
کراچی: بلدیہ ٹاؤن کے رہائشیوں نے ایک بار پھر بجلی منقطع ہونے پر سڑکوں پر احتجاج کیا، جس کے بعد کے الیکٹرک نے وضاحت جاری کی کہ یہ کارروائی کروڑوں روپے کے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کی گئی۔ تاہم، یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر صارفین بجلی کے بل ادا کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں؟ اور کیا کے الیکٹرک کی پالیسیاں بھی اس بحران میں برابر کی شریک ہیں؟
کیا صارفین کا احتجاج جائز ہے؟
حب ریور روڈ کے قریب سوات کالونی کے رہائشیوں نے بجلی منقطع ہونے پر سڑکوں پر دھرنا دے دیا، ٹریفک کو جام کر کے اپنی آواز بلند کی۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق، یہ علاقہ 32 کروڑ روپے سے زائد کی واجب الادا رقم میں ملوث ہے، جس کے بعد ہی بجلی کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف کنکشن کاٹ دینا ہی واحد حل ہے؟ کیا کے الیکٹرک نے صارفین کو بلوں کی ادائیگی کے لیے کافی تنبیہات دی تھیں؟
ادائیگیوں میں تاخیر کیوں؟
ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ معززین کی جانب سے ادائیگی کی یقین دہانی کے بعد بجلی بحال کر دی گئی۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا صرف دباؤ ڈالنے پر ہی بل ادا کیے جاتے ہیں؟ اگر صارفین کے پاس اتنی رقم موجود تھی، تو انہوں نے پہلے کیوں ادائیگی نہیں کی؟ کیا کے الیکٹرک کو چاہیے کہ وہ صارفین کے ساتھ گفت و شنید کرے اور ادائیگی کے لیے مناسب منصوبہ بندی پیش کرے؟
لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ اور صارفین کا ردعمل
کے الیکٹرک کا مؤقف ہے کہ “وقت پر کی گئی ادائیگیاں لوڈ شیڈنگ میں کمی یا خاتمے کا اہم جز ہیں۔” لیکن کیا صارفین کو یقین ہے کہ ان کے بل ادا کرنے سے واقعی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی؟ کیا کے الیکٹرک نے اپنی جانب سے بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں؟
نتیجہ:
یہ واقعہ صرف بلدیہ ٹاؤن تک محدود نہیں، بلکہ پورے کراچی میں ایسے معاملات عام ہیں۔ صارفین اور بجلی کی کمپنی دونوں کو اپنے اپنے فرائض سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر صارفین بل وقت پر ادا کریں اور کے الیکٹرک بھرپور سپلائی یقینی بنائے، تو شاید یہ مسائل کم ہو سکیں۔ لیکن سوال یہی ہے کہ کون پہلے اپنی ذمہ داری پوری کرے گا؟























