پانی کی بندش کے دوران کراچی کو 20 کروڑ گیلن یومیہ پانی سے محروم رہنا بڑا ۔ ایک ارب گیلن سے زیادہ نقصان کی وجہ سے شہریوں نے اربوں روپے کا پانی خرید کر گزارا کیا ۔ پانی بیچنے والوں کی چاندی ۔ حکومت خاموش تماشائی

حکومت نے بے بس لاچار اور کمزور شہریوں کو پانی بیچنے والے طاقتور ہاتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا شہر میں پانی کی بندش کی وجہ سے یومیہ 20 کروڑ گیلن پانی کم فراہم ہوا ایک ہفتے کی بندش کی وجہ سے ایک ارب گیلن سے زیادہ کا نقصان پانی کی مد میں شہریوں نے برداشت کیا اور اربوں روپے کا پانی خرید کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گئے اس تمام صورتحال میں حکومت خاموش تماشائی بنی رہی شہریوں کو حالات کے رحم و کرم

پر چھوڑ دیا گیا حکومت کی جانب سے ایک بالٹی پانی بھی مفت فراہم کرنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا اس دوران شہریوں نے جنازے بھی اٹھائے میتیں بھی ہوئی ہسپتالوں کی صورتحال بھی سب کے سامنے رہی مساجد امام بارگاہوں

کے حالات بھی سب کے سامنے رہے پانی خرید خرید کر ڈلوایا گیا لیکن حکومت کو کوئی ترس نہ آیا۔ حکومت ایک بالٹی خرید کر شہریوں کو دینے کی روادار نہ ہوئی
حکمرانوں نے شہریوں کے ساتھ جو رویہ اور سلوک اختیار کیا ہے اس پر شہری کیا حکمرانوں کو پھول پیش کریں گے ۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے بڑے رہنما اس تمام صورتحال میں غائب ہو گئے شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی ا کر ان کو نہ دلاسہ دے رہا ہے نہ پانی کا عارضی طور پر بندوبست کیا جا رہا ہے نہ کوئی پانی خرید کر دینے کے لیے اگے بڑھ رہا ہے























