامی رابطہ نہ ہونے کے برابر
کسی بھی لیڈر کی کامیابی کا راز عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ مگر مرتضیٰ وہاب کی گاڑی اور ایئر کنڈیشنڈ دفتر تک محدود موجودگی نے انہیں شہر کے حقیقی مسائل سے دور کر دیا ہے۔ اگر وہ کراچی کی گلیوں، بستیوں اور بازاروں میں وقت گزارتے، عوام کی شکایات سنتے، اور محکمہ میونسپل انتظامیہ کو فعال کرتے، تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔ مگر ان کا رویہ ایسا ہے جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں رہ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی
پیپلز پارٹی کے اندر بھی مرتضیٰ وہاب کی کارکردگی پر تشویش پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے کئی资深 رہنما، جن میں سعید غنی اور تاج حیدر جیسے نام شامل ہیں، کو نظرانداز کر کے مرتضیٰ وہاب کو میئر بنایا گیا تھا۔ مگر اب پارٹی کارکنوں کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ شاید یہ انتخاب درست نہیں تھا۔ اگر وہ اپنا کام نہیں سنبھال پائے تو نہ صرف ان کی اپنی سیاسی حیثیت خطرے میں پڑ جائے گی، بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی کراچی میں ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تبدیلی کی آخری گنجائش
ابھی بھی وقت ہے کہ مرتضیٰ وہاب اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ انہیں چاہیے کہ:

کراچی کے مسائل کو اولین ترجیح دیں – روزانہ کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں۔

ماہرین کی ٹیم تشکیل دیں – شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، اور ماحولیات کے ماہرین سے مشاورت کریں۔

عوامی شکایات پر فوری کارروائی کریں – ایک موثر شکایت نمٹانے کا نظام قائم کریں۔

سیاسی مصروفیات کو کم کریں – میئر کا کام تقریبات میں شرکت نہیں، بلکہ شہر کی خدمت کرنا ہے۔

اگر وہ ان اقدامات پر توجہ نہیں دیں گے، تو کراچی کے عوام اور تاریخ دونوں انہیں ایک ناکام میئر کے طور پر یاد رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ مرتضیٰ وہاب کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اگر ضروری ہو تو فیصلہ کریں کہ کیا کراچی کو کسی اور لیڈر کی ضرورت ہے جو اس شہر کی بھرپور خدمت کر سکے۔

وقت کم ہے، مگر موقع ابھی موجود ہے۔ کیا مرتضیٰ وہاب اس موقع کو غنیمت جانیں گے؟