
“بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ سمیت سندھ بھر کی جامعات میں جعلی ڈگریوں کا بڑا اسکینڈل، HEC کی کارروائی کا اعلان”
کراچی (اسٹاف رپورٹر) — سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ملازمین کے لیے خوفناک خواب حقیقت بننے جا رہے ہیں، کیونکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ایک ماہ کے اندر تمام فیکلٹی اور عملے کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو ڈگریاں غیر مصدقہ نکلیں گی، ان ملازمین کو فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کے اجلاس میں واضح طور پر کیا گیا، جہاں شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر بھرتیوں کا انکشاف ہوا۔
میڈیکل یونیورسٹی میں بھرتیوں کا بڑا اسکینڈل:
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ نے انکشاف کیا کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر بھرتیاں کی گئی ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نصرت شاہ نے دعویٰ کیا کہ بھرتیوں سے قبل ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس اور دیگر میڈیکل ڈگریاں پی ایم ڈی سی سے تصدیق شدہ تھیں، لیکن بعد میں ایک ملازم کی ڈگری کی تصدیق نہ ہونے پر اسے برطرف کر دیا گیا۔ تاہم، کمیٹی نے تمام یونیورسٹیوں کو ایک ماہ کے اندر HEC سے ڈگریوں کی تصدیق کرانے کا پابند کر دیا ہے۔
سیاسی بھرتیوں والوں کے لیے خطرہ:
اب سندھ بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں ہلچل مچنے والی ہے، کیونکہ بیشتر عملہ جو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا، اب ریڈ زون میں ہوگا۔ ان کی ڈگریاں تقرری کے وقت تصدیق شدہ نہیں تھیں، اور اب یہی مسئلہ ان کی ملازمتوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
HEC کے لیے بڑا چیلنج:
دوسری طرف، HEC کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ صرف ایک ماہ کے قلیل عرصے میں ہزاروں ڈگریوں کی تصدیق کیسے کرے گا۔ جیسے ہی تصدیق کے کیسز HEC تک پہنچیں گے، کمیشن کے سامنے درخواستوں کا ایک انبار لگ جائے گا۔
سوالات اور مشکوک رویے:
اس صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا واقعی HEC اتنی بڑی تعداد میں ڈگریوں کی جانچ پڑتال کر پائے گا؟
کیا پھر سے سیاسی دباؤ کے تحت کچھ نامناسب لوگوں کو بچانے کی کوششیں ہوں گی؟
نتیجہ:
اگر یہ عمل شفاف ہوا، تو سندھ کی یونیورسٹیوں سے سیاسی سفارش پر بھرتی ہونے والے سینکڑوں غیر اہل افراد بے نقاب ہو جائیں گے۔ لیکن اگر کسی طرح اس عمل میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، تو پھر ایک بار پھر “سندھ میں سب چل جاتا ہے” والی کہاوت سچ ثابت ہوگی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یونیورسٹیوں کا نظامِ تعلیم اصلاحات کی راہ پر گامزن ہوگا یا پھر جعلی ڈگریوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔























