ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو وقت پر اور کامیابی سے مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ

کراچی
مور خہ06 مئی 2025

کراچی 6 مئی ۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ایک اعلیٰ سطحی سات رکنی وفد کی کراچی میں سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ریڈ لائن بی آرٹی منصوبے کی موجودہ صورتحال، تکنیکی رکاوٹوں اور کنسلٹنٹس کی کارکردگی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے موقع پر سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے وفد کو ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں فریقین نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو وقت پر اور کامیابی سے مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ شہری آبادی والے گنجان علاقے سے گزر رہا ہے، جہاں یوٹیلٹیز کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ہمارے لیے نہایت اہم ہے، اس کے راستے میں پانچ بڑی جامعات واقع ہیں، جو لاکھوں شہریوں کو فائدہ پہنچائے گا، نگران دورِ حکومت کے دوران نو ماہ تک کام رکا رہا، جس سے منصوبے کے کام متاثر ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنک بس سروس جیسے کامیاب منصوبوں کا مقصد شہریوں کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 509۔۔۔

کراچی
مور خہ06 مئی 2025

اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کی جانب سے سید وقار مہدی کو سینیٹر منتخب ہونے پر مبارکباد

کراچی، 06 مئی۔ اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی کو سینیٹر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد دی ہے۔ اپنے تہنیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ وقار مہدی کی کامیابی جمہوری عمل اور پاکستان پیپلز پارٹی پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ وقار مہدی پارٹی کے سینئر رہنما اور عوامی سیاست کے نمائندہ کارکن ہیں، جنہوں نے ہمیشہ عاجزی، اصول اور دیانتداری کے ساتھ سیاست کی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید رہنماؤں کے نظریات اور جمہوری اقدار کی علمبردار جماعت ہے۔ سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ سینٹ انتخابات کا شفاف انعقاد الیکشن کمیشن کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے تمام ووٹرز اور ارکانِ اسمبلی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے وقار مہدی کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 513۔۔۔ اے ڈی

کراچی
مور خہ06 مئی 2025

کراچی 6 مئی ۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے شہید صحافی جان محمد مہر کے قتل کیس مرکزی ملزم کی کچہ ایریا میں دوران آپریشن ہلاکت اور شکار پور پولیس کی پذیرائی سے متعلق اسمبلی میں کی جانیوالی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ہر پلیٹ فارم پر مجھ سے متعدد بار سوال کیا جاتا تھا اور میں فقط یہی جواب دیتا تھا کہ مجھے قاتل کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر یقین ہے اور میں اس حوالے سے سندھ پولیس کے اقدامات مطمئن تھا۔میں نے جب یہ بات سامعین کے گوش گذار کی تھی تو اسوقت میں سکھر کے دورے پر تھا.انہوں نے کہا کہ جس روز صحافی جان محمد مہر کو شہید کیا گیا تھا تو اسی روز سے پولیس اپنی تفتیش اور تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر قاتلوں کی باقاعدہ ریکی کے تحت تعاقب میں لگ گئی تھی اور الحمداللہ ہماری پولیس نے کر دکھایا اور کامیابی کو اپنے نام کیا اور ان تمام اقدامات میں ایس ایس پی شکارپور اور انکی ٹیم لائق تعریف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کا عبرتناک انجام صحافیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے جب وزیر داخلہ کے عہدے کا چارج لیا تو اسوقت اغواء برائے تاوان،ہنی ٹریپ و دیگر جرائم کی تعداد بہت زیادہ تھی تاہم اب جرائم کی وارداتوں میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے جبکہ اسوقت دو ہنی ٹریپ ہوئے ہیں جس میں شکار پور اور کشمور شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ شکارپور کچہ ایریا میں ہونیوالے آپریشن اور مقابلے کے نتیجے میں ڈاکوؤں کے متعدد ساتھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جنکی شناخت کا عمل جاری ہے۔میں نے گاہے بگاہے مختلف مقامات پر اپنے خطاب یا اجلاسوں میں جان محمد مہر کے قاتل کو ہتھیار پھینک کر خود کو قانون کے حوالے کرنیکا اعلان بھی کیا تھا۔ایڈیشنل آئی جی کراچی کو جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات اور پولیسنگ کے احکامات پہلے ہی دے چکا ہوں تاہم یہ بات خوش آئند ہیکہ ٹریفک حادثات میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موٹر وے پر شیما کرمانی اور دیگر کے ساتھ پیش آنیوالے واقعہ پر میں نے فوری متعلقہ پولیس سے رابطہ کیا تھا اور جملہ ضروری اقدامات کا پابند بنایا تھا۔انہوں نے کہاکہ ہندو کمیونٹی کا تحفظ ہمارا مرکز نگاہ ہے اور ہم نے اس پر بھی فوکس کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ببرلو دھرنا ختم ہوگیا ہے اور گر غنی بجارانی پر کوئی ایف آئی آر یا کیس داخل کیا گیا ہے تو ہمیں مطلع کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کیئے جانیوالے مطالبے پر سندھ پولیس کو چار بکتر بند گاڑیاں فراہم کردی گئی ہیں جبکہ جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔انسداد جرائم پولیس کی ذمہ داری ہے جبکہ کرائم کو روکنا اور بہتر پولیسنگ دینا ہماری ذمے داری ہے۔کرائم کو روکنے میں پولیس کافی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 512۔۔۔ایس اے جے

کراچی
مور خہ06 مئی 2025

ڈاکٹر لال چند اکرانی کی اقلیتی امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی تقریب میں شرکت

کراچی 6 مئی ۔محکمہ برائے اقلیتی امور کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر سلیم اختر کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں سیکریٹری آفیس میں ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور ڈاکٹر لال چند اکرانی، سیکریٹری انجم اقبال جمانی سمیت محکمے کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ تقریب میں ڈاکٹر لال چند اکرانی اور سیکریٹری نے ریٹائر ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر کو اجرک پہنائی اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر لال چند اکرانی نے سلیم اختر کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سلیم اختر نے 22 سال تک اقلیتی امور کے محکمے میں اپنی خدمات پیش کیں اور محکمے سے وابستہ رہے، اقلیتی برادری کی فلاح اور حقوق کے فروغ کے لیے پالیسیوں اور اقدامات میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ اس محکمے کو دیا اور آج ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اقلیتی امور کے محکمے کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سلیم اختر کی خدمات ایک روشن مثال ہیں کہ کس طرح ایک سرکاری ملازم ایمانداری سے اپنی نوکری انجام دے سکتا ہے۔ ہم ان کے لیے خوشحال ریٹائرمنٹ کے دعاگو ہیں۔ اقلیتی امور کے محکمے کے سیکریٹری انجم اقبال جمانی نے کہا کہ سلیم اختر محکمے کے ابتدائی اور سینئر ملازمین میں سے ایک تھے۔ ان کی خدمات محکمے کے لیے ایمانداری اور شفافیت سے بھرپور رہیں۔ سینئر ملازم ہونے کی وجہ سے سلیم اختر کو محکمے کے معاملات کے بارے میں گہری معلومات تھیں۔ آخر میں ریٹائر ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر سلیم اختر نے الوداعی تقریب منعقد کرنے پر ڈاکٹر لال چند اکرانی اور سیکریٹری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے میں خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے جو انصاف اور برابری کی قدروں پر قائم ہے۔ میں یہاں سے بہترین یادوں کے ساتھ جا رہا ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ محکمے میں کام کرنے والی یہ ٹیم اقلیتی برادری کی فلاح کے کام کو جاری رکھے گی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 510۔۔۔اے کے