
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے کے تفتیشی افسران کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔ عدالت نے ایف آئی اے کے ڈی جی اینٹی کرپشن سرکل، ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سرکل کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشل بینکنگ سرکل کو بھی 3 جون کیلیے شوکاز نوٹس جاری کیئے ہیں۔ عدالت نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسران کو ذاتی طور پیش ہونے کی ہدایت کی کی ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ تفتیشی افسران بلال احمد اور حبیب الرحمان عدالت کے حکم کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ اعلی حکام ان افسران کو عدالت میں پیش کریں۔ اسٹیٹ بینک کے نمائندے کی نشاندہی پر ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سرکل کی طلبی کا نوٹس بھی جاری کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ تفتیشی افسران کے سرکلز کے سربراہوں کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیئے ہیں۔
=================
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ 12 مئی کے مقدمے میں آئندہ سماعت پر گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ 12 مئی کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر ، عمیر صدیقی سمیت دیگر ملزم پیش ہوئے۔ شریک ملزم زاکر کی استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ پراسیکیوشن گواہوں کو پیش نہ کرسکی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 17 مئی تک ملتوی کردی۔ پولیس کے مطابق وسیم اختر نے ایم کیو ایم کے مرکز پر میٹنگ کرکے روڈ بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وسیم اختر نے دیگر ملزموں کو جلاؤ گھیراو کی ہدایت کی تھی۔ ملزمان کیخلاف ایئرپورٹ پولیس نے 2007 میں مقدمہ درج کیا تھا۔
=================
سندھ ہائیکورٹ نے نائن زیرو سے گرفتار ملزم عبید عرف کے ٹو کی رینجرز اہلکار کے قتل کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر اسپیشل پراسیکیوٹر رینجرز کو نوٹس جاری کردیئے۔ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو نائن زیرو سے گرفتار ملزم عبیدعرف کے ٹو کی رینجرز اہلکار کے قتل کیس میں سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عبید عرف کے ٹو کو 1998 کے مقدمے میں غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزم نے ہمارے جوانوں پر فائرنگ کرکے قتل کردیا، آپ کہہ رہے ہیں چھوڑ دیں۔ خطرناک ملزم ہے، جیل میں رہے تو اچھا ہے۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملزم کے لئے فائرنگ کرنا تو عام سی بات ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ملزم دیگر مقدمات سے بری ہوچکا ہے، صرف ایک کیس میں جیل میں ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ اگر ملزم دیگر مقدمات میں بری ہوچکا ہے تو اس کیس میں بھی بری کردیں؟ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہماری اپیل پر عدالت عالیہ نے مقدمے کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا۔ دوبارہ ٹرائل میں بھی عدالت نے عبید کے ٹو کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ دوبارہ ٹرائل انسداد دہشتگردی کی جن دفعات کے تحت ہوا وہ مقدمے کے اندراج کے بعد نافذ ہوئیں۔ مقدمے کا اندراج 1998 میں ہوا، جبکہ انسداد دہشتگردی ترمیمی ایکٹ 2001 میں نافذ ہوا۔ عبید کے ٹو کی گرفتاری 2015 میں نائن زیرو سے کی گئی لیکن مقدمے میں گرفتاری بعد میں ظاہر کی گئی ہے۔ ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 کا فائدہ تاریخ گرفتاری سے دیا جائے۔ عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر رینجرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے اپیل کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی۔
===============
سندھ ہائیکورٹ نے چینی کمپنی سے دھوکا دہی کے کیس میں 3 ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔ ہائیکورٹ نے چینی کمپنی سے دھوکا دہی کے کیس میں 3 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے 3 ملزمان جاوید محمود،سید ذیشان بلگرامی اور محمد خالد کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو 3،3 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ درخواستگزاروں کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ بینکنگ کورٹ نے دسمبر 2024 میں ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ درخواست گزار جاوید محمود و دیگر کا فراڈ سے لینا دینا نہیں ہے۔ ملزمان کیخلاف کوئی براہ راست شواہد نہیں ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم کو کارپوریٹ کرائم سرکل نے گرفتار کیا تھا۔ ملزمان نے چینی کمپنی سے 11 کروڑ 39 لاکھ کا فراڈ کیا تھا۔ چینی کمپنی کی امپورٹرمس کورائن چن کی شکایت پر مقدمہ ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت پاکستان کمپنی نے 1500 میٹرک ٹن کروم اورے ایکسپورٹ کرنا تھا۔ 11 فروری کو کراچی بندرگاہ سے چائنا بندرگارہ کنٹینر بھیجا گیا۔ کنٹینر میں کروم اورے کی جگہ مٹی پتھر بجری بھری ہوئی تھی۔
=================
اے لیول او لیول کے تعلیمی ادارے میں پورنو گرافی کا الزام، عہدیدار برطرف
Nadir Khan مئی 5, 2025
کراچی میں اے لیول او لیول کے تعلیمی ادارے میں پورنو گرافی کا الزام، ایک عہدیدار کو برطرف کر دیا گیا، تعلیمی ادارے کا سائبر کرائم سے تحقیقات سے گریز۔۔۔
کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک ٹو میں گلشن چورنگی سے عزیز آباد جانے والی سڑک پر تعلیمی اداروں کی قطار موجود ہیں جہاں ایک معروف تعلیمی ادارے جس کی شہر بھر کے پوش علاقوں برانچیں موجود ہیں کیونکہ یہ ادارہ اے لیول اور او لیول کے بچے اور بچیوں کو بھاری فیسوں کے عیوض تعلیم فراہم کرتے ہیں
پیر کو اس تعلیمی ادارے میں انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ اس تعلیمی ادارے کی ایڈمن کا افسر بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث ہے جس پر تعلیمی ادارے کی انتظامیہ نے فوری طور پر برطرف کردیا اور اس حوالے سے یہ بات اپنے انٹرنل سوشل میڈیا پر بھی نشر کردیا ۔
اس حوالے سے تعلیمی ادارے کے سربراہ سے رابطہ کرنے کی متعدد کوشش کی گئیں تاہم انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا جبکہ اس ادارے کے ایک اسسٹنٹ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ ادارے میں از خود انٹرنل انکوائری کے بعد ملازمت سے برطرف کیا گیا یے جب ان سے سوال کیا گیا کہ انٹرنل انکوائری کا طریقہ کار کیا ہے اور آپ کے پاس ایسا کیا طریقہ ہے جس سے آپ ورجوئل ریکارڈ دیکھ سکیں اور تصدیق کرسکیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ ہمارے ادارے کے سربراہ کو ہی پتہ ہے اور وہ انکوائری کر رہے ہیں ان سوال کیا گیا کہ اس واقعہ کے بعد آپ نے مبینہ طور پر ملوث شخص کو ملازمت سے برطرف کیا اگر وہ پاکستان سے باہر جاکر ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کردے گا تو کیا آپ کا ادارہ سہولت کاری میں شامل نہیں ہو گا۔؟جس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلاء بھی اس انکوائری میں معاون ہیں ان سے سوال کیا گیا کہ یہ انکوائری سابقہ سائبر کرائم ونگ موجودہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے زریعے کیوں نہیں کروائی گئی تو ادارے کے معاون نے کہا کہ اس کا فیصلہ ادارے کے سربراہ کریں گے۔
واضح رہے کہ اس تعلیمی ادارے کے سربراہ موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر طالب علموں میں مشہور ہیں اور ملک بھر میں لیکچر کے لئے خصوصی طور پر دعوت دی جاتی ہے تاہم اتنے بڑے اسکینڈل میں از خود کارروائی کر کے اس واقعہ کو مشکوک بنا دیا ہے ۔تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس ادارے کی جانب سے قانون نافز کرنے والے ادارے کو باقاعدہ تحقیقات کی درخواست دی جاتی ہے یا نہیں اور پھر ہی اس معاملہ سامنے آئے گا کہ یہ واقعہ پورنو گرافی یا ٹیلی فونک گفتگو کے زریعے سوشل میڈیا کی مختلف ایپس کو استعمال کر کے ہراساں کرنے کا ہے ۔
اے لیول او لیول کے تعلیمی ادارے میں پورنو گرافی کا الزام، عہدیدار برطرف























