کراچی کے شہری بوند بوند پانی کو ترس گئے ۔ شاباش وزیراعلی شاباش میئر کراچی ، چیف سیکرٹری اور کمشنر کے کیا کہنے ؟ شہر کو لاوارث لاچار اور بے بس بنا دیا

کراچی کے شہری بوند بوند پانی کو ترس گئے ۔ شاباش وزیراعلی شاباش میئر کراچی ، چیف سیکرٹری اور کمشنر کے کیا کہنے ؟ شہر کو لاوارث لاچار اور بے بس بنا دیا


کراچی کے شہری بوند بوند پانی کو ترس گئے… انتظامیہ کے دعوے محض جھوٹ؟

رپورٹ: خصوصی نامہ نگار

کراچی: شہر قائد کے عوام ایک ہفتے سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ 84 انچ کی بلک واٹر لائن کے پھٹنے کے بعد کراچی یونیورسٹی اور دیگر علاقوں میں پانی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہے۔ انتظامیہ کے مسلسل دعوؤں کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ شہری غصے اور مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ حکومتی عہدیداروں کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیانات عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔

نعیم خانزادہ کی رپورٹ: انتظامیہ کے دعوے جھوٹے ثابت
معروف صحافی نعیم خانزادہ نے ایکسپریس نیوز پر اپنی رپورٹ میں انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ لائن کی مرمت مکمل ہو چکی ہے اور پانی کی سپلائی بحال ہو گئی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نعیم خانزادہ نے نیپا پمپنگ اسٹیشن کا دورہ کیا، جہاں پانی کا ایک قطرہ تک نظر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ شہر بے بس ہے، لاچار ہے، یتیم ہے۔ یہاں کوئی بولنے والا نہیں، کوئی سننے والا نہیں۔”

عوام کے سوالات جن کا کوئی جواب نہیں:

وزیراعلیٰ سندھ کے نام: کراچی آپ کا گھر ہے، لیکن آپ کی حکومت نے شہر کو پانی کے بحران میں کیوں چھوڑ دیا؟ ایک ہفتے گزرنے کے بعد بھی سپلائی بحال کیوں نہیں ہو سکی؟

میئر کراچی مرتضٰی وہاب کے نام: کیا آپ کو شہر کی صورتحال سے کوئی سروکار ہے؟ کیا آپ نے بحران کے دوران کراچی یونیورسٹی یا متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا؟

واٹر بورڈ اور انتظامیہ کے نام: اگر مرمت مکمل ہو چکی ہے تو پانی کیوں نہیں آرہا؟ کیا عوام کو جان بوجھ کر پانی کی قلت میں رکھا جا رہا ہے تاکہ ٹینکر مافیا کو فائدہ پہنچے؟

چیف سیکرٹری اور کمشنر کراچی کے نام: کیا آپ کو شہریوں کی تکلیف کا احساس ہے؟ یا آپ کی ترجیح صرف میڈیا میں بیانات جاری کرنا ہے؟

ٹینکر مافیا کا کھیل جاری:
نعیم خانزادہ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ جبکہ عام شہری پانی کے لیے ترس رہے ہیں، ٹینکر مافیا کا کاروبار عروج پر ہے۔ انہوں نے نیپا ہائیڈرنٹ کے قریب ٹینکروں کو پانی بھرتے دیکھا، جو ثابت کرتا ہے کہ کس طرح ایک مخصوص لابی بحران سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

عوامی غم و غصہ:
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت جھوٹے وعدوں سے کام چلا رہی ہے۔ ایک رہائشی نے کہا، “ہم نے اربوں روپے کا پانی خرید لیا ہے، لیکن سرکار ہمیں صرف جھوٹ دے رہی ہے۔” دوسرے شہریوں نے سوال اٹھایا کہ “کیا کراچی واقعی پاکستان کا حصہ ہے؟ یا ہمیں جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟”

حکومتی خاموشی پر تنقید:
صوبائی وزرا، میئر اور انتظامیہ کے عہدیداروں کی خاموشی نے عوام کے غم و غصے کو اور بڑھا دیا ہے۔ نعیم خانزادہ نے سوال اٹھایا کہ “کیا کراچی والوں کے لیے پانی بنیادی حق نہیں؟ کیا یہ شہر لاوارث ہے؟”

نتیجہ:
کراچی والوں کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے: “ہمیں پانی دو۔ ہمیں جھوٹے وعدے نہیں، حقیقی اقدامات چاہیے۔” لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی سننے والا ہے؟

مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے نعیم خانزادہ کی رپورٹ:
67) Karachi Water Crisis Worsens | No Water | NIPA Pumping Station Shutdown | Details by Naeem Khanzada – YouTube

شہر کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے نعیم خانزادہ کا کہنا تھا:
“یہ شہر بے بس ہے، لاچار ہے، یتیم ہے۔ یہاں کوئی بولنے والا نہیں، کوئی سننے والا نہیں۔ عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔”

کیا کراچی کے عوام کو انصاف ملے گا؟ یا یہ بحران بھی نظرانداز ہو جائے گا؟