
تحریر: سیدہ سنمبلہ بخاری
پاکستان ایک سنگین معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ روپے کی بے قدری، مہنگائی کی بلند ترین شرح، زرِمبادلہ کے ذخائر میں تشویشناک کمی، اور آئی ایم ایف کے ساتھ کٹھن مذاکرات نے ملک کو ایسی صورتِ حال میں لا کھڑا کیا ہے جس کی نظیر حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ عام شہری، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا، اب روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ موجودہ حالات نے اس تلخ حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ پاکستان کے لیے وقت کم اور فیصلے سخت ہو چکے ہیں۔
معاشی زبوں حالی کی وجوہات کوئی راز نہیں۔ دہائیوں پر محیط غلط معاشی پالیسیوں، سیاسی عدم استحکام، اور بیرونی قرضوں پر انحصار نے ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے قلیل مدتی سیاسی فائدے کو طویل مدتی اقتصادی اصلاحات پر ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہماری معیشت اپنی بقا کے لیے بیرونی امداد اور قرضوں کی مرہونِ منت ہے۔
اگر ہم نے فوری اور ٹھوس اصلاحات کا آغاز نہ کیا تو آنے والے وقت میں معیشتی بحران سیاسی، سماجی اور قومی سلامتی کے بحران میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
ٹیکس نیٹ کا وسعت دینا — پہلی ضرورت
پاکستان میں ٹیکس نظام کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی محض 2 فیصد آبادی انکم ٹیکس ادا کرتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں زراعت، ریٹیل، اور پراپرٹی جیسے بڑے شعبے ٹیکس نیٹ سے باہر ہوں، وہاں پائیدار ترقی کا خواب محض خوش فہمی ہے۔
حکومت کو سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ بااثر طبقات کو مراعات دینے کے بجائے ان پر بوجھ ڈالنا ہوگا۔ ٹیکس نظام میں شفافیت، سہل کاری، اور سختی تینوں پہلوؤں کو متوازن کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ بغیر محصولات کے اضافہ کیے، کوئی ترقیاتی منصوبہ حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔
توانائی کے شعبے کی اصلاح — وقت کی پکار
توانائی بحران پاکستان کی معیشت پر دیمک کی طرح حملہ آور ہو چکا ہے۔ گردشی قرضے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں، بجلی مہنگی ہوتی جا رہی ہے، اور پیداواری لاگت میں اضافہ صنعتوں کے لیے موت کا پیغام بن چکا ہے۔
ہمیں فوری طور پر متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پانی پر مبنی منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی موجودہ بجلی کی ترسیلی لائنوں میں ہونے والے نقصانات اور بدعنوانی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات نہ ہوئیں تو صنعتی پیداوار میں مزید کمی آئے گی، برآمدات مزید سکڑیں گی اور معیشت کا پہیہ مزید سست ہو جائے گا۔
برآمدات میں وسعت اور جدت — معاشی خود مختاری کی راہ
ایک کامیاب معیشت کی شناخت اس کی برآمدات کی وسعت اور تنوع سے ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی برآمدات آج بھی بڑی حد تک روایتی مصنوعات جیسے کپڑے اور چمڑے پر منحصر ہیں۔ دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، ای کامرس، اور دواسازی جیسے شعبے عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان کو بھی اپنی برآمداتی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔ آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکس ریلیف اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے فروغ دیا جائے، زرعی برآمدات میں جدت لائی جائے، اور نئے ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔
یہی راستہ ہے جو پاکستان کو قرضوں کے چنگل سے آزاد کرا سکتا ہے۔
سیاسی استحکام — معیشت کا ضامن
کوئی معیشت اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ سیاسی میدان میں استحکام نہ ہو۔ ہر حکومت کی اپنی معاشی پالیسی، ہر نئے بجٹ میں پالیسیوں کا رخ بدل دینا، سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
ملک کو ایک جامع اور طویل مدتی اقتصادی ایجنڈا درکار ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو۔ ایسا ایجنڈا جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو اور جس کا مقصد صرف اور صرف عوام کی فلاح اور ملک کی خوشحالی ہو۔
عوام کا کردار — صرف نعرے نہیں، قربانی بھی
اصلاحات آسان نہیں ہوں گی۔ کچھ عرصے کے لیے عوام کو مزید مہنگائی، سبسڈی میں کٹوتی، اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر یہ قربانی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہوگی۔
عوام کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ ٹیکس دینا، توانائی کا کفایت سے استعمال کرنا، اور معاشی نظم و ضبط کا ساتھ دینا ہماری اجتماعی بقا کے لیے ضروری ہے۔
آخری بات
پاکستان اب مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ وقت سنجیدہ خود احتسابی، ٹھوس اصلاحات اور بہادرانہ فیصلوں کا ہے۔
اگر ہم نے اس موقع کو گنوا دیا تو پھر آنے والے بحران نہ صرف ہماری معیشت کو، بلکہ ہماری قومی یکجہتی اور وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
آج ہمیں بحیثیت قوم فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا ہم وقتی مقبولیت کے لیے حقیقی تبدیلی سے گریز کریں گے، یا آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لیے کڑوے مگر ضروری اقدامات اٹھائیں گے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ نعرے ختم ہوں اور عمل شروع ہو۔ ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی























