پاکستان پر بھارتی حملہ مگر ہم مصطفوی ہیں

تحریر: عارفہ اسحاق
گزشتہ شب بھارت کی جانب سے پاکستان پر غیر اعلانیہ اور جارحانہ حملہ کیا گیا اس حملے کا بڑا ٹارگٹ خاص طور پر جنوبی پنجاب کا شہر بہاولپور تھا جہاں جید عالم دین مولانا مسعوداظہر کا مدرسہ واقع ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حملے میں مولانا کی بڑی بہن سمیت ان کا مکمل خاندان شہید ہو گیا ان کا گھر امن و علم کا مرکز تھا، جہاں صرف قرآن کی روشنی پھیلتی تھی، مگر دشمن نے اس چراغ کو بجھانے کی مذموم اور ناپاک کوشش کی۔پاکستان کے اندر بھارت کی جانب سے بیک وقت کئی مختلف مقامات پر حملے کیئے گئے بزدل دشمن نے حملے کا وقت رات تقریباً ایک بجے چنا جب شہر نیند کی آغوش میں تھا۔ بہاولپور میں ہونے والے دھماکوں نے فضا کو لرزا کر رکھ دیا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے تاہم جب معلوم ہوا کہ یہ دشمن کی کارروائی ہے تو ہر طرف نعرہ تکبیر کی صدائیں گونجنے لگیں عوام کے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رہی اور یہ مسکراہٹ مشکور ہے الله رب العزت کے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان اور پاک فوج کی۔ یہ صرف گولہ بارود کی گونج نہیں تھی، بلکہ ایک نفسیاتی حملہ بھی تھا۔ بھارت نے ایک بار پھر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا کر ثابت کر دیا کہ وہ انسانیت کے کسی بھی اصول کو نہیں مانتا۔ شہری علاقوں پر حملے بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی جرم تصور کیے جاتے ہیں، مگر بھارت نے ان تمام حدود کو پار کر دیا ہے۔پاکستانی افواج نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے کئی ٹھکانوں کو تباہ اور توپوں کو خاموش کروا دیا۔ مگر سوال اپنی جگہ باقی ہے: کیا بھارت واقعی خطے میں امن چاہتا ہے؟ یا وہ ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔عوام کا غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہداء کے لیئے دعاؤں کا تسلسل اور بھارت کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار ہے۔ سیاسی قیادت، عسکری ادارے اور عوام یک زبان ہو چکے ہیں: ہم اپنے شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ “ہم نے اپنے جگر گوشے قربان کیئے ہیں، لیکن ہمارا ایمان، ہماری ہمت اور ہمارے قدم کبھی نہیں ڈگمگائیں گے۔ بھارت نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر ہم اسے بتائیں گے کہ پاکستانی قوم کبھی جھکنے والی نہیں۔”یہ واقعہ ایک یاددہانی ہے کہ ہمارا دشمن ہمارے دروازے پر موجود ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا۔یہ صرف جنگ نہیں، ایک امتحان ہے ہماری غیرت، ہمارے اتحاد، اور ہمارے جذبے کا۔ اور پاکستانی قوم ہر امتحان میں سرخرو ہوئی ہے، اور ان شاءاللہ، ہمیشہ ہوگی۔