سائیں سرکار سو رہی تھی کھوڑو بھاگ گیا ۔ امریکہ جانے کے لیے چھٹی لی اور غائب ہو گیا

سندھ حکومت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی سائیں سرکار میں مختلف افسران سرکاری عہدوں پر فائض رہتے ہوئے کروڑوں روپے لوٹ کر ملک سے فرار ہو چکے ہیں اب تو یہ ایک فیشن بن چکا ہے اور سرکاری افسران اس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کب وہ کروڑوں روپے کے فنڈز پر ہاتھ صاف کریں یا رشوت کا پیسہ جمع کریں اور بیرون ملک بیل سے سمیت شفٹ ہو جائیں با سرکاری افسران توبد عنوانی اور رشوت کا پیسہ وصول بھی

بیرون ملک کرتے ہیں اور پھر چھٹیاں منانے یا سیر سپاٹا کرنے یا فیملی کو وہاں پر شفٹ کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے یہ پہلے ڈائریکٹر جنرل نہیں ہیں جنہوں نے یہ کام کیا ہے ان سے پہلے بھی ایک ڈائریکٹر جنرل اسی طرح فرار ہو گئے تھے اور ان کو پکڑ کر پاکستان لانے کی کوشش کی گئی ایک ڈائریکٹر جنرل وطن واپسی پر گرفتار ہو گئے تھے اسی طرح صوبہ سندھ کے ایک اہم محکمے کے سیکرٹری بھی کروڑوں روپے
لے کر برونے ملک چلے گئے جبکہ موٹروے منصوبے سے وابستہ سرکاری افسران نے بھی سرکاری فنڈز پر حادثاف کیا اور کروڑوں روپے لے کر غائب ہو گئے سندھ کے محکمہ لائیو سٹاک اور فشریز کے سابق سیکرٹری اور محکمہ زراعت کے سابق سیکرٹری بھی ایسی دوڑ لگانے والے افسران میں شامل ہیں کچھ افسران صوبائی سروس سے اور کچھ وفاقی سروس سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے سندھ کے فنڈز پر حادثات کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنا یا کروڑوں روپے کی ریشت وصول کرنا کتنا اسان ہو گیا ہے اور یہ افسران کروڑوں روپے کا غبن کر کے یا رشوت وصول کر کے سرکاری خزانے کو سرکاری مفادات کو نقصان پہنچا کر باسانی بیرون ملک غائب ہو جاتے ہیں























