بلوچستان سے کون اغوا ہوا- بڑی خبر

بلوچستان سے کون اغوا ہوا- بڑی خبر

بلوچستان سے کون اغوا ہوا- بڑی خبر

خبرنامہ نمبر 2927/2025
کوئٹہ، 27 اپریل:ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نصیرآباد میں ہندو تاجر کے اغواء کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے انہوں نے کہا کہ واقعہ انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت مغوی تاجر کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے ترجمان صوبائی حکومت نے بتایا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور جلد مثبت پیشرفت متوقع ہے انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی شاہد رند نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی واضح ہدایات ہیں کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے.
============

خبرنامہ نمبر 2928/2025
لورالائی 26 اپریل:صحت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا سرکاری آفیسران عوام کے خادم ہیں ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی کاکڑ نے آر ایچ سی میختر کے دورے کے موقع پر باچیت کرتے ہوئے کہی ان کے ہمراہ ڈی ایچ او لورالائی عبدالحمید زہری۔قبائلی رہنما چیئرمین عبداللہ.ڈاکٹر شاہ زمان خان اور دیگر آفیسران بھی تھے اے ڈی سی نور علی خان کاکڑ نے گزشتہ روز آر ایچ سی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مذکورہ سینٹر کے حوالے سے چلنے والے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے پوری طور وہاں موجود کمیونیٹی کیساتھ ایک میٹنگ منقعد کی واضع رہے کہ کافی سال پہلے علاقہ کے قبائلی رہنما نے ایچ آر سی سینٹر کے لیے زمین فراہم کی تھی جہاں یہ معاہدہ ہوا کہ زمین فراہم کرنے کے بعد ہمارے گھر کے بندوں کو مذکورہ سینٹر میں ملازمت فراہم کی جائے بصورت دیگر مذکورہ گھر کے افراد نے مذکورہ سینٹر کو بند کیا جس پر اے ڈی سی نور علی خان کاکڑ نے فوری طور پر اس سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں موجود اسٹیک ولڈر سے ملاقات کی ا نہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے بھر کوشش کرینگے انہوں نے کہا کہ کیمیونٹی کے تعاون سے ہی یہ عوامی مسائل کا حل ممکن ہے اجلاس میں تمام شامل علاقائی کمیونیٹی اور موقع پر موجود افراد نے آئندہ صلاو مشورہ سے ہر مسئلے کو حل کرنے پر اتفاق ہوا آخر میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے تمام شرکاء اور قبائلی عمائیدین کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا۔

خبرنامہ نمبر 2930/2025
لورالائی 27اپریل:جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی خان کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر آج رینج فارسٹ آفیسر لورالائی کمال خان کاکڑ کے ہمراہ ضلع لورالائی تحصیل میختر میں قائم گڈی بر اسٹیٹ فارسٹ جنگلات کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے تین ہزار ایکڑ پر مشتمل جنگلات کا مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور وہاں موجود اردن بند کے کام اور یہاں جاری ترقیاتی کام سال 2024-25 کابھی جائزہ بھی لیا۔ اے ڈی سی نور علی خان کاکڑ نے محکمہ جنگلات کی جانب سے تیارہونے والے جنگلات ریسٹ ہاوس کا بھی معائنہ کیا اور موقع پر موجود ٹھیکدار کو تاکید کی کہ ریسٹ ہاوس کی تیاری میں بہترین مٹیر یل استعمال کریں کیونکہ ترقیاتی منصوبے عوام کی امانت ہے اس کی جلد اور معیاری تکیمیل وقت کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے عملہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور خلوص سے ادا کریں کیونکہ جنگلات کے تحفظ کے لیے کوئی برداشت نہیں کی جائیگی آخر میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی خان کاکڑ نے رینج فارسٹ آفیسر لورالائی کمال خان اوتمخیل اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

خبرنامہ نمبر 2931/2025
پنجگور 27 اپریل 2025: بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے پنجگور ٹیچنگ اسپتال کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے تھیلیسیمیا کیئر سینٹر، گیس پلانٹ، ایکسرے، ڈینٹل اور دیگر شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ نورالحق بلوچ نے اسپتال کی موجودہ کارکردگی اور سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اسپتال کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں پنجگور ٹیچنگ اسپتال کی کارکردگی کئی گنا بہتر ہے، تاہم اسپتال انتظامیہ کو مزید بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی ہوں گی اس موقع پر ایم ایس ٹیچنگ اسپتال ڈاکٹر وزیر احمد، ڈی ایچ او ڈاکٹر انور عزیز، ڈاکٹر منظور، حاجی ناصر علی کشانی، جاوید کچکول، امان جان اور دیگر ان ہمراہ تھے انہوں نے اسپتال عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر طبی سہولیات کی فراہمی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہم ہے اور اسپتال انتظامیہ کی مسلسل محنت سے علاقے میں صحت کے شعبے میں بہتری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔

خبرنامہ نمبر 2929/2025
کوئٹہ 27 اپریل:علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق اتوار اور منگل کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم انتہائی گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے۔ ضلع سبی، کچھی، صحبت پور، لہڑی، نصیر آباد، جھل مگسی میں دن کے عام درجہ حرارت کی نسبت زیادہ گرمی ہوگی۔ جبکہ تربت، آواران، لسبیلہ، واشک، خاران، چاغی سمیت میدانی اور زیریں علاقوں میں گرمی رہے گی۔ اس کے علاؤہ حب اور گوادر کے ملحقہ علاقوں سمیت ساحلی علاقوں میں موسم انتہائی گرم اور مرطوب رہے گا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ لسبیلہ میں 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 2926 /2025
کوئٹہ 27 اپریل:جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل عدالت عالیہ بلوچستان کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے سمنگلی روڈ پر فلائی اوور تعمیر کرنے سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فلائی اوور کی تعمیر اور اس کے لیے زمین کے حصول پر 4200 ملین روپے خرچ ہونے کے امکان ظاہر ہونے کی وجہ سے پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیراعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ کو اس کی تعمیر سے روک دیا اور مذکورہ روڈ پر کم لاگت منصوبہ لانے کے لیے انڈر پاس تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔ سماعت کے دوران جب پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیر اعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ سے سمنگلی روڈ پر انڈر پاس کی تعمیر کی فزیبلٹی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے سمنگلی روڈ پر مشرق سے مغرب تک انڈر پاس کی تعمیر کی تجویز پر کام کرنے کے لیے تازہ سروے کرنے کے لیے وقت مانگا۔ اسے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دونوں صورتوں (یعنی فلائی اوور اور انڈر پاس) میں زمینوں کی لاگت اور حصول کے لیے ایک تقابلی جدول مرتب کرے۔دو رکنی بینچ کے معزز ججز نے پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیر اعلیٰ بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ کو انڈر پاس منصوبے کی فزیبلٹی کے لیے درخواست کردہ مدت کے لیے وقت دیا۔ تاہم، اگلے احکامات تک فلائی اوور کی تعمیر سے متعلق مزید کوئی کام نہیں کیا جائے گا۔ محمد اسحاق ناصر، ایڈووکیٹ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیراعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ دونوں نے پیرا واز کمنٹس داخل کرنے کے لیے پٹیشن کی کاپی کی درخواست کی، جس کی کاپی عدالت میں دی گئی ہے۔اس آرڈر کی کاپی متعلقہ حکام کو معلومات اور تعمیل کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دفتر میں بھیجی جائے۔ سماعت کو 15 مئی 2025 تک ملتوی کر دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 2925/2025
کوئٹہ 27 اپریل 2025:جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل عدالت عالیہ بلوچستان کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے ایڈوکیٹ سید نذیر اغا کا توسیع زرغون روڈ پر کام کی پیشرفت سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران دو رکنی ڈویژنل بینچ کو پروجیکٹ ڈائریکٹر، وزیراعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ محمد رفیق بلوچ نے ایڈووکیٹ اسحاق ناصر کے ساتھ پیشرفت رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک ہاکی گراؤنڈ، ریلوے ریسٹ ہاؤس اور (پاکستان ریلویز) کے احاطے کو چھوڑ کر سریاب پل/سی این جی پمپ سے اے جی آفس تک بجلی کے کھمبوں کے لیے کھدائی مکمل ہو چکی ہے، اور فی الحال دبلی پتلی اور ہیڈ کنکریٹ پر کام جاری ہے۔ اب تک 220 میٹر کام مکمل ہو چکا ہے۔ سائنس کالج اور پرنس روڈ کے چوراہے پر سلپ روڈز کا ڈیزائن اور لے آؤٹ مکمل ہو چکا ہے اور اس کی درست حد بندی کر دی گئی ہے۔ سائنس کالج کوئٹہ کے پرنسپل، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور سیکرٹری محکمہ صحت سے مشاورت جاری ہے۔ تاہم، محکمہ کی جانب سے باضابطہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سی) کا ابھی بھی انتظار ہے۔ مجموعی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے، پرنسپل کی رہائش گاہ پر متاثرہ کمروں کی متبادل تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا۔ اے جی آفس اور ڈی ای این، پاکستان ریلوے کوئٹہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ ان کے احاطے میں دیوار کی تعمیر کی اجازت حاصل کی جا سکے۔ ایک ماڈل (EV) ویکیوم کلیننگ مشین خریدی اور تعینات کی گئی اور انسکمب سائٹ پر جانچ کی گئی۔ بقیہ حصے کی شجرکاری جاری ہے۔ڈیزائنر، ڈاکٹر ملک ثاقب، معزز عدالت کی ہدایت کے مطابق مندرجہ ذیل اجزاء کی از سر نو تشکیل/ڈیزائن کا کام شروع کرنے کے لیے کل تک پہنچیں گے۔ سریاب پل کی توسیع، سریاب پھاٹک چوراہا، پشین اسٹاپ ایریا، ریلوے ٹریک کے ساتھ چمن پھاٹک کو کوئلہ پھاٹک سے لنک کرنا۔ درخواست گزار کو رپورٹ کی کاپی فراہم کر دی گئی ہے، جو اس کے مطالعے کے لیے وقت مانگتا ہے۔عدالت کے استفسار کے جواب میں، پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ آج مطلوبہ بٹومینس پہنچنے کا امکان تھا، لیکن عدالت کی کارروائی کی وجہ سے، وہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے بارے میں لاعلم ہیں اور اس کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد، عدالت کو اس کے مطابق مطلع کریں گے۔عدالت کے استفسار کے جواب میں، پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیر اعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ نے مزید کہا کہ اگرچہ زرغون روڈ کے مغربی جانب ڈرین کا کام جاری ہے۔ کہ بجلی کے کھمبوں، گیس پائپ لائن، پی ٹی سی ایل کے فائبر آپٹک اور ٹیلی فون کاپر وائر لائن کی منتقلی یوٹیلیٹی کوریڈور کی تکمیل کے التوا کی وجہ سے ابھی تک شروع نہیں ہوسکی ہے، جس کے لیے ایس ایس جی سی ایل کو گیس پائپ لائن کی منتقلی کے لیے آبنائے لائن کی ضرورت ہے اور اسی طرح پی ٹی سی ایل نے بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ پی ٹی سی ایل کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ رفیع اللہ بڑیچ کو ہدایت کی گئی کہ وہ جواب کو یقینی بنائیں اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کو فائبر آپٹکس اور ٹیلی فون کاپر وائر لائن کو منتقل کرنے کی تخمینہ لاگت کے بارے میں مطلع کریں۔ ماہر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، ڈائریکٹر ریجنل اکاؤنٹس اکیڈمی سید محمد قدیر،، کوئٹہ کی مدد سے، ریونیو ریکارڈ کے خلاصے پیش کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان آڈٹ ڈیپارٹمنٹ اوراکاؤنٹس اکیڈمی کو 133564 مربع فٹ جگہ الاٹ کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کی جانب سے اکیڈمی کو ابھی تک تقریباً 10,000 مربع فٹ جگہ فراہم نہیں کی گئی ہے۔ کہ سڑک کی توسیع کے لیے باؤنڈری والز کی تعمیر کی ضرورت ہے جس میں بنیادی طور پر اکیڈمی کے سامنے تقریباً 15000 مربع فٹ زمین استعمال کی جائے گی۔ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کا موقف تھا کہ چونکہ اکیڈمی کے سامنے کی زمین پارکنگ کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور سڑک کی توسیع اور باؤنڈری وال کی تعمیر کے بعد اکیڈمی کو پارکنگ کی گنجائش نہیں رہے گی، اس لیے انہوں نے استدعا کی کہ اکیڈمی کی بچ جانے والی 10000 مربع فٹ زمین کو اکیڈمی کی کار پارکنگ کے لیے دوبارہ تیار کیا جائے۔ اس طرح کی درخواست کے پیش نظر، ماہر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کار پارکنگ کی تعمیر کے لیے اکیڈمی کو زمین کی فراہمی کے بارے میں مطلع کریں گے تاکہ زرغون روڈ کی توسیع میں مزید تاخیر سے بچا جا سکے۔ تاہم عدالت کے استفسار پر پراجیکٹ ڈائریکٹر سی ایم کیو ڈی پی نے بتایا کہ ہاکی چوک پر سلپ روڈ کی تعمیر کے لیے مذکورہ علاقے کے چاروں اطراف باؤنڈری والز بنا دی گئی ہیں جبکہ سائنس کالج سول ہسپتال چوک پر بھی تعمیراتی کام جاری ہے تاہم امداد چوک پر سلپ روڈ پر تعمیراتی کام میتوڈسٹ چرچ کی درخواست پر شروع نہیں ہو سکا جس نے چوک کی توسیع کے منصوبے کو رضاکارانہ طور پر زمین عطیہ کرنے کے لیے پیش کی لیکن سیلولر ٹاور کو ہٹانے کے لیے کچھ وقت مانگا۔دو رکنی بینچ کے معزز ججز نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے بیان کے مطابق ہاکی چوک پر نہ تو مزید زمین کی حصول کا انتظار ہے اور نہ ہی کسی تعمیر کی ضرورت ہے لہٰذا انہوں نے فوری طور پر ہاکی چوک پر سلپ روڈ کی تعمیر شروع کرنے کی ہدایت کی۔زرغون روڈ پراجیکٹ کی توسیع کا بنیادی مقصد ذہن میں رکھا جائے کہ زرغون روڈ کی توسیع کوئٹہ شہر کے شمال اور جنوب کی آبادی کے درمیان ایک اہم شریان کی طرح ہے اور اس حوالے سے رپورٹ وفاقی اور صوبائی اداروں کے متعلقہ سربراہان کے دستخطوں کے ساتھ اگلی تاریخ سماعت پر پیش کی جائے۔اس آرڈر کی کاپی ماہر ایڈیشنل اٹارنی جنرل، پاکستان (بلوچستان) کو بھیجی جائے اور اس پراجیکٹ کی بروقت تکمیل کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے متعلقہ سربراہان کو اپنے اپنے حصے میں زیر التواء تمام متعلقہ کاموں کو تیز کرنے کے لیے ہدایات کے ساتھ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو بھیجا جائے۔ سماعت کو 15 مئی 2025 تک ملتوی کر دی گئی۔

خبرنامہ نمبر 2932/2025
استامحمد27اپریل۔تحصیل استامحمد میں کھلی کچہری کا انعقاد، شہریوں نے مسائل کی نشاندہی کی اور ان کو حل کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر استامحمد ارشد حسین جمالی کی قیادت میں آج تحصیل استامحمد میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں تمام ضلعی محکموں کے افسران،ایف سی 114ونگ کے افسران سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل براہ راست حکام کے گوش گزار کیے۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، منشیات کے خاتمے، صاف پانی کی فراہمی، شہر میں صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم مسائل اجاگر کیے۔ شرکاء نے زبانی شکایات کے ساتھ ساتھ تحریری درخواستیں بھی پیش کی۔ ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے عوامی شکایات کو بغور سنا اور متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ان کے حقوق کی فراہمی اور مسائل کے فوری حل کیلئے براہ راست رسائی فراہم کرنا ہے، اور یہ سلسلہ تسلسل سے جاری رہے گا۔ عوامی حلقوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اقدام کو سراہا اور اُمید ظاہر کی کہ ان کے مسائل جلد حل ہوں گے۔

خبرنامہ نمبر 2933/2025
گوادر27اپریل: سیستان بلوچستان اور ایران سے آنے والی سراوان کرکٹ ٹیم اور گوادر کرکٹ اکیڈمی ٹیم کے درمیان ایک روزہ میچ کھیلا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن تھے۔ یہ میچ ضلعی انتظامیہ اور پاک آرمی کے تعاون سے منعقد ہوا۔ تقریب میں پاک آرمی کے میجر وقاص، گوادر کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ داد کریم بلوچ اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔ سراوان کرکٹ ٹیم گوادر میں مجموعی طور پر پانچ میچز کھیلے گی۔ ٹیم کی قیادت مرتضیٰ رادوزی اور ڈاکٹر عبدالقادر دیوار ی کر رہے ہیں، جبکہ ٹیم کے کپتان نادر زاہدی ہیں۔ آج کے میچ میں گوادر کرکٹ اکیڈمی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سراوان ٹیم کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی۔ سراوان کرکٹ ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 63 رنز بنائے۔

خبرنامہ نمبر 2934/2025
ضلع چمن:ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ چمن بارڈر کے راستے جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے آج پاک افغان سرحد زیرو پوائنٹ پر واقع افغان باشندوں کیلئے قائم کی گئی ود ہولڈنگ کیمپ چمن کا دورہِ کیا انہوں نے کیمپ میں تمام سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے وہاں پر افغان باشندوں کو فراہم کی جانے والی کھانے پینے علاج و معالجہ اور دیگر سہولیات اور اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ یکم اپریل سے اب تک 41 ہزار سے زائد افغان باشندے چمن بارڈر کے راستے واپس افغانستان جاچکے ہیں انہوں نے کہا کہ باقی علاقوں کی طرح چمن میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و امان کی قیام کے بعد تمام افغانیوں کو واپس اپنے ملک جاکر ملک کی آبادکاری اور ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کو پاکستان میں ہر طرح کی سہولیات اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا اب جبکہ افغانستان میں امن و امان قائم ہو چکا ہے لہذا تمام افغان باشندوں کو بڑی خوشی کیساتھ اپنے ملک جانا چاہیے انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کو عزت و وقار کے ساتھ واپس افغانستان بھیج دئیے جا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر 2936/2025
سوراب 27اپریل: ڈپٹی کمشنر سوراب حبیب نصیر نے آج ضلع سوراب کے مختلف علاقوں، بشمول جیوا، مولی اور گدر، کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینا اور عوامی مسائل کا براہ راست مشاہدہ کرنا تھا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف مقامات پر قائم لیویز فورس کی چیک پوسٹوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اہلکاروں کی حاضری، چوکس رویہ اور مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ علاقے میں امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے لیویز فورس کے جوانوں کو تاکید کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سوراب نے مقامی معتبرین، عمائدین اور نمائندہ شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، سیکیورٹی سے متعلق امور اور دیگر عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ معتبرین نے حکومتی توجہ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا۔ڈپٹی کمشنر سوراب، حبیب نصیر نے مقامی عوام کے تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے فوری حل اور علاقے کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور انتظامیہ کا باہمی تعاون ہی دیرپا امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو بروقت مکمل کریں اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں ڈپٹی کمشنر نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ علاقائی ترقی اور شہریوں کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں خلوصِ نیت سے انجام دیتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر 2935/2025
کوئٹہ26 اپریل:صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے بھارتی عزائم کو خطے اور عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کے فالس فلیگ آپریشن کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کی تو اسے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔اپنے بیان میں میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہم ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے خواہاں رہے ہیں۔ تاہم، کسی بھی چیلنج یا خطرے کی صورت میں قوم متحد ہو کر اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے۔ بلوچستان کے عوام ماضی کی طرح آج بھی ملکی دفاع اور قومی یکجہتی کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبے، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اس سوچ کا مظہر ہیں کہ ہم نہ صرف ترقی بلکہ پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ میر شعیب نوشیروانی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور بھارت کو اس کی سازشی تھیوریز اور مذموم چالوں سے باز رکھے تاکہ خطے کے عوام خوشحالی، ترقی اور استحکام کی جانب گامزن ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام قومی وحدت اور ملکی سالمیت کے لیے اپنی قربانیوں پر ہمیشہ فخر کرتے ہیں اور آئندہ بھی ملکی ترقی اور امن کے مشن میں ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر2923/2025
لورالائی، 26 اپریل:۔کلی چنجان ضلع لورالائی میں لیویز تھانہ کی بندش سے متعلق عوامی شکایت پر وزیراعلیٰ شکایت سیل نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تھانے کی بحالی ممکن بنا دی تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل کلی چنجان میں لیویز تھانہ کو بند کر کے عملہ دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا جس کے باعث علاقے کے عوام میں عدم تحفظ پایا جاررہا تھا عوامی حلقوں کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ تھانے کی بندش کے بعد چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور مقامی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کلی چنجان کا علاقہ حساس نوعیت کا حامل ہے، جو زیارت، قلعہ سیف اللہ اور پشین کی سرحدوں سے متصل ہے جہاں سے جرائم پیشہ عناصر فائدہ اٹھا کر جرائم میں ملوث ہو رہے تھے عوام کی جانب سے براہ راست وزیراعلیٰ بلوچستان کے شکایت سیل سے رجوع کیا گیا شکایت موصول ہونے کے بعد وزیراعلیٰ شکایت سیل نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں جس پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے کلی چنجان میں لیویز تھانے کو بحال کر دیا گیا اور عملے کی نئی تعیناتی بھی مکمل کر لی گئی مقامی قبائلی عمائدین اور عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ شکایت سیل کی بروقت کارروائی سے علاقے میں دوبارہ امن قائم ہو گیا ہے اور عوام نے سکون کا سانس لیا ہے علاقے میں اب لیویز فورس کی مستقل موجودگی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کا مؤثر طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ شکایت سیل کی فوری کارروائی، کلی چنجان لورالائی میں لیویز تھانہ بحال، عوام کا اظہار اطمینان

لورالائی ، 26 اپریل
کلی چنجان ضلع لورالائی میں لیویز تھانہ کی بندش سے متعلق عوامی شکایت پر وزیراعلیٰ شکایت سیل نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تھانے کی بحالی ممکن بنا دی تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل کلی چنجان میں لیویز تھانہ کو بند کر کے عملہ دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا جس کے باعث علاقے کے عوام میں عدم تحفظ پایا جاررہا تھا عوامی حلقوں کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ تھانے کی بندش کے بعد چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور مقامی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کلی چنجان کا علاقہ حساس نوعیت کا حامل ہے، جو زیارت، قلعہ سیف اللہ اور پشین کی سرحدوں سے متصل ہے جہاں سے جرائم پیشہ عناصر فائدہ اٹھا کر جرائم میں ملوث ہو رہے تھے عوام کی جانب سے براہ راست وزیراعلیٰ بلوچستان کے شکایت سیل سے رجوع کیا گیا شکایت موصول ہونے کے بعد وزیراعلیٰ شکایت سیل نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں جس پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے کلی چنجان میں لیویز تھانے کو بحال کر دیا گیا اور عملے کی نئی تعیناتی بھی مکمل کر لی گئی مقامی قبائلی عمائدین اور عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ شکایت سیل کی بروقت کارروائی سے علاقے میں دوبارہ امن قائم ہو گیا ہے اور عوام نے سکون کا سانس لیا ہے علاقے میں اب لیویز فورس کی مستقل موجودگی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کا مؤثر طور پر خاتمہ کیا جا سکے
خبر نامہ نمبر2922/2025
کراچی 26 اپریل: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں جمہوریہ لیتھوانیا کے قونصل خانے کا قیام ایک خوش آئند اقدام ہے اور یہ سنگ میل دونوں ممالک پاکستان اور لیتھوآینا کے درمیان سفارتی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے جس کے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیتھوانین قونصلیٹ جنرل کی افتتاحی تقریب میں پاکستان میں تعینات لیتھواینا کے سفیر (Mr. Ricardas Degitis) اور نئے مقرر کردہ قونصل جنرل کی شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے اپنی مہارت اور وژن کو بروئے کار لائیں گے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کراچی میں جمہوریہ لیتھوانیا کے قونصلیٹ جنرل کے قیام سے متعلق منعقدہ افتتاحی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. واضح رہے کہ افتتاحی تقریب میں پاکستان میں تعینات لیتھواینا کے سفیر (Mr. Ricardas Degitis) اور نئے مقرر کردہ اعزازی قونصل جنرل (Abdul Ghani Dadabhoy) کے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے. شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے جمہوریہ لتھوانیا کے نئے تعینات ہونے والے قونصل جنرل کو بھی دلی مبارکباد پیش کی اور توقع ظاہر کی کہ وہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کریں گے. گورنر مندوخیل نے کہا کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اچھی معاشیات ہی اچھی سیاست ہے۔ اقتصادی تعاون اور باہمی تعلقات کے ذریعے ہم ترقی، اختراع اور تعاون کیلئے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنے اہم جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے، لتھوانیا کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کا خواہاں ہے۔ یہ بات باعث فخر و مسرت ہے کہ لتھوانیائی قوم اپنی لچک، تعاون اور جمہوریت سے وابستگی کیلئے مشہور ہے۔ میں ہمیشہ اپنی زندگی میں غیر متوقع کی توقع کرتا ہوں۔ اس ضمن میں، نئے قونصل خانہ کا قیام دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی ایک پُل کا کام کریگا، ڈائیلاگ، تجارت اور تعاون میں سہولت فراہم کریگا۔ یہ امن، خوشحالی اور خاص طور پر اقتصادی ترقی کیلئے ہماری مشترکہ امنگوں کی علامت ہوگی۔ آخر میں میں اپنے لتھوانیائی دوستوں کا پرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں اور تعاون، روابط اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی ایک روشن مستقبل کی تعمیر کا منتظر ہوں۔ افتتاح سے قبل گورنر بلوچستان نے قونصلیٹ جنرل کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا.
خبر نامہ نمبر2923/2025
کوئٹہ26ُٓاپریل:۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی سے مشیر برائے امور نوجوانان مینا مجید بلوچ اور مشیر برائے محنت و افرادی قوت بابا غلام رسول نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی امور، صوبے کی ترقی، اور آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران صوبے کی ضروری نوعیت کے معاملات، بالخصوص ترقیاتی ترجیحات پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر آئندہ بجٹ میں صوبے میں امن و امان، صحت، تعلیم اور نوجوانوں کے امور کو خصوصی اہمیت دینے پر زور دیا گیا۔مشیر امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے الگ صوبائی وزیر خزانہ سے ملاقات کی، جس میں کھیلوں، نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور صوبے میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود کی نوعیت کی سکیمات شامل کی جائیں گی، تاکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔دونوں عوامی نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد اور فلاح کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے اور آئندہ بجٹ کو عوام دوست اور ترقیاتی ترجیحات کا مظہر بنایا جائے گا۔