
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈاکٹر عشرت العباد خان کے صاحبزادے شماس العباد خان نے اپنی سیاسی جماعت “میری پہچان پاکستان” کے سوشل میڈیا گروپس میں ڈاکٹر عشرت العباد خان کی صحت کے حوالے سے آگاہ کیا ہے کہ حال ہی میں پیش آنے والے طبی مسئلے کے بعد، اللہ تعالیٰ کے فضل اور تمام کارکنان و ہمدردوں کی دعاؤں کے باعث ڈاکٹر صاحب تیزی سے روبہ صحت ہیں اور اپنی معمول کی سرگرمیوں کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔
شماس العباد خان نے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جو اس مشکل وقت میں دعاگو رہے۔ اور کہا کہ ڈاکٹر عشرت العباد کےساتھ چند دن پہلے، اچانک پیش آنے والے ایک طبی مسئلے نے ہمیں آزمایا۔ مگر رب کریم کا خاص احسان، آپ سب کی دعاؤں کی برکت، اور ڈاکٹر صاحب کے عظیم حوصلے نے اس مشکل گھڑی کو سر کر لیا۔ آج وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں، اور پوری قوت سے واپس اپنی معمول کی مصروفیات کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ گوکہ یہ خبر صرف چند ساتھیوں تک ہی پہنچ سکی وہ بھرپور مشکور ہیں تمام ساتھیوں کا جو دعاگو رہے۔
آج جب ہماری قوم سنگین اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، بالخصوص بھارت کے ساتھ موجودہ جنگی صورتحال میں، ڈاکٹر صاحب کا پیغام بالکل واضح ہے کہ عوام کا اتحاد، آپ کی وفاداری اور دعاؤں کی طاقت ہی ہے جو ہر سپاہی کا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ آج، ہمیں اپنے محافظوں کے لیے ایک زندہ قوم بن کر یکجہتی اور ثابت قدمی کا علم بلند کرنا ہے۔
شماس العباد کا مزید کہنا تھا کہ یاد رکھیے، پاکستان ناقابل تسخیر ہے کوئی دشمن، کوئی سازش، ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ “میری پہچان پاکستان” ایک تحریک ہے جو رکنے والی نہیں . متحد رہیں، یہی ہمارا مقدر اور ہماری شان ہے۔
جاری كرده:
مرکزی میڈیا سیل
میری پہچان پاکستان
==============================

پاکستان ناقابل تسخیر ہے۔۔۔۔۔ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے۔۔۔۔ابدالی اور الفتح میزائل پاکستان کا ٹریلر۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باد۔ بھارت عبرت کا نشان۔۔جھوٹ پر جھوٹ
محمد رضوان خان rizwanahmedfikri1@gmail.com
پاکستان کے بارے میں اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن میں آرمی چیف نے قوم میں اپنے خطاب میں ایک نئی روح پھونکی تھی۔ جس میں کہا تھا کہ قوم کو پاکستان کے اغراض و مقاصد اور اسکی قربانیوں اور مقٓاصد سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کے قیام کے مقاصد اور قرانی آیات سے بھی بہت سی باتیں کرکے قوم میں ایک نئی روح پھونکی۔ اب جبکہ بھارت نے پہلگام کا فالس آپریشن کرکے پاکستان کو ملوث کرنے کی ناپاک کوشش کی جس میں اسے بری طرح ناکامی ہوئی۔ دنیا بھی بھارت کی چالبازی سے واقف ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر اس واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کرچکا ہے جبکہ واقعہ کی بھی مذمت کی ہے۔ اس سے پہلے بھی بھارت پلوامہ اور بالا کوٹ جیسے ڈرامے کرچکا ہے۔ نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد بھی اپنی گجرات کے قصائی والی ذہنیت ختم نہیں کی اور آج بھی دہشت گرد ہے۔ مسلمانوں کے قاتل مودی نے بھارت میں اقلیتوں کا جینا حرام کردیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا پر ہیں۔ مسلمانوں کی جائیدادیں ہتھیانے کے لئے جبری قانون بنا کر الگ ظلم جاری ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی غیر قانونی عمل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی خلاف ورزی ہے۔ جس طرح کشمیر کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں بکھیر دیں اسی طرح اب ورلڈ بنک اور دیگر کو خاطر میں نہیں لا رہا۔ پاکستان نے بھی جرات مندانہ اقدام کئے ہیں۔ اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی، شملہ معاہدہ، اقر دیگر اقدامات ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو مزاق سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ پاکستان نے آبی جارحیت کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کسی بھی ایڈونچر کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ ابدالی اور الفتح میزائل کے کامیاب تجربے اور عسکری قیادت نے بھرپور تیاری کرلی ہے۔ بھارت کا جنگی جنون پاکستان بھرکس نکال کر پورا کرسکتا ہے۔ ابھی صرف ٹریلر چلے ہیں۔ ہمارے مرد آہن آرمی چیف نے امن پسند ملک ہونے کے ناطے پہل نہیں کی ہے لیکن بھارت کی ہر شرارت کا جواب پاکستان دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان ناقابل تسخیر ہے۔ سیاسی قیادت اور عوام اپنی فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی نے ڈی جی آئی ایس آئی اور حکومت کی مشترکہ بریفنگ میں شرکت نہ کرکے اچھی روایت رقم نہیں کی قومی بیانیہ میں تو ساتھ ہیں لیکن ریاست پر سیاست کو ترجیح نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان میں را اور بھارتی دہشت گردی کے ثبوت ہیں۔کلبھوشن یادیو اسکی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔بلوچستان میں دہشت گردی، جعفر ایکسپریس سانحہ اسکی کھلی مثال ہے۔
اقوام عالم سمیت عالمی عدالت انصاف کو بھی جاگنا چاہئے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان اسے نشان عبرت بنا دے گا۔ بھارت کی انتہا پسندی کے خلاف کاروائی اب عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو ترنوالہ سمجھنے کی غلطی بھارت کو داستان بنادے گی۔ ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے۔ پاکستان زندہ باد۔ پاک فوج زندہ باد























