سنگ دل سی ایم ، رنگیلا گورنر اور مخولیہ میئر ، عوام پر عذاب مسلسل

سنگ دل سی ایم ، رنگیلا گورنر اور مخولیہ میئر ، عوام پر عذاب مسلسل

سخت گرمی میں پانی کےشدید بحران میں کراچی کے لاکھوں عوام کو اکیلا اور تنخواہ چھوڑ دینے والے سی ایم ،رنگیلے گورنر اور مخولی میئر کراچی سے عوام کیا امید رکھیں کسی نے ان کے علاقوں میں پہنچ کر ان کا احوال نہیں پوچھا یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ان پر کیا بیت رہی ہے بغیر پانی کے زندگی کیسے گزر رہی ہے ساری جمع پونجی اور ساری کمائی پانی کے ٹینکر خریدنے پر لگا دی ہے تو اگلے دنوں کے بارے میں کیا سوچ رکھا ہے ۔ ان حکمرانوں کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ بلغ واٹر لائن پھٹ جانے کے بعد متاثرہ علاقوں میں پانی پہنچانے کا کوئی متبادل بندوبست تلاش کرتے کوئی پلان تیار کرتے کوئی ہنگامی اجلاس بلاتے کچھ سوچتے کوئی دماغ لڑاتے لیکن کسی کو فکر ہی نہیں کسی کو پرواہ نہیں عوام پر جو بھی گزر رہی ہے گزرتی رہے کوئی نہیں جو سوچے کہ غریب عوام پانی کیسے خریدے گی غریبوں کے پاس تو گزر بسر کے پیسے نہیں مسائل اور مشکلات میں گھرے ہوئے


عوام مہنگا پانی کیسے خریدیں گے چھوٹے بلکتے بچوں کے لیے پانی کہاں سے ائے گا وضو اور طہارت کے لیے نمازیوں کو پانی کیسے ملے گا مساجد امام بارگاہوں کی کیا صورتحال ہے کتنا فنڈ ہے جو پانی خریدنے پر لگے گا کب تک یہ پیسے واٹر ٹینکر خریدنے کی مد میں خرچ ہوتے رہیں گے حکومت کہاں ہے وزیراعلی جواب کیوں نہیں دیتے گورنر کوئی بات نہیں سنتے میں اور کراچی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے عوام کے مسائل سے کوئی نہیں ہے جو عوام کے درمیان میں موجود ہو کوئی نہیں ہے جو عوام کا سامنا کرے کوئی نہیں ہے جو عوام کے مسائل اور دکھوں کا مداوا کر سکے مسائل کا حل تو بہت دور کی بات ہے کوئی اواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں کوئی مسئلے کو مسئلہ ماننے کے لیے تیار نہیں کیسی بے حسی ہے کیسی لاپرواہی ہے کیسی بے اعتنائی ہے حکمرانوں نے عوام سے خود کو الگ الگ کیوں کر لیا ہے ان کو خوف خدا نہیں یہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں عوام کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے ان کو غریب لوگوں پر کوئی طرز کیوں نہیں اتا ان کے دل اتنے پتھر کے کیوں ہو گئے ہیں یہ عوام کی غلطیوں کی سزا ہے یہ عوام کے گناہوں کا عذاب ہے جو مسلسل ان پر نازل ہو رہا ہے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے تاکہ ایسے سنگ دل اور پتھر دل حکمرانوں سے جان چھوٹے ۔ نہ جانے کیسے ان پتھر دل اور سنگ دل لوگوں کے دل موم ہو سکتے ہیں کیا کیا جائے ان کو کس چیز کا واسطہ دیا جائے ان کو کچھ نظر نہیں اتا انہوں نے اپنی انکھوں پر کیا پٹیاں باندھ رکھی ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہر گھر میں عوام کے پاس تجوریاں ہیں اور ان کی بھری ہوئی تجوریوں کی طرح عوام کے پاس بھی نوٹوں کی بھری ہوئی بوریاں ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہے عوام کے ہاتھ تو خالی ہیں عوام تو سفید پوشی میں زندگی گزار رہے ہیں اور غربت زدہ ہیں مشکل میں ہیں اکیلے ہیں کمزور ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں پانی کے تازہ بحران نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ حکمران عوام سے دور نہیں بلکہ بہت دور بہت دور کہیں گم ہو چکے ہیں