
گرم ہواؤں سے متاثرہ افراد کے لیے پرانی روش ہی جاری!
کراچی، 26 اپریل 2025:
سندھ حکومت نے صوبے بھر میں گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی پرانا طریقہ کار موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی ہے؟ انتظامیہ نے ایک بار پھر وہی پرانی ترکیب اپناتے ہوئے کیمپ لگا کر گرمی میں گھر سے نکلنے والوں کو ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن کیا صرف یہی اقدامات کافی ہیں جبکہ پاکستان کا موسمی نظام مکمل طور پر بدل چکا ہے؟

موسمیاتی تبدیلیوں نے پورے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، اور گرمی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن کیا انتظامیہ کا نقطہ نظر بھی ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بدلا ہے؟ شہروں میں کوڑے کرکٹ اور گٹر کے پانی سے ماحول تباہ ہو رہا ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آتے۔ عوام کو صاف پانی فراہم کرنے، آلودگی پر کنٹرول کرنے، اور شہروں میں پارکس اور درختوں کی تعداد بڑھانے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے—شہید بینظیرآباد میں 47°C، جیکب آباد میں 46°C، حیدرآباد میں 43°C، اور کراچی میں 35°C تک پہنچ چکا ہے۔ لیکن کیا محض کیمپ لگا دینا اور میٹنگز کر لینا کافی ہے؟ شہری اداروں میں نہ تو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ماہرین موجود ہیں، نہ ہی افسران کے پاس اس صورتحال کو سنبھالنے کا کوئی واضح لائحہ عمل ہے۔

سندھ کے چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے تمام ڈویژنل کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو گرمی کی لہر سے بچاؤ کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ کراچی ڈویژن میں 73، شہید بینظیرآباد میں 63، سکھر میں 47، حیدرآباد میں 124، لاڑکانہ میں 71، اور میرپورخاص میں 29 کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن کیا یہ کیمپ عوام کو مستقل بنیادوں پر گرمی سے بچانے کا حل ہیں؟ کیا اس سے زیادہ ضروری شہروں کو صاف ستھرا رکھنا، پانی کی فراہمی کو بہتر بنانا، اور درخت لگانے جیسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں؟

حکومت نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات دی ہیں کہ ہسپتالوں میں گرمی سے بچاؤ کے وارڈ قائم کیے جائیں، لیکن کیا اس سے پہلے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی؟ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے توانائی کے محکمے کو ہدایات دی گئی ہیں، لیکن کیا طویل مدتی منصوبہ بندی کے بغیر یہ مسئلہ حل ہو سکے گا؟
سوال یہ ہے کہ کیا محض وقتی اقدامات کر کے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے طویل المدتی اثرات سے نمٹ سکتے ہیں؟ کیا عوام کو صرف کیمپ اور ٹھنڈے پانی تک محدود رکھنا ہی حکومت کا فرض ہے؟ یا پھر ماحولیات کو بہتر بنانے، صاف پانی کی فراہمی، اور شجرکاری جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے؟
حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی صحت اور حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے، لیکن کیا صرف میٹنگز اور پرانے طریقوں سے یہ ترجیح پوری ہو سکتی ہے؟























