
بڑی خبر: سابق ایم ڈی غلام عارف کا بڑا دعویٰ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کے ریکارڈز کو عوامی کرنے کا مطالبہ
کراچی: کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB) کے سابق سربراہ غلام عارف نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے موجودہ KWSC کے تمام ریکارڈز کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے معروف نیوز ویب پورٹل “جیوے پاکستان” سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “کراچی میں موجودہ آبی بحران کے تناظر میں ضروری ہے کہ KWSC کے تمام ریکارڈز، ان کے دور (2007) سے لے کر موجودہ انتظامیہ (2025) تک، پیرا 58 کے تحت

عوامی کیے جائیں، تاکہ کراچی اور پورے پاکستان کے عوام جان سکیں کہ کس دور میں KWSC کی کس انتظامیہ نے بغیر ٹینڈر کے کتنا پیسہ کہاں خرچ کیا۔”


انہوں نے بتایا کہ “پیرا 58 کے تحت انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر ٹینڈر کے کسی بھی کام پر جتنا چاہیں رقم خرچ کر سکتے ہیں۔


مختلف ادوار میں KWSB کے سربراہان اس پیرا کو استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے کام بغیر ٹینڈر کے دیتے رہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “جب یہ تفصیلات عوام کے سامنے آئیں گی، تو سب کچھ واضح ہو جائے گا کہ کراچی میں بار بار پانی کی لائنیں کیوں پھٹتی ہیں اور مرمت کا کام بغیر ٹینڈر کے کیوں ہوتا رہتا ہے۔”


غلام عارف نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “KWSC میں ایک بڑا کھیل کھیلا جا رہا ہے، اور پیرا 58 کے تحت جاری ہونے والے فنڈز کے استعمال کے حوالے سے فوری طور پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کراچی میں پانی کی شدید قلت اور سیوریج لائنوں کے مسائل نے شہریوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ اگر KWSC کے ریکارڈز کو واقعی عوامی کیا جاتا ہے، تو شہریوں کو یہ جاننے کا موقع مل سکتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ان کے ٹیکس کے پیسے کہاں اور کیسے خرچ ہوئے۔
#KWSC #کراچی_کا_آبی_بحران #غلام_عارف #پیرا58 #بغیر_ٹینڈر_کام #جیوے_پاکستان























