پانی بیچنے والی واٹر ٹینکر سروس ایک دن کے لیے بھی بند نہیں ہوئی جب کہ متاثرہ علاقوں کے لاکھوں شہری پانی کے لیے مارے مارے پھرتے رہے ، حکومت کو غریبوں کا کوئی خیال نہیں

پانی بیچنے والی واٹر ٹینکر سروس ایک دن کے لیے بھی بند نہیں ہوئی جب کہ متاثرہ علاقوں کے لاکھوں شہری پانی کے لیے مارے مارے پھرتے رہے ، حکومت کو غریبوں کا کوئی خیال نہیں

شہر میں پانی کی بندش کے دوران یہ بات ہر کسی کی زبان پر ہے کہ کیا حکومت کو غریبوں کا کوئی خیال نہیں حکمرانوں نے غریبوں کا حال تک نہیں پوچھا کہ بغیر پانی کے کیسے رہ رہے ہیں غریب لوگ مہنگائی کے اس دور میں مہنگے واٹر ٹینکر کیسے خرید سکتے ہیں ایک ایک گیلن خریدنا مشکل ہوا ہوا ہے لیکن حکومت اور سیاسی رہنماؤں کو اس کا کوئی احساس نہیں کوئی ان متاثرہ علاقوں میں پوچھنے نہیں ایا کوئی واٹر ٹرینکر لے کر نہیں ایا کسی نے ا کر دلاسہ نہیں دیا کسی نے پانی کے بندوبست کے لیے اواز نہیں اٹھائی حکومت ٹیسٹ سے مس نہیں ہوئی حکمرانوں کو متاثرہ علاقوں کا خیال نہیں ایا وزیراعلی سے لے کر میر کراچی تک کوئی ان علاقوں کی طرف نہیں ایا شہر کے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں پر مشتمل ابادی ہے وہاں پر پانی نہیں پہنچا ایک دن نہیں دو دن نہیں پورا ہفتہ گزر گیا جو امیر لوگ ہیں وہ مہنگے واٹر ٹینکر خرید سکتے ہیں لیکن غریب کہاں جائیں کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں کہاں دہائی دیں گورنر ہاؤس کا گھنٹہ بھی نہیں بچا کوئی پانی پہنچانے کے لیے اگے نہیں بڑھ رہا گورنر نے بھی خاموشی اختیار کر لی وزیراعلی تو ویسے ہی ان علاقوں میں نہیں جاتے میئر کراچی بھی غائب ہیں کراچی کے منتخب عوامی نمائندے کسی کام کے نہیں شہریوں کی حالت خراب ہے بغیر پانی کے زندگی کیسے گزر رہی ہے کوئی سوچے تو سہی۔ لیکن کسی کو شہریوں کا احساس نہیں کوئی شہریوں کا غم گسار نہیں کوئی شہریوں کے ساتھ ا کر ان کا دکھ بانٹنے کے لیے تیار نہیں ۔